"اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے"
تعزیتی پیغام
اردو ادب آج ایک ایسے عظیم شاعر سے محروم ہو گیا ہے جس کی غزلوں نے محبت، انسانیت، درد اور زندگی کے لطیف احساسات کو نئی زبان عطا کی۔ محترم ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کی رحلت کی خبر نے دل کو بے حد رنجیدہ کر دیا۔
بشیر بدر محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک لہجہ اور ایک تہذیبی روایت کا نام تھے۔ ان کے اشعار نے نسلوں کے دلوں کو چھوا اور اردو شاعری کو عوامی مقبولیت کی ایک نئی جہت بخشی۔ ان کی جدائی اردو دنیا کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
اس موقع پر ان ہی کا یہ مشہور شعر شدت سے یاد آتا ہے:
"اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے"
میں، الطاف آمبوری، مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں، عقیدت مندوں اور پوری ادبی برادری سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
الطاف آمبوری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں