کیارحیم خان کی وزارت سے گھر واپسی ہوگی؟!محمدیوسف رحیم بیدری
کیارحیم خان کی وزارت سے گھر واپسی ہوگی؟!
محمدیوسف رحیم بیدری
سدرامیاوزیراعلیٰ کرناٹک کے استعفیٰ کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی کی سدرامیا حکومت کابینہ تحلیل کردی گئی ہے۔ ایک دودِن میں نئی کابینہ بنے گی۔ آج خصوصیت کے ساتھ بیدر اور گلبرگہ کے مسلمان ووٹرس کے سامنے یہ سوال ہے کہ رحیم خان رکن اسمبلی بیدرکا کیاہوگا؟ آیا انہیں تیسری مرتبہ وزرات ملے گی یاپھر وہ لوٹ کے گھر کوآجائیں گے۔ اسی طرح یہ سوال بھی کیاجارہاہے کہ گلبرگہ کی رکن اسمبلی محترمہ کنیزفاطمہ کو آیا وزارت میں جگہ ملے گی کیوں کہ انھوں نے اپنے مرحوم شوہر اورشیر کرناٹک الحاج قمرالاسلام کے انتقال کے بعد ان ہی کی نشست سے مقابلہ کرکے جیت حاصل کی تھی۔ کسی زمانے میں پانچ پانچ وزارتیں الحاج قمرالاسلام کے پاس ہواکرتی تھیں۔ ان کی بیوہ کنیزفاطمہ کوایک وزارت بھی نہ دینے سے اہل گلبرگہ کو اچھا نہیں لگ رہاہے۔ ان کامطالبہ ہے کہ
ہمیشہ ہی وزارت میں رہنے والے گلبرگہ کو پھر ایک بار نمائندگی دی جائے۔
عین ممکن ہے کہ بی زیڈ ضمیراحمد خان کی جگہ ایچ اے اقبال حسین رکن اسمبلی رام نگرکومسلم ووٹرس کی وزارت(وزیر اقلیتی بہبود، وزیر اوقاف وحج وغیر) تفویض کی جائے گی۔ ایچ اے اقبال
حسین نے 2018ء میں رام نگر سے ایچ ڈی کمارسوامی (جے ڈی ایس) کے خلاف انتخاب لڑکر ہارکوگلے لگایاتھا۔ لیکن 2023ء میں وہ انیتاکمارسوامی (جے ڈی ایس) کے خلاف انتخابی جیت حاصل کی تھی۔ وہ ڈی کے شیوکمار کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں، اگر وہ ضمیراحمد خان کی جگہ وزیر بنائے جاتے ہیں تو مسلم ووٹرس کی ساری سیاست اقبال حسین(رام نگر)کے گرد ہوگی۔ اصولی بات یہ ہے کہ جو اراکین اسمبلی سدرامیاحکومت میں وزیر نہیں تھے وہ اب وزیر بنائے جائیں گے اورانھیں ہائی کمان کی منظوری بھی حاصل رہے گی۔ کیوں کہ ہائی کمان چاہے گی کہ محبت کی دوکان سے زیادہ سے زیادہ اراکین اسمبلی کو ان کی محنت کاصلہ ملتارہے۔یعنی زیادہ سے زیادہ اراکین اسمبلی بھی وزارت کاذائقہ چکھیں۔ سابق وزیر اگرناراض ہوکر آپریشن کمل کاحصہ بنتے ہیں تو ”آپریشن ہاتھ“بھی اپنا کام ضرور کرے گا۔ اِدھر کے ایم ایل اے اُدھر جاسکتے ہیں تو پھر اُدھر کے ایم ایل اے اِدھر بھی آسکتے ہیں۔ ایک تجزیہ کے مطابق زیادہ الٹ پھیر کی گنجائش نہیں ہے۔کیوں کہ ڈی کے شیوکمار اگر وزیراعلیٰ بنتے ہیں (جس کے صد فیصد سے زائد امکانات ہیں) تو انھوں نے گذشتہ سال آرایس ایس کے بارے میں اسمبلی میں بیان دیاتھا۔ اور دیگر مقامات سے بھی انھوں نے اپنے نرم گوشہ کا اظہار کرچکے ہیں۔ لہٰذا آرایس ایس اور بی جے پی چاہیں گے کہ سدرامیاکے مقابلے ڈی کے شیوکمار ان کے مشن کے لئے موضوع رہیں گے اور اگرآئندہ بھی کچھ ہوگاتو کانگریس کی کمان ڈی کے شیوکمار کے ہاتھ ہی میں ہوگی۔ اب سدرامیاگروپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈی کے شیوکمار کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت سے ہٹائیں۔ اگروہ وہاں سے ہٹتے ہیں تو توازن کے حوالے سے دیگرگروپ طاقت ورہوگا ورنہ آنے والے دِن ڈی کے شیوکمار کے ہوں گے۔
خیرہم نے بات شروع کہاں سے کی تھی اور کدھر چلے آئے۔موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ بیدر اسمبلی حلقہ کے رکن جناب رحیم خان اور بی زیڈ ضمیراحمد خان دونوں گھر واپس ہوں گے۔ کلیان کرناٹک علاقہ کے مسلم ووٹرس کے نمائندوں (ایم ایل ایز /ایم ایل سی) کو کوئی وزارت نہ ملنے کے صدفیصدامکانات ہیں۔ یہ کہہ کر کلیان کرناٹک کے مسلم ووٹرس کے نمائندوں کو خاموش کرادیاجائے گاکہ وزارت میں جب توسیع ہوگی تب کلیان کرناٹک کو نمائندگی دینے کے بارے میں سوچاجائے گا۔کانگریس ہائی کمان حجا ب والا بین ہٹاکر مسلمانوں کو خوش کرچکی ہے۔ ایسے میں وہ انتظار ضرور کرائے گی۔
SIRکاحوالہ بھی مسلم ووٹرس کو نرم کرنے کیلئے کافی ہوگا۔ کہاجارہاہے کہ بورڈ، کارپوریشن، اکاڈیمیز وغیرہ میں بھی نئے افراد لائے جائیں گے جو ڈی کے شیوکمارخیمہ سے ہوں گے۔
بیدر میں بھی یہی افواہیں زوروں پر ہیں کہ رحیم خان کی وزارت سے گھر واپسی ہوگی۔ اس معاملے میں ہماری رائے محفوظ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں