غزل میرؔبیدری، بیدر۔کرناٹک
غزل
میرؔبیدری، بیدر۔کرناٹک
کھویا اک مان ملتا نہیں
دیکھو سمّان ملتا نہیں
پھرنظر آئیں گے چاروں اور
ڈھونڈیں شیطان ملتانہیں
اپنی فریاد پہنچانی ہے
مجھ کو سلطان ملتا نہیں
راکشس مل ہی جائے گاپر
ہم کو انسان ملتا نہیں
رقص خوشبوکرے اُن کودیکھ
ہم میں ریحان ملتانہیں
رام سے کرنے لائق پریم
اک ہنومان ملتا نہیں
کھوگیا حسن میں اُس کے میرؔ
اپناایمان ملتا نہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں