تقریباً 60لاکھ روپئے انعام والا بکر پرائز 2025 ڈیوڈسلے کے ناول ”فلیش“ نے جیت لیا
تقریباً 60لاکھ روپئے انعام والا
بکر پرائز 2025 ڈیوڈسلے کے ناول ”فلیش“ نے جیت لیا
بیدر۔ 11/نومبر (پریس نوٹ) ڈیوڈ سلے کینیڈا میں پیدا ہوا اور وہ لبنان، بیلجیم، ہنگری اور برطانیہ میں مقیم رہا، اس کے ناول ”فلیش“ نے آج 11/نومبر کو بکر پرائز 2025ء جیت لیاہے۔ یہ سال 2025ء کا بہترین ناول قرار دیاگیاہے۔ اسی کے ساتھ پرائز کے فاتح کو 50ہزار پاؤنڈ تقریباً60لاکھ روپئے کاچیک ملتاہے۔ یہ ادب کی دنیا میں ایک انتہائی باوقار اعزاز سمجھاجاتاہے۔ بکرپرائز دوقسم کے ہوتے ہیں۔ ایک بکر پرائز وہ جو ڈیوڈسلے کو ملا ہے۔ دوسرا انٹرنیشنل بکر پرائزہے جو کرناٹک کی بانومشتاق کو ملا ہے۔ یہ بات بانومشتاق کی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والے محمدیوسف رحیم بیدری نے کہی اور ڈیوڈسلے کومبارک باد دیتے ہوئے اس بات کابھی اظہا رکیاہے کہ ناول کامواد کس قدر فحش یا مشرقی اقدار سے کتنی دوری پر ہے، یہاں میں بات نہیں کروں گا۔ ہم ادیب و شاعر، ناول نگار اور نقاد جس دنیا میں رہ رہے ہیں، اس دنیا میں ہونے والی ادبی سرگرمی بہرحال ہمیں اور ہمارے ادب کو متاثر کرے گی۔ چاہے وہ ادب ہم اردویادکنی زبان میں ہی کیوں نہ لکھ رہے ہوں۔
جناب رحیم بیدری نے بتایاکہ اردو والوں میں ناول بہت کم لکھے جارہے ہیں بلکہ نہیں کے برابر ہیں جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ڈاکٹر سلیم خان جیسے افراد اگر ناول لکھ بھی رہے ہیں تو ان کی طرف توجہ دینے والے تعصب او راپنے اپنے دائروں میں محبوس ہیں۔ انھوں نے کہاکہ جب ساری عالمی ادبی دنیا ناول ناول پکار رہی ہے، لاکھوں روپئے کا انعام ناولوں کو دے رہی ہے، ایسے میں اردو والوں کابھی فریضہ بنتاہے کہ وہ بھی ناول لکھیں۔ ملکی اور بین الاقوامی معیارتک پہنچنے کی کوشش کریں۔ اورہوسکے تو اردو والے خود اردو ناولوں کیلئے علیحدہ سے ایوارڈ دینا شرو ع کریں لیکن بکر پرائز، اور بکر انٹرنیشنل پرائز بھی جیتیں۔ میری دعا اردو ناول نگاروں کے ساتھ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں