ادیب، شعرا، ٹیچر س اورلیکچررس کے علاوہ دیگر افراد سے بڑے پیمانے پر اے اردو تیرے ساتھ ہیں ہم عنوان کے تحت”یوم ِ اردو“منانے کی اپیل:محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر۔ 4/نومبر (پریس نوٹ) یارانِ ادب بیدر کے سکریڑی اورمعروف اردو ودکنی شاعراورادیب جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے ہندوستان بھر کے اردو زبان اور دکنی زبان کے چاہنے والوں سے اپیل کی ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم ِ پیدائش پر مل جل کر 9/نومبر کو”یوم ِ اردو“ منائیں۔کیوں کہ شاعر مشر ق علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر ساری دنیا میں ”عالمی یومِ اردو“ منایاجاتاہے۔ ادیب، شعرا، ٹیچر س اورلیکچررس ہی نہیں عملی زندگی سے وابستہ مختلف افراد وادارے بھی ”یومِ اردو“ منانے کی طرف فوری توجہ دیں۔اور اس کی تیاری ابھی سے کرلیجئے گا۔جناب بیدری نے کہاکہ اگر آپ شاپنگ مال رکھتے ہیں، تواس شاپنگ مال میں ”یومِ اردو“ کے اسٹیکرس اور پوسٹرس ابھی سے لگائیں۔ اگر آپ کی کوئی دوکان ہے تو آپ اس دوکان میں اپنے دوستوں کے ساتھ 9/نومبر کو یوم اردو مناتے ہوئے اردو کی افادیت اور اس کے تحفظ سے متعلق گفتگو کریں۔ خواتین اگر کسی پرائیویٹ کلینک میں نرس ہیں تو وہاں پر”یومِ اردو“ کااہتمام کریں۔ اور اردوزبان کی اہمیت سے متعلق اپنے تجربات بیان کریں۔ اگر ہم اپنی ریاست کرناٹک چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں تو اردو زبان ہی ”ہندی“ کے حوالے سے ہمارے کام آتی ہے۔ بزرگ حضرات یا مؤظف افراد وسینئر سٹیزن اپنے اپنے حلقہ احباب میں اردو کی اہمیت وافادیت پر بات کیجئے گا۔ سینئر سٹیزن کاتجربہ بہت ہوتاہے، وہ اپنے حلقہ ء احباب میں نوجوانوں کو جمع کرکے بھی انھیں بتاسکتے ہیں کہ حکومتیں اردو اکادیمیز کے ذریعہ، مرکزی حکومت NCPULاور ساہتیہ اکادمی کے ذریعہ اردو کی ترقی وترویج کے لئے کام میں لگی ہوئی ہے۔ UPSCکے امتحانات اردو زبان میں دینے کی عام اجازت ہے۔ جناب بیدری نے طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کی محلہ واری تنظیمیں بھی دیگر طلبہ ونوجوانوں کی تنظیموں کے ساتھ مل کر اردو کی افادیت اور اس کی گنگاجمنی تہذیب پر ”ڈائیلاگ ”کااہتمام کریں۔خود دیگر طلبہ اور
نوجوانوں کوبتایاجائے کہ اردو ہندوستانی زبان ہے۔ اس زبان نے ماضی میں شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ انگریزوں سے ملک کی آزادی کی لڑائی میں اردو کاسب سے اہم رول رہاہے۔ آج بھی ریختہ کے سنجیوصراف، ساہتیہ اتسو کے رنجیت سنگھ چوہان کروڑوں روپئے لگاکرملک عزیز بھارت میں اردو کی آبیاری کرتے ہوئے اسے محفوظ بنانے میں سال سال بھرلگے ہوئے ہوتے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں اردو کے تحریری اور تقریری مقابلوں کے علاوہ بیت بازی کا استعمال کرتے ہوئے اس دن کومنائیں۔نوجوان اردو سکھانے اور سیکھنے کے لئے آگے آئیں۔ اس کے لئے دوماہی یاسہ ماہی کلاسیس شروع کی جاسکتی ہیں۔ اور یہ کلاسیس مساجد میں بھی بعدنماز عشاء شروع کی جاسکتی ہیں۔ خواتین کے سیلف ہلپ گروپ بھی ”یوم ِ اردو“ کے لئے آگے آئیں۔خواتین کے درمیان ڈھولک کے گیتوں کامقابلہ بھی رکھاجاسکتاہے۔جس میں ڈھولک کے شائستہ دکنی گیت خوب خوب استعمال کئے جائیں۔اردو اسٹیکرس، اردوتراشے، اردو ترانے، اردو غزلیں، اردو نظمیں، اردو حمد ونعت اور قومی یکجہتی پر مبنی کلام کو”یومِ اردو“ منانے کے دوران استعمال کیجئے گا۔ یارانِ ادب کے سکریڑی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے پریس نوٹ کے آخر میں کہاہے کہ اردوسے متعلق اپنے حوصلہ اورمنظم منصوبہ کے ساتھ اردو زبان کے چاہنے والے محبانِ اردو آگے بڑھیں۔ اورنئی نسل کو آگے بڑھائیں۔ امسال کاعنوان ”اے اردو،تیرے ساتھ ہیں ہم“ ہوگا۔ اس عنوان کولے کرسوشیل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لئے انتہائی خوب صورت اسٹیکرس،اور پوسٹرس بنائیں۔
ادیبوں کے اقتباسات بھی لئے جاسکتے ہیں جس میں زبان کی تخصیص نہ ہو۔ کنڑی، تیلگو، ہندی، سنسکرت، گجراتی، کشمیری زبانوں کے ادیبوں کی اہم باتیں درج کی جاسکتی ہیں۔ یہی اشتراک اردو کو دیگر زبانوں سے ممتاز کرتاہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں