23 اپریل "عالمی یومِ کتاب" کے موقع پر خصوصی مضمون کتابیں واخبارات : فکر و دانش کے پیامبران سے رشتہ مستحکم کرناہر فرد کی ذمہ داریمجیدعارف نظام آبادی، ریاض سعودی عرب

23 اپریل "عالمی یومِ کتاب" کے موقع پر خصوصی مضمون

کتابیں واخبارات : فکر و دانش کے پیامبر
ان سے رشتہ مستحکم کرناہر فرد کی ذمہ داری
مجیدعارف نظام آبادی، ریاض سعودی عرب
majeedaarif@gmail.com


کتابیں دراصل علم، تخیل اور شعور کے ایسے دروازے ہیں جو انسان کو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں۔ جب ہم کسی کتاب کو کھولتے ہیں تو گویا ہم ایک ایسے دروازے کو کھول رہے ہوتے ہیں جس کے پیچھے بے شمار کہانیاں، خیالات اور تجربات ہماری منتظر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 23 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ کتاب منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسان کو کتاب اور مطالعہ کی اہمیت سے روشناس کرانا، علم کی ترویج کرنا اور معاشرے میں فکری بیداری پیدا کرنا ہے۔ کتاب محض کاغذ کے چند اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیبوں، تجربات، خیالات اور علم کا خزانہ ہوتی ہے، جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور و آگہی کی روشنی عطا کرتی ہے۔ اخبارات کی اہمیت و افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اخبارات ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ ہمیں ملک و دنیا کی تازہ خبروں، حالات و واقعات، سیاسی، معاشی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں سے باخبر رکھتے ہیں۔ اخبارات کے ذریعے انسان اپنے اردگرد پیش آنے والے معاملات سے آگاہ رہتا ہے۔اخبارات نہ صرف خبریں فراہم کرتے ہیں بلکہ علم و معلومات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ ان میں مضامین، اداریے، کالم اور تعلیمی صفحات شامل ہوتے ہیں جو قارئین کی سوچ اور سمجھ بوجھ کو بہتر بناتے ہیں۔ طلبہ کے لیے اخبارات بہت مفید ہیں کیونکہ ان سے زبان بہتر ہوتی ہے اور جنرل نالج میں اضافہ ہوتا ہے۔
اخبارات عوام کی آواز بھی ہوتے ہیں۔ یہ معاشرے کی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور حکمرانوں تک عوام کے مسائل پہنچاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اخبارات کو جمہوریت کا اہم ستون کہا جاتا ہے۔مختصر یہ کہ اخبارات علم، شعور اور آگہی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ہمیں روزانہ اخبار پڑھنے کی عادت اپنانی چاہیے۔
 مطالعہ چاہے کتابوں کا ہو یا اخبارات کا، ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو علم، حکمت اور تجربات سے آراستہ کرتا ہے۔ یہ انسان کو نئی معلومات فراہم کرتا ہے اور اس کے ذہن کو وسعت دیتا ہے۔ مطالعہ سے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ نئے خیالات اور نظریات کو جنم دے سکتا ہے۔عالمی یوم کتاب  کایہ دن یونیسکو نے 1995 میں متعارف کرایا تھا تاکہ کتابوں کی اہمیت، مطالعہ کی عادت اور مصنفین کے حقوق کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن نہ صرف کتابوں کی خرید و فروخت بلکہ علم کی روشنی پھیلانے کا دن ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں سوشل میڈیا اور ویڈیوز نے توجہ حاصل کر لی ہے، عالمی یوم کتاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کتاب اب بھی انسان کی سب سے طاقتور اور پائیدار دوست ہے۔ 
قرآن مجید کی پہلی وحی کا آغاز بھی “اقرأ” (پڑھو) سے ہوا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں علم اور مطالعہ کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ مطالعہ انسان کو اپنے رب، اپنی ذات اور کائنات کے رازوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔عالمی یوم کتاب ،کتابوں کی اہمیت اور مطالعہ کی ترویج کے لئے ایک خاص دن ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کو کتابوں کی طرف راغب کرنا اور مطالعہ کی عادت کو فروغ دینا ہے۔
کتابیں انسان کو اپنے محدود ماحول سے نکال کر وسیع دنیا میں لے جاتی ہیں۔ ایک ناول ہمیں کسی اور زمانے اور مقام پر لے جاتا ہے، جہاں ہم مختلف کرداروں کے ساتھ جیتے اور محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح سائنسی اور تعلیمی کتابیں ہمیں نئی معلومات فراہم کرتی ہیں اور ہماری سوچ کو وسعت دیتی ہیں۔ گویا ہر کتاب ایک نیا دروازہ ہے جو علم اور آگاہی کی روشنی سے بھرپور ہوتا ہے۔دروازہ کھولنے کے لیے ہمت اور تجسس کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہی بات کتابوں پر بھی صادق آتی ہے۔ جو شخص کتابوں سے دوستی کرتا ہے، وہ نئے خیالات، نئے نظریات اور نئی دنیاؤں سے آشنا ہوتا ہے۔ کتابیں نہ صرف ہمارے ذہن کو روشن کرتی ہیں بلکہ ہماری شخصیت کو بھی نکھارتی ہیں اور ہمیں بہتر انسان بننے میں مدد دیتی ہیں۔مزید یہ کہ کتابیں انسان کے بہترین دوست ہوتی ہیں۔ یہ خاموشی سے ہمیں سکھاتی ہیں، رہنمائی کرتی ہیں اور مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیتی ہیں۔ جب ہم کسی کتاب کے دروازے کو کھولتے ہیں تو ہم تنہا نہیں رہتے بلکہ ایک نئی دنیا ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔کتاب مطالعہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ علم کا خزانہ ہے جو انسان کو مختلف موضوعات پر معلومات فراہم کرتا ہے۔ کتابیں انسان کو تاریخ، ادب، فلسفہ، سائنس اور دیگر موضوعات پر گہرائی سے آگاہ کرتی ہیں۔کتاب کی افادیت بہت زیادہ ہے۔ یہ انسان کو علم اور حکمت سے آراستہ کرتی ہے، اس کے ذہن کو وسعت دیتی ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے۔ 
عالمی یوم کتاب ہمیں مطالعہ اور کتاب کی اہمیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اس دن کو منانے کے لئے کتابوں کی طرف راغب ہونا چاہیے اور مطالعہ کی عادت کو فروغ دینا چاہیے۔ کتابیں ہمارے بہترین دوست ہیں جو ہمیں علم، حکمت اور تجربات سے آراستہ کرتی ہیں۔
مطالعہ انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک انسان جتنا زیادہ پڑھتا ہے، اتنا ہی اس کا ذہن وسیع، سوچ پختہ اور کردار مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ مطالعہ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ انسان کو صرف معلومات ہی نہیں دیتا بلکہ اسے بہتر فیصلے کرنے کا ہنر بھی سکھاتا ہے۔کیاآپ مرحوم دانشوران ملت سے بھی گفتگو کرنا چاہتے ہیں ؟یہ موقع ان کی لکھی ہوئی کتاب فراہم کرتی ہے۔مولانا رومی، علامہ اقبالؔ ، سرسیداحمد خان ، مولانا ابوالکلام سے آپ راست گفتگو کرکے ان کے خیالات و نظریات سے فیض یاب ہوسکتے ہیں۔ بس ان کی لکھی ہوئی کوئی کتاب کا ورق کھولیں ۔ان سے گفتگو کا آغاز کریں پھر دیکھیں علم و حکمت کے کتنے باب آپ کی نظروں سے گزرتے ہیں۔ ۔کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے۔ یہ نہ کبھی دھوکہ دیتی ہے اور نہ ہی انسان کو تنہا چھوڑتی ہے۔ کتاب کے ذریعے انسان مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں سے واقف ہوتا ہے۔ ماضی کے تجربات سے سیکھتا ہے۔ حال کو بہتر بنانے اور مستقبل سنوارنے کی راہیں تلاش کرتا ہے۔اپنی زبان، اندازِ بیان اور سوچ میں بہتری لاتا ہے۔کتابیں انسان کو اخلاقی تربیت بھی فراہم کرتی ہیں۔ اچھی کتابیں انسان میں صبر، برداشت، ہمدردی اور مثبت سوچ پیدا کرتی ہیں، جبکہ بری صحبت سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
افسوس کی بات ہے کہ جدید دور میں موبائل، سوشل میڈیا اور دیگر مصروفیات نے مطالعہ کی عادت کو کمزور کر دیا ہے۔ نوجوان نسل کتابوں سے دور ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث علمی سطح اور فکری پختگی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حالانکہ ٹیکنالوجی کو کتاب کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اس کے معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔کتاب کو اپنا دوست بنائیں ۔ موبائل کے سحر میں گرفتار نہ ہوں۔ جدید واسمارٹ ٹیکنالوجی کے موجد اہل مغرب نے کتاب سے اپنا رشتہ پہلے جیسا مضبوط کر رکھا ہے۔ کتاب اور اپنی مادری زبان سے رشتہ اپنی ماں کی طرح مقدس رکھنے والی قومیں ہی زندہ قومیں کہلاتی ہیں ۔ 
عالمی یومِ کتاب ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم ترقی یافتہ، باشعور اور مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔ کتاب ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی مطالعہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں، کیونکہ ایک پڑھا لکھا فرد ہی ایک مضبوط قوم کی   بنیاد رکھ سکتا ہے۔
کتاب صرف کاغذ کے ورقوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانی تجربیات، دانش، تاریخ اور تخیل کا محفوظ شدہ سرمایہ ہے۔ قدیم زمانے سے لے کر آج تک کتاب نے انسانی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ مصر کے پاپائرس، بابل کی مٹی کی تختیاں، چینی کی ریشم کی کتابیں اور عرب دنیا کی جلدوں والی کتابیں سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کتاب نے تہذیبوں کو زندہ رکھا۔ کتاب ہمیں ماضی سے جوڑتی ہے، حال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ مطالعہ محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ شخصیت کی تشکیل، ذہنی نشوونما اور جذباتی توازن کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کی اہمیت مندرجہ ذیل پہلوؤں سے واضح ہوتی ہے۔ علمی اور فکری ترقی مطالعہ علم کے دروازے کھولتا ہے۔ ایک کتاب ہمیں ہزاروں سال کے تجربات، غلطیوں اور کامیابیوں سے آگاہ کر دیتی ہے۔ طالب علم ہو یا پیشہ ور شخص، مطالعہ اسے نئی سوچ، نئی راہیں اور نئے حل مہیا کرتا ہے۔
جب ہم ناول پڑھتے ہیں تو ہمارا دماغ نئے کردار، نئی دنیائیں اور نئے منظر نامے تخلیق کرتا ہے۔ یہ تخیل طلبہ میں تخلیقی سوچ پیدا کرتا ہے جو سائنس، آرٹ، ادب اور کاروبار ہر شعبے میں کامیابی کی ضامن ہے۔ باقاعدہ مطالعہ الفاظ کے ذخیرے کو بڑھاتا ہے، جملہ سازی کو درست کرتا ہے اور تحریر و تقریر کو موثر بناتا ہے۔ اچھا قاری ہمیشہ اچھا بیان کرنے والا بھی ہوتا ہے۔سائنسی تحقیق (Neurological studies) ثابت کرتی ہے کہ روزانہ 30 منٹ مطالعہ تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کو کم کرتا ہے۔ یہ دماغ کو پرسکون کرتا ہے اور نیند بھی بہتر کرتا ہے۔
جب ہم مختلف ملکوں، مذاہب اور ثقافتوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں تو ہم دوسروں کے درد، جذبات اور نقطہ نظر کو سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رواداری، قبولیت اور عالمی بھائی چارے کی بنیاد رکھتا ہے۔کتاب صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے۔
تعلیم اور معاشی ترقی: جو معاشرے زیادہ کتابیں پڑھتے ہیں، وہ زیادہ ایجادات اور جدت طرازی کرتے ہیں۔ سنگاپور، جاپان اور جرمنی جیسے ممالک اس کی زندہ مثالیں ہیں جہاں مطالعہ کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔
کتابیں ہماری زبان، روایات اور اقدار کو نسلوں تک منتقل کرتی ہیں۔ اردو ادب کی کتابیں (غالب، اقبال، پریم چند، اشفاق احمد،سرسیداحمد خان) ہماری شناخت کو زندہ رکھتی ہیں۔ڈیجیٹل دور میں بھی  کتاب کو برتری حاصل ہے۔ اگرچہ ای بکس اور آڈیو بکس دستیاب ہیں، مگر کاغذی کتاب کا ذاتی رابطہ، خوشبو اور نوٹس لینے کا لطف کوئی ڈیجیٹل آلہ نہیں دے سکتا۔ مطالعہ کی گہرائی کاغذی کتاب میں زیادہ ہوتی ہے۔
کتاب انسان کا سب سے سستا، سب سے پائیدار اور سب سے وفادار دوست ہے۔ یہ نہ بولتی ہے مگر ہر سوال کا جواب دیتی ہے، نہ تھکتی ہے مگر ہمیشہ تازگی بخشتی ہے۔ عالمی یوم کتاب کی یہ سعادت ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب تک ہم کتابیں پڑھیں گے، ہم زندہ رہیں گے، سوچیں گے اور ترقی کریں گے۔ مسٹر عبدالحئی خان، اسسٹسنٹ پروفیسر سی ایم کالج، دربھنگہ اردو کتابو ں /رسالوں کی توسیع اشاعت کے لئے کامیاب مساعی کررہے ہیں۔اسی طرح  
Read and Lead Society 
اورنگ آباد مہاراشٹرا  کے سربراہ جناب عبدلقیوم بیگ ندوی،، بچوں کے رسائل کی توسیع  اشاعت کے لئے قابل قدر خدمات انجام دے رہے  ہیں۔ ناشرین و مصنفین ان سے بھی فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کی دختر مریم مرزا نے  " محلہ لائبریری"  قائم کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ ان کی یہ تحریک ہندوستان بھر میں توجہ حاصل کرکے قابل تقلید بن گئی ہے۔اردو رسائل و اخبارات کے ادارے و ناشرین مل کر  ایک مشترکہ پلیٹ فارم اختیار کرتے ہوئے ایک ویبسائٹ بنائیں ۔ تاکہ قارئین کو رقم بھیجنے میں آسانی ہو، دوسرا محبان اردو/ اور فروغ اردو کے لئے کوششیں کرنے ولی تنظیموں سے ربط پیدا کرتے ہوئے توسیع اشاعت اور کتابوں کی مناسب فروخت کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔
 آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کتابیں واقعی دروازوں کی مانند ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ دروازے لکڑی یا لوہے کے نہیں بلکہ الفاظ اور خیالات سے بنے ہوتے ہیں۔ جو شخص ان دروازوں کو کھولنا سیکھ لیتا ہے، اس کے لیے دنیا کی کوئی حد باقی نہیں رہتی۔
کتابیں انسان کو نئے خیالات اور نظریات کو جنم دینے میں مدد کرتی ہیں اور اسے ایک بہتر انسان بناتی ہیں۔مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے کے لئے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
کتابوں کی لائبریریاں قائم کرنا
کتابوں کی نمائش لگانا
مطالعہ گروپس تشکیل دینا
 کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا
گھروں میں چھوٹی لائبریری قائم کی جائے
بچوں کو کم عمری سے کتابوں کی طرف راغب کیا جائے
تعلیمی اداروں میں مطالعہ کو لازمی جزو بنایا جائے
سوشل میڈیا پر مفید کتابوں کا تعارف کروایا جائے
روزانہ کم از کم کچھ وقت مطالعہ کے لیے مخصوص کیا جائے
نوجوانوں کو کتابوں کی طرف راغب کرنا
ہر گھر میں کم از کم ایک لائبریری ہو۔
بچوں کو چھوٹی عمر سے کتاب پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔
اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں لائبریریوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
سوشل میڈیا کے بجائے کتابی کلب قائم کیے جائیں۔
مصنفین، مترجمین اور ناشرین کو حوصلہ افزائی کی جائے۔
آج ہی سے عہد کریں کہ   اپنی مادری زبان اردو سے ہم اپنی ماں کی طرح محبت کریں ،ہفتے میں کم از کم ایک کتاب مکمل کریں۔اردو رسائل و اخبارات خرید کر پڑھیں، ، اپنے بچوں کو اردو سکھائیں، دوستوں کے ساتھ کتابی مباحثہ کریں اور لائبریری کا رخ کریں۔

majeedaarif@gmail.com
***

(مضمون نگار کئی کتابوں کے مصنف اور ویب سائٹ
www.mynizamabad.com
www.qalampubl.com
کے سی وی او  اور ایڈیٹر ہیں)

تبصرے


  1. جناب مجید عارف صاحب کا مضمون "کتابیں اور اخبارات ، فکر و دانش کے پیامبر" کی وسعت ایسی ہے جیسے جام جم کی تمثیل میں کل کائنات کو اتاردیا گیا ہو۔ جہاں مطالعہ صرف ذوق یا اضافہ مشغلہ نہیں رہ جاتا بلکہ وہ ایک زندہ ضمیر اور بیدار مغز ہونے کی سب سے بڑی دلیل بن جاتا ہے ۔ مصنف نے کاغذ کی ایجاد سے لمحہ موجود تک ورقی تا برقی وسعتوں کا احاطہ کیا ۔ سطر سطر اپنی تڑپ کو روح کی غذا اور شعور کی معراج بتایا کیوں کہ کتابوں کی رفاقت میں ہی قاری رومی، اقبال و سرسید کا ہم جلیس ہوجاتا ہے۔ جہاں تہذیب و تمدن کی جاگیر اپنی متاعِ دانش سطروں میں بچھاکر سوغات کی طرح نوازتی ہیں۔ اخبارت کے مطالعہ سے کل عالم سے باخبری ، فعال معاشرے کے خیر و شر سے آگہی ملتی ہے۔ لیکن برقی دور نے اکثر لوگوں کو مطالعہ سے دور کردیا۔ جس کے سبب یہ زمانہ ایک طرح سے فکری طور پر خودکشی کررہا ہے۔ کیونکہ جب کتا ب کھلتی تھے تو زمانے روشن ہوجاتے تھے۔ مضامینِ نو بہ نو ہمارے شعور کا حصہ بن جاتے تھے۔ اس سے فاصلے پیدا کرنےکے سبب ہم تو تہذیب کے نور سے بھی دور ہوگئے۔ مطالعہ سے دور ی اقدار فراموشی کا جرم ہوتی ہے۔
    مصنف نے مہاراشٹر ا کے ادارے Read and Lead society۔ جسے عبدالقیوم بیگ اور ان کی دختر چلارہے ہیں اس کی مثال بھی دی جنھوں نے "محلہ لائبریری " کی شمع جلاکر مطالعہ کے لیے امکانات کو روشن کردیا۔ اپنے مضمون میں اصرار بھی کیا کہ ہر گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری ضرور ہونی چاہیئے کیونکہ جس گھر میں کتابیں نہیں، وہ اس جسم کی مانند ہے جس میں روح موجود نہ ہو، وہاں اندھیروں کا قیام ہوتا ہے۔جہاں دانائیاں قید میں ہوتی ہوں ۔ اس مضمون کو مادری زبان کی اہمیت کے پیش نظر اس سے ماں کی طرح محبت کرنے پر اصرار کیا۔ مجموعی طور پر یہ ایک بھر پور علمی مضمون کے ساتھ ساتھ ایک مخلص درد مندانہ نثری نگارش کے ذریعہ اس کو پراثر اپیل بھی بنا دیاہے۔

    نعیم جاوید

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں