ہمسایہ- افسانہ


آصف بالسنگ

نوباغ،  بیجاپور، کرناٹک

ہمسایہ- افسانہ

ملک گیر میں  غم، خوف ،اضطراب اور سَراسِیمْگی کا ماحول برپا ہوا تھا ۔ جو شائد اس قبل دیکھاگیا ہو۔سیاستدانوں نے عوام میں ہندو مسلم کے تحت ایسا زہر   گھول د یا تھا کہ  عام  ہو  کہ خاص، تعلیم یافتہ ہو کہ انپڑھ سب اس زہر کو امرت سمجھ کر پی  رہے تھے۔  نفرت دل و دماغ  میں ایسے  سیرایت کر دی گئی  کہ سوچنے سمجھنے  کی قوت  مفقود ہو گئی تھی۔  دینا ناتھ  اور رئیس  خاں  ایسی ہی تحریک کے  پیروکار تھےجن میں دینا ناتھ  ہندو تحریک   اور رئیس  خاں مسلم  تحریک کا     ۔  وہ اپنے اپنے   مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ، دینا ناتھ اپنے آپ کو  کٹر ہندو کہنے   پر فخر کرتا  اور  رئیس   خاں    کٹر   مسلمان کہنے   پر فخر  جتاتا   رہتا۔ جس محلے میں  یہ دونوں  رہتے تھے  ان کے ہمسائے میں مولوی جلیل بھی رہا کرتے تھے۔مولوی صاحب اور دینا ناتھ کے والد دیا شنکر میں   گہری اُنسیت تھی، دونوں  کے درمیان  کبھی کسی بات پر  تکرار  اور عناد  کا معاملہ پیش نہیں آیا ، انہوں نے   ہمیشہ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کیا  لیکن ایک حادثہ  میں اچانک دیا شنکر کی موت واقع ہوئی او ر  یکسر ان کے گھر   کا ماحول بدل گیا۔ دیا شنکر  جنھوں نے  محبت ، روداری اور بھائی چارہ کو عزیز جانا اس کے بر عکس ان کے مرتے ہی  دینا ناتھ  نے نفرتی    سیاستدانوں  کے  ہاتھ تھام  لئے۔ اور رئیس خاں جہالت کے اندھیرے میں سیاستدانوں کا شکا ررہا۔  مولوی صاحب جب بھی نماز کے اوقات میں مسجد کی طرف روانہ ہوتے تو دینا ناتھ  اپنے گھر کے سامنے کھڑا جے شری رام کا نعرہ لگاتا رہتا ، اور رئیس   خاں       شریف ہندو مکانات سے گذرتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے میں دینا ناتھ سے کچھ کم  نہیں تھا۔   دونوں محض ایک  چائے کی پیالی اور اپنے    آقاؤں کو خوش کرنے اور سب سے  بہترین چیلے ہونے کا ثبوت دینے   کے لیے ایسی حرکات میں ملوث رہتے، جہاں دینا ناتھ   محلے کے مسلمانوں کو یہ  دکھانا   چاہتا تھا کہ ہندوستان  صرف ہندؤں کا  ملک ہے،  یہاں  صرف ہندو ں کو رہنے کا حق ہے۔اور رئیس خاں  آزادی  میں مسلمانوں کی داستانِ  فخر سنا کر یہاں کی حقیقی باشندہ  ہونے کا حق جتاتا۔      بچپن میں دونوں   جو کبھی مولوی صاحب کی گود میں بالا تفریق  محبت کے ساتھ  کھیلا کرتے تھے۔ آج ان     دونوں کے  دلوں  پر      تنفر    کی گہری  سیاہی ا ور تعصب میں ملوث  چشمہ     نے انہیں   محبت، رواداری، صحیح و غلط کے فرق سے بعید کر رکھا تھا۔ وہ سیاستدانوں  کے  رچائے گئے   جال میں اس طرح پھنسے ہوئے تھے کہ  اُن کی بات اِن کے لیے حرفِ آخر  ہوتی۔  جس محلے میں دینا ناتھ رہتا تھا دراصل اس محلے میں کثیر تعداد مسلمانوں کی تھی مگر اس نے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا رکھی تھی کہ حکومت کے ٹھیکے دار  اور  نیتا  اس کے  سرپرست ہیں   جس کی وجہ سے اس پر  کوئی آنچ نہیں آ سکتی ، اور رئیس خاں اسی تاک میں رہتا کہ کب موقع ملے  اور دینا ناتھ کو خود سے کمتر ثابت کرے،  دونوں جب بھی   اپنی اپنی    سیاسی میٹنگ میں شرکت کرتے تو وہاں  ان  کا  جوش و جذبہ  اور مذہبی  نشہ سر چڑھ کر بولتا،   جس کا فائدہ نیتا لوگ بخوبی اٹھاتے رہتے اور اپنے نمائندوں  سے کہتے رہتے " تم اس شخص کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھو، ایسے لوگوں کی ہمیں سخت ضرورت ہے، ان لوگوں سے ہی ہماری سیاسی کرسیاں مضبوط ہوتی جا رہی ہیں ۔ اگر ایسے لوگ ختم ہو گئے تو سمجھو ہمارا بھی خاتمہ ہو جائے گا، ہم جس کشتی پر سوار ہیں اس کشتی کو سنبھالے ہوئے یہی لوگ ہیں، ان کے ذہنوں میں ہندو مسلم کا اتنا زہر بھرتے  رہو کہ دیش کی ترقی ،روزگار ، بھائی چارہ  اور رواداری جیسے خیالات   ان کے قریب بھی نہ آنے پائیں۔ ان کو یوں ہی چائے پلاتے رہو اور کچھ ضرورت کے سامان دیتے رہو تاکہ یہ ہمارے آواز بن کر عوام کے سامنے آتے رہے اور ہماری کرسی برقرار رہے۔

 ایک روز اچانک شہر میں فساد  برپا ہوا ۔  سیاست دانوں   کو  جو  چنگاری لگا نی تھی  لگا  کر اپنے محلوں میں جا بیٹھ گئے مگر بیچاری عوام جس میں ہندو ،مسلم، سکھ،  عیسائی  سب شامل تھے ۔ کچھ شر پسند افراد  نے  ایسا  ماحول بنا یا کہ ہندو جے شری نام کے نعرے لگائے جاتے اور مسلمان اللہ اکبر ۔ دیکھتے دیکھتے    یہ آواز آگ میں بدل  گئی اور  چاروں طرف دکان مکان سب آگ کے زد  میں  آ  گئے ۔ بھگدڑ ایسی مچی کہ  کوئی  کہیں اپنی جان بچاتا ہوا نظر آیا  اور کہیں کوئی  کسی کو  پیروں تلے روندتا ہوا چلا گیا اور کئی تو اس آگ کا شکار ہو گئے۔  یہ فساد اتنا بڑھ گیا کہ  شہر سے پھیلتے پھیلتے اس محلے تک پہنچا جہاں پر دینا ناتھ، رئیس خاں   اور مولوی صاحب رہا کرتے تھے۔ دینا ناتھ    اور  رئیس خاں کے  حالیہ سرگرمیوں سے تمام   محلے  والے  واقف تھے، انہیں اس بات کا گمان تھا  کہیں نہ کہیں اس فساد میں  دونوں  کا ہاتھ  بھی شامل ہے۔  غصہ کی آگ میں   کچھ  مسلمان اپنے ہاتھوں میں ہتھیار لیے   محلے میں پہنچے جس میں رئیس خاں بھی شامل تھا   انہیں دیکھ محلے میں جو چنندہ ہندوؤں کے گھر تھے ، وہ ڈر کے مارے اپنے گھروں میں چھپ گئے۔رئیس خا ن کے دل میں  یہ بات چل رہی تھی کی آج دینا ناتھ کو سبق سکھا کر رہوں گا۔  دینا ناتھ جو پارٹی میٹنگ سے وآپس آرہا تھا  ، اپنے گھر پہنچنے سے قبل وہ   رئیس خاں اور اس کے ساتھیوں  کے ہاتھ لگ گیا ، پھر کیا تھا  ان کو دیکھ اس پر بھی ایک طرح کا خوف طاری ہوا اور وہ سوچنے لگا کہ ایسی حالت میں،  میں ا کیلا کیا کر سکتا ہوں! یہاں تو  نہ  کوئی  سیوک ہے اور نہ ہی کار سیوک اور نہ ہی  کوئی ہم خیال  ہندو برادر۔ فورا ً   وہ  وہاں  سے بھاگنے لگا اور بھاگتے بھاگتے مولوی صاحب کے گھر کے روبرو کھڑا ہو گیا۔مولوی صاحب نے دیکھا تو سمجھ گئے کہ معاملہ بگڑ گیا ہے۔ انہوں نے   اُس کو اپنے گھر کے اندر آنے کے لیے آواز دی۔  کچھ دیر کے لیے دیناناتھ  شش و پنج میں رہا کہ کیا کروں،   یہ مولوی صاحب کیا کہہ رہے ہیں، اس کے ذہن میں  کئی سوالات پیدا ہونے لگے،  اگر میں  گھر  کے اندر چلا گیا تو پتہ نہیں کیا ہوجائے،  کہیں نا حق  مارا  نہ جاؤں ۔  اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا تو کیا  کیا جائے ،   پھر دوبارہ مولوی صاحب  کی آواز اس کے کانوں میں پڑی،  گھبراؤ نہیں! تم اندر آجاؤ ، تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔  مولوی صاحب کے جملے نے دینا ناتھ  کی ہمت باندھی اور وہ گھر میں چلا گیا، سابقہ حرکتوں کی وجہ   اسے اندرونی طور پر  خوف کھائے جا  رہا تھا۔  نماز کے اوقات میں  مولوی صاحب کو پریشاں کرنے کے لیے  لگایا جانے والا  نعرہ آج   اسی کے  کان میں گونج رہا   تھا ، وہ   اپنے دل میں ایک خوف لیے گھر کے اندر داخل ہو  گیا ،  اسے لگ رہا تھا کہیں مولوی صاحب مجھے میری نفرت کی  نتیجہ میں  ان  لوگوں  کے حوالے نہ کر دیں۔  مولوی صاحب نے جب اس کی چہرے کی کیفیت دیکھی تو  اس کی گھبراہٹ کو بھانپ  گئے اور بولے "دیکھو میاں! تم  گھبراؤ  مت، میں تمھارے  ساتھ ہوں،  تمھیں  کچھ بھی  نقصان نہیں ہوگا۔ تم  میرے پڑوسی ہو اور پڑوسی کے اپنے حقوق ہوتے ہیں۔ ہمیں ہمارا مذہب     سکھاتا ہے کہ ہمسایہ کے حقوق کی پامالی نہ کرو، ان کو تکلیف نہ دو ،ان کے لیے کسی  قسم کی رکاوٹ نہ پیدا کرو ، ان کے ساتھ مہربانی سے پیش  آؤ ، صلہ رحمی کا معاملہ رکھو،امن و   امان قائم رکھو ۔  اچھا مسلمان وہی ہے جو اپنے ہمسایہ  کو محفوظ رکھے ، تم میرے پڑوسی ہو،  میرے ہمسائے ہو اور میں تم پر  کسی قسم کی آنچ نہ آنے دوں گا۔  انہیں باتوں کے درمیان دروازے پر کھٹکھٹاہٹ شروع ہو گئی ۔ مولوی صاحب نے جب دروازہ کھولا تو    رئیس خاں اور  اس ساتھی کھڑے تھے  جن کے چہروں پر غصہ اور نفرت صاف دکھائی دے رہے تھی۔ رئیس خاں نے مولوی صاحب سے کہا  " مولوی صاحب! اس کمبخت دیناناتھ  کو باہر نکالیں "۔  مولوی صاحب نے کہا " یہاں تو کوئی نہیں ہے۔"   مولوی صاحب آپ  کو جھوٹ زیب نہیں دیتا،  ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ دینا ناتھ  آپ کے گھر میں داخل ہو رہا تھا اور آپ ہم سے کہہ رہے ہیں کہ یہاں پر کوئی نہیں، آپ بھی ان کافروں کی باتوں میں آگئے۔" مولوی صاحب نے پھر سے جواب دیا " دیکھو بھائی! ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور ایک مسلمان کا ہمسایہ چاہے وہ ہندو ہو، مسلمان ہو،  سکھ ہو  کہ عیسائی،   چاہے وہ  کسی مذہب سے اس کا تعلق کیوں نہ ہو،  اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ایک مسلمان  کا   فریضہ ہے ۔  تم جو کام کر رہے ہو وہ  بالکل درست نہیں، ہمیں پیار، محبت، اخوت اور  رواداری سے کام لینا چاہیے ۔ یہ  ہمارا ملک ہے ہم اسی  کے  باشندے ہیں ، کثرت میں وحدت ہماری پہچان ہے، ہمیں تمام مذاہب میں بھائی چارہ کو عام کر تے ہوئے  ایک دوسرے کی حفاظت کرنا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کے دشمن بن کر ان کی جان لینے پر  آمادہ  ہوں۔ یہ سننا تھا کہ ان نوجوانوں میں پھر غصہ زور پکڑ گیا، رئیس خاں  نے کہا " مولوی صاحب یہ سب ہم کچھ نہیں جانتے، آپ نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح مسلمانوں پر جبر کیا جا رہا ہے، ظلم ڈھایا جا رہا ہے،بے قصور لوگوں کو سالوں سال قید و بند  صعوبتیں جھیلنی پڑھ رہی ہیں۔کوئی ہمارے حق کے لیے آواز نہیں اٹھاتا اور ہمارے قائد بھی غفلت کی نیند میں سوئے پڑے ہیں۔ تعصبی رہنما اور دینا ناتھ جیسے دلالی   ، میڈیا کے سہارے  ہمیں بدنام کرنے  کے سازشوں  میں مبتلا ہیں  ۔   یہ کہاں کا انصاف ہے کہ صرف مسلمان ہی بھائی چارہ  کو لے کر چلے،  مسلمان بھی یہیں کے باشندے ہیں اگر رواداری کو قائم رکھنا ہے تو ہر ایک کو اس  کا پاس و لحاظ رکھنا  ہوگا ، ہمارے دل ان حالات سے مجروح ہو چکے ہیں ، آپ اس دینا ناتھ کو ہمارے حوالے  کردیں، آج اِس پار یا اُس پار ۔ دینا ناتھ اندر بیٹھے یہ باتیں سن رہا تھا ۔ اس پر مزید خوف طاری ہو رہا تھا،  وہ سوچ رہا تھا کہ اب میں کیا کروں؟ اس نے   اپنا فون نکالا اور    پارٹی کے سیوک  کو کال   کیا ،  کچھ دیر گھنٹی بستی رہی  کوئی فون ریسیو نہیں کر سکا،  اس نے دو ،تین، چار مرتبہ اسی طرح اس کو فون کرتا رہا آخر میں ایک سیوک نے فون اٹھایا اور کہا کون ہو تم ؟ اس نے کہا ، حضور ! میں آپ کا کار سیوک دینا   ناتھ ہوں، اس نے بے رخی سے  پوچھا، کہو کیا بات ہے،  دینا   ناتھ نے کہا، حضور شہر کا فساد ہمارے محلے  تک پہنچ گیا ہے، حضور میں یہاں پر اپنے محلے میں کچھ مسلمانوں کے درمیان پھنسا ہوا ہوں مجھے شک ہے کہ  کہیں وہ مجھے مار نہ دیں ، میری مدد کے لیے صاحب کو بول کر  کچھ  کار سیوک بھیج دیتے تو اچھا ہوتا۔ اس نے سخت لہجے میں کہا" دیکھو تم جو بھی ہو تمہیں نہیں معلوم کہ یہ  صاحب  کے  آرام کا وقت ہے اور تمہیں اسی  وقت ہی فون کرنا ہے، سارے شہر میں فساد پھیلا ہوا ہے لوگ اپنی اپنی فکر  میں لگے  ہیں اور تم بھی اپنی فکر کرو۔ دینا ناتھ نے دوبارہ  پھسپھسی آواز میں کہا ۔"  حضؤر وہ مجھے مار دیں گیں، جواب آیا  دیکھو بھائی! شہر میں  فساد مچا ہوا ہے ۔ اب تم ہی ان سے  نپٹ  لو، اگر کچھ بن پڑا تو ہم آئیں گے اور  اب حالات ایسے ہیں کہ نہ صاحب  کچھ کر سکتے ہیں  اور نہ  ہم ، جتنے بھی  سیوک ہم نے لگا رکھے تھے وہ تو اپنا کام کر رہے ہیں اور تم  بھی ہمت سے کام لو اور  اپنے دھرم کے لیے لڑتے  رہو ،جے شری رام کا نعرہ لگاتے رہو تو تم  میں ہمت آئے گی۔ جے شری رام کہہ کر اس نے اپنا فون  کاٹ دیا۔ اس جواب پر دینا  ناتھ کی پریشانی  مزید  بڑھ گئ،  اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں،  کس طرح اس مشکل سے باہر نکلے،  کس طرح اپنی جان بچائے،  یہاں تو محلے میں بس دو چار گھر ہی ایسے ہیں جو ہماری ذات کے ہیں اگر میں ان کو آواز  دوں تو وہ بھی شاید یہاں  میری مدد کے لیے  نہ   آ سکیں،  ان سب کا معاملہ   ہمیشہ محلے والوں کے ساتھ بھائی چارے کا رہا ہے اور میں ہی کمبخت ان نیتاؤں کے چکر میں پھنس  گیا ، نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ  کا، اپنی کَٹَّر پَنْتھی  کی وجہ   سے  سب  کا دشمن بنا بیٹھا ہوں، کچھ بھی ہو آج میں نہیں بچ سکتا ،کسی نے سچ ہی کہا ہے یہ نیتا کسی کے نہیں ہوتے۔دینا ناتھ اپنے آپ میں بڑبڑاتا جا رہا تھا۔دوسری طرف   رئیس خاں اور کے ساتھیوں نے مولوی صاحب سے کہا " مولوی صاحب آپ جلد سے  اسے باہر نکالیں ورنہ ہم اندر گھس  آئیں گے، پھر ہمیں کچھ مت کہیے گا ، ہم یہاں پر اپنے حق  اور آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں ان لوگوں  نے  ہمارے گھر جلائے، ہمارے بچیوں کی عصمتیں لوٹیں،  انہوں نے نفرت کی ایسی فضا تیار کر رکھی ہے جس میں محبت کے پھول کھِل نہیں سکتے۔" مولوی صاحب نے پھر ان سے کہا "  میرے  بھائیو!اگر  آج   ایسا  ماحول بنا ہوا ہے تو  اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر تم غور کرو تو اس کی ذمہ دار تم خود بھی ہو، تم مسلم قائدوں کی پیروی کر رہے اور وہ ہ ہندو نیتا  ؤں کی،   جہاں  تم نوجوانوں کی  فکر   اپنے ملک  کی ترقی   ، اُخوت ،  رواداری اور  بھائی چارہ کو قائم کرنے   پر مرکوز ہونی  چایئے   اس  کی جگہ  تم  ایک دوسرے کی جان کے  دشمن بن بیٹھے ہو،  تم کیسے مسلمان ہو، مسلمان نفرت  نہیں بلکہ  محبت  اور امن و امان  کا  ترجمان  ہوتا ہے۔   تم میری بات سمجھو اور اس دینا ناتھ کو  اپنی نفرت   کا شکار نہ بناؤ ، وہ معصوم ہے، میں نے اسے بچپن سے جواں ہوتے ہوئے دیکھا ہے،  وہ   میرا پڑوسی ہے،  اس کے والد اور میں بہت اچھے دوست تھے، آج وہ نہیں ہیں، کاش! وہ ہوتے تو شاید دینا ناتھ جس راہ پہ چلا ہوا ہے اس  سے کوسوں  دور ہوتا۔  اس کی کوئی  صحیح  رہنمائی کرنے والا نہیں ہے، وہ تو  اندھی سیاست کا شکار ہے۔ سیاست دانوں نے اپنی کرسی کی  خاطر ایسے معصوم افراد کو   مذہب کے  نام پر ان کے ذہنوں میں زہر بھر دیا ہے اور ایسی نفرت  رچ بس  دی  ہے کہ محبت کا روشن   چراغ  ان کو دکھائی نہیں دیتا۔  یہ صرف سیاستدانوں کا کھیل ہے۔ میرے بھائیو !آپ اس کو سمجھو،  یہ دیش ہمارا ہے اور  ہم نے ہمیشہ محبت اور  بھائی چارہ کی یاوَری  کی ۔تم  بھی آج   نفرت کو  مٹا کر دینا ناتھ  کو گلے  سے  لگاؤ اور اس کے ذہن میں جو زہر بھرا گیا ہے اس کو بھی دور کر و ، وہ ہمارا ہم وطن ، ہمار  پڑوسی   اور ہمسایہ ہے۔ وہ  بھی انسان ہے اور انسان غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے جس کی وجہ  سے  کبھی وہ غلط ڈگر پر چل جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ  وہ ہمارا بھائی نہیں ہے۔ گھر کے اندر بیٹھا  دینا ناتھ  مولوی صاحب کے باتیں سن کر حیران ہو رہا تھا کہ مولوی صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔  میں  ہمیشہ مولوی صاحب کو کسی نہ کسی بہانے  پریشان  کرتا رہا   اور یہی سوچتا رہا کہ  ایک ہندو ہی  دوسرے ہندو کا  بھائی ہو سکتا ہے،  مگر مولوی صاحب جن باتوں کو کہہ رہے ہیں وہ تو بالکل سچ ہیں کہ انسان انسان کا بھائی ہوتا ہے پہلے وہ انسان ہوتا ہے  اور جن  نیتاؤں کے بھروسے میں   دم مار رہا تھا ، آج انہوں نے مجھ سے کنارہ کشی کر لی، جن کے لیے میں دن رات دل و  جاں  سے محنت کرتا رہا  وہ  ان برے حالات میں میرے نہ ہوئے  اور ایک مولوی صاحب  ہیں جنہوں نے  میری جان بچانے  کے لیے   اپنی  عافیت کی پروہ کئے بغیر  ڈٹ گئے ہیں،   یہ سیاستدان کسی کے نہیں ہوتے،  اگر کوئی  اپنے  ہوتے ہیں تو وہ  ہمارے  ہمسا یہ  ہیں ، ہمسایہ نہ ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان ہوتا ، ہمسایہ تو صرف خیر خواہ اور ہمدرد  ہوتا ہے ۔  یہ ملک جو اپنی تہذیف و ثقافت  کے لیے جانا جاتا ہے  جس میں   ہندو مسلمان ہمیشہ ایک ساتھ رہتے آئے ہیں جہاں عید میں ہندو ،دیوالی میں مسلمان ایک دوسرے کو گلے لگاتا ہے اور ایک دوسرے کو بھائی چارہ کا سبق دیتا ہے۔  اسے اپنے والد کی بچپن میں کہی ہوئی  وہ باتیں یاد آنے لگیں۔ اس کے آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑی نکل آئی اور وہ خاموشی سے دروازے کے پاس آیا اور کہنے لگا۔"مولوی صاحب آپ سچ کہتے ہیں کہ ہمارا ملک بھائی چارہ اور رواداری کا ملک ہے یہاں ہم سب مل جل کر رہتے ہیں ۔میں نے جن سیاست دانوں کو  میں نے اپنا  نیتا  مانا ،آج  انہوں نے مجھ سے  منہ پھیر لیا اور مکر  گئے ۔ انہوں نے دکھا دیا کہ وہ صرف اپنی سیاسی کرسی کے لیے ہندو مسلمان  میں فساد پیدا کرتے  ہیں ۔  میرے والد کہا کرتے تھے کہ بیٹا پہلے تم انسان بنو، اس کے بعد اپنے مذہبی رسوم کی پابندی کرو۔  کوئی بھی مذہب آپس میں نفرت کو بانٹنے کا کام نہیں کرتا، اگر یہ میرے مسلمان بھائی مجھے مارنا چاہتے ہیں اور مجھے مارنے سے ان کی دلی خواہش  اور حق  حاصل ہوتا ہے    تو بلاشبہ یہ مجھے مار دیں لیکن میں یہ سبق سیکھ چکا ہوں کہ ہمسایہ کیسے ہو تا ہے ، اس کا مذہبی اور اخلاقی فریضہ کیا ہوتا ہے ، مولوی صاحب میں  اپنے آپ میں  بہت شرمندہ ہوں، آپ مجھے معاف کر دیں۔    شائد   آپ کی معافی کی وجہ سے  مجھےسورگ  نصیب ہو۔ میں جس دنیا    کو سورگ سمجھ رہا حقیقت میں وہ نرک ہے۔ دینا ناتھ ان لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا،"  دیکھو بھائی، انسان بہک جاتا ہے میں بھی بہک گیا تھا ، مولوی صاحب کی سوچ اور فکر    نے میرے  ذہنیت کو بدل دیا ، میں جان گیا ہوں کہ  ہم سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں ایک دوسرے کے  ہمسایہ ہیں اور ہمسایہ کبھی کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔  مت جاؤ ان نیتاؤں  کی طرف جنہوں نے تمہیں ورغلا رکھا ہے، جب  بھی ہم پر مصیبت آتی ہے تو ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔  مولوی صاحب کا  چہرا   دینا ناتھ کی باتیں سن کر  ایک روحانی چمک سے دمک اٹھا ، انہوں نے کہا "دینا ناتھ بالکل درست کہہ رہا    ہے،  تم کبھی ان نیتاؤں  کی سازشوں کا شکار مت بنو ، محبت  اور  بھائی چارہ کو عام کرو، ہمسایہ کبھی ساتھ  نہیں چھوڑتا ، سایہ بن کے ساتھ ہی رہتا ہے،  ہاں رات کے اندھیرے میں  دھوپ کی روشنی  میں یہ کبھی غائب ، کہیں کم کہیں زیادہ ہوتا ہے مگر اپنے ساتھ ہی ہوتا ہے۔"  مولوی صاحب  اور ندامت سے پُر  دیناناتھ کی   باتوں نے تمام کے دلوں کو بدل دیا ۔رئیس خاں بات کوطول دینا چاہتا ہے  مگر  بقیہ افراد نے اسے گھورتے ہوئے کہا، بس کر رئیس  اب بھی  تو نفرت ہی کی  بات کرے گا،دینا ناتھ کی طرح اپنے گناہوں سے توبہ کر لے،    یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے ہاتھ میں لائے ہوئے ڈنڈے اور ہتھیار پھینک دیے اور کہا "مولوی صاحب آپ نے صحیح کہا ہے نفرت سوائے نفرت اور  نقصان کے کچھ نہیں  دیتی۔  آج سے ہم سب مل کر رہیں گیں ،   اپنے ہمسائے کے ہمددر بن کر زندگی گزاریں  گیں۔" سب  نے دیناناتھ  کو  اپنے  گلے  سے لگایا اور دیناناتھ  کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے  حقیقی ہمسایہ اور پڑوسی یہ   ہیں، جہاں صرف محبت کے پھول  کھلتے ہیں، نفرت کے  نہیں۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد