عصری تعلیم کے تقاضے اور اردو کی نئی سمتیں نیو کالج، چینئی میں خصوصی لکچر
عصری تعلیم کے تقاضے اور اردو کی نئی سمتیں نیو کالج، چینئی میں خصوصی لکچر
29 ستمبر 2025/ شعبۂ اردو، نیو کالج، چینئی میں ایک پررونق اور بامقصد لکچر منعقد ہوا۔ موضوع تھا: "عصری تعلیم کے تقاضے"۔ یہ عنوان ہی طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے تجسس اور کشش کا باعث تھا۔
پروگرام کا آغاز باوقار انداز میں ہوا۔ صدرِ شعبہ اردو ڈاکٹر طیب خرادی نے اپنے پرتاثیر کلمات میں مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھنا آج ہر استاد اور ہر طالب علم کے لیے ناگزیر ہے، اور ایسے مواقع طلبہ کی فکری دنیا کو وسعت دیتے ہیں۔
ریسورس پرسن کا خطاب بہت ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز رہا. ریسورس پرسن اور مہمانِ خصوصی انصار محمد الیاس وشارمی نے جب خطاب کا آغاز کیا تو پورا ہال ہمہ تن گوش ہوگیا۔ ان کا لب و لہجہ دل نشین اور فکرانگیز تھا۔ انہوں نے کہا کہ:
"تعلیم صرف نصاب کو رٹنے کا نام نہیں۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان میں سوچنے، سوال اٹھانے اور نئے راستے تلاش کرنے کی جرات پیدا کرے۔"
انہوں نے طلبہ کو سمجھایا کہ عصری تعلیم محض کتابوں کی یادداشت تک محدود نہیں رہ سکتی، بلکہ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ میں تنقیدی شعور، تخلیقی ذوق، مؤثر ابلاغ اور عملی صلاحیتیں پیدا ہوں۔ یہی اوصاف انہیں ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
بدلتا ہوا تدریسی ماڈل: انصاری محمد الیاس نے واضح کیا کہ آج کا زمانہ استاد مرکزیت کے بجائے طالب علم مرکزیت کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا نظام اس طرح تشکیل پانا چاہیے کہ طلبہ اپنی مہارتوں کو بروئے کار لائیں، سیکھنے کا عمل تجربے سے جڑا ہو اور ان کی شخصیت اعتماد سے مزین ہو۔
تعلیم اور ٹیکنالوجی: ایک ناگزیر رشتہ: انہوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے بغیر موجودہ دور کی تعلیم ادھوری ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن لرننگ کے مواقع نے تعلیم کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اب استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جدید وسائل کو استعمال میں لا کر تعلیم کو نہ صرف دلچسپ بلکہ زیادہ بامعنی بنائیں۔
"اردو ایپ کی تجویز: ایک روشن خیال خیال": اپنے خطاب کے دوران انہوں نے طلبہ کو ایک نہایت قیمتی مشورہ دیا: "آپ سب اردو ایپ بنانے کی کوشش کریں۔ آج زبانیں اسی وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اگر طلبہ اردو ایپ تیار کریں تو یہ نہ صرف آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہوگا بلکہ اردو زبان کو ڈیجیٹل دنیا میں نئی شناخت بھی ملے گی۔" یہ تجویز طلبہ کے دلوں کو چھو گئی اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اختتام اور طلباء کا تاثر بہت اچھا رہا. پروگرام کے آخر میں پروفیسر سید شبیر حسین نے نہایت خلوص کے ساتھ اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ یہ لکچر طلبہ کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ اس موقع پر طلبہ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہ پروگرام ان کے ذہنوں میں نئے امکانات کے در کھول گیا ہے۔
یوں یہ خصوصی لکچر ایک یادگار اور کامیاب تعلیمی نشست ثابت ہوا، جس نے طلبہ کو نہ صرف عصرِ حاضر کی تعلیمی ضرورتوں سے روشناس کرایا بلکہ انہیں اپنی زبان و ادب کے تحفظ اور فروغ کی نئی راہیں بھی دکھائیں۔ یہ پروگرام علمی لحاظ سے نہایت کامیاب رہا اور طلبہ نے اسے اپنی فکری و عملی زندگی کے لیے رہنما قرار دیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں