اُردو زبان اور اُردو شعراء محمدیوسف رحیم بیدری۔بیدر،کرناٹک
اُردو زبان اور اُردو شعراء
محمدیوسف رحیم بیدری۔بیدر،کرناٹک
9/نومبر کو ہر سال ”عالمی یومِ اردو“ منایاجاتاہے۔ 9/نومبر دراصل شاعر مشرق حضرت علامہ سر محمد اقبال کا یومِ پیدائش ہے۔ ان کے یوم ِ پیدائش کے پیش نظر ”عالمی یومِ اردو“ منانے کی داغ بیل کچھ سال قبل محبان ِ اقبال نے ڈالی۔ اقبال کے نام کی برکت کہیں یا اردو زبان کی برکت کہ ہر سال ”یومِ اردو“ منانے والی تنظیموں اور افراد میں اضافہ ہوتاجارہاہے جس سے پتہ چلتاہے کہ اردو والوں میں بیداری بڑھ رہی ہے۔ اسی حوالے سے چند احباب اور ادارے ایسے بھی ہیں جو 9/نومبر کو ”یوم ِ اردو“ نہیں بلکہ اقبال ڈے مناتے ہیں۔ یومِ اردو منانے والوں کو اقبال ڈے منانے والوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسی طرح اقبال ڈے منانے والے ”یومِ اردو“ منانے والوں پر معترض نہیں ہیں۔ دونوں کے درمیان میں ایک کوآرڈی نیشن ضرور ہے اگر نہیں ہے تو ہونا چاہیے تاکہ مضبوط بنیادوں پر اقبال کے افکارپوری دنیا میں پھیلیں۔ اور ساری دنیا میں اردو زبان کااحترام یکساں طورپر کیاجاسکے۔
اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ہمارا موضوع ”اردوزبان اور اردوشعراء“ ہے۔خصوصاً غیرمسلم شعراء نے اردو سے متعلق اس قدر شعر کہے ہیں اور ان اشعارمیں اپنے دل کو کچھ اس طرح نکال کر رکھ دیاہے کہ اس سے قومی یکجہتی ہی نہیں انسانیت نوازی بھی سامنے آتی ہے۔ درج ذیل اشعارغیرمسلم شعراء نے کہے ہیں، بڑے پرلطف اور عمدہ اشعار ہیں ؎
اردو کے چند لفظ ہیں جب سے زبان پر
تہذیب مہرباں ہے مرے خاندان پر اشوک ساحل
ہم بھی اردو پہ ناز کرتے ہیں
یہ ہماری زبان ہے پیارے گوپال متل
بات کرنے کاحسیں طورطریقہ سیکھا
ہم نے ارد وکے بہانے سے سلیقہ سیکھا منیش شکلا
ملاؔبنادِیا ہے اسے بھی محاذ جنگ
اک صلح کا پیام تھی اردوزباں کبھی آنند نرائن ملا
میری گٹھی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا، حسن بیاں بنتا گیا فراق ؔگورکھپوری
اردو ہے جس کانام ہماری زبان ہے
دنیا کی ہرزبان سے پیاری زبان ہے دتاتریہ کیفی
دلہن کی مہندی جیسی ہے اردوزباں کی شکل
خوشبو بکھیرتا ہے عبارت کا حرف حرف سندیپ گپتے
با ت کرو تو لفظوں سے بھی خوشبوآتی ہے
لگتاہے اس لڑکی کو بھی اردو آتی ہے آلوک شریواستو
پریم لال شفا دہلوی نے ایک نظم ”ڈاکٹر رام بابو سکسینہ“ پر لکھی اور ان کے اردو سے متعلق کام کی یوں تعریف کی ؎
جس نے اردو پر کیاہے قابل تعریف کام
جس کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں خاص وعام
اب ہم اردو کے مسلمان شعراء کی طرف آتے ہیں۔شاعر حیات، فخر ِ کرناٹک اور استادالشعراء حضرت رشید احمد رشید ؔ نے اپنی نظم ”اردوزبان“میں لکھاہے ؎
سلسلہ تدریس ِ اردو کا ہواہے بند آج
مائل ِ وحشت ہے بھارت کے دفاتر کامزاج
آگے کہتے ہیں ؎
کوئی ذوق ؔو میرؔومومن ؔہے کو ئی غالب ؔ ہے آج
اہل ِ بیدر کی زباں انصاف کی طالب ہے آج
حضرت رشید ؔ کی ایک نظم کاعنوان ”اراکین کرناٹک اردو اکیڈیمی سے خطاب“ بھی ہے (بحوالہ ”الہام و یقین“،رشید احمد رشید ؔ،صفحہ 100) اکیڈیمی کی تشکیل کے فوری بعدیہ نظم کہی گئی۔جس میں اردو کے حوالے سے اراکین اکیڈیمی سے کہاہے ؎
اُردو زباں ہے کتنی مصیبت میں آج کل
دراصل رازدارِ حقیقت ہیں آپ لوگ
”غالب ؔ“ نامی نظم(بحوالہ ”الہام و یقین“ صفحہ 107) میں رشید احمد رشید ؔ نے ایک شعر ارد و اور غالبؔ کے تعلق سے یوں کہاہے ؎
کیا رشک مشت ِ خاک پہ ہے آسمان کو
غالب ؔپہ فخرو ناز ہے اردو زبان کو
یوم ِ آزادی کی بات نکل آتی ہے تو اردو کا ذکر بھی خود بخود چلا آتاہے۔ شاعر حیات حضرت رشیدؔ کی نظم ”یومِ آزادی۔1971ء“نامی نظم(بحوالہ، شعری مجموعہ ”الہام و یقین“ صفحہ۔ 92) کاآخری شعر اردو سے متعلق ہے،لکھتے ہیں ؎
اس بے زبان پر بھی نگاہ ِ کرم رہے
اردو دبی زبان سے شکوہ کناں ہے آج
جان نثاراختر کے انتقال پر موصوف نے نظم لکھی ”نذرِ جان نثار اخترؔ“ (بحوالہ، شعری مجموعہ ”الہام و یقین“ صفحہ۔ 112) جس کاپہلا شعر اردو کی مغمومیت سے متعلق ہے ؎
آج دل میں ہے درد کامحشر
داغ تازہ ہے قلب ِ اردوپر
حضرت رشید نے اقبال پر بھی عمدہ نظم کہی ہے لیکن اس نظم میں اردو کا کوئی حوالہ نہیں دیاورنہ سبھی لوگ تو کہتے ہیں کہ اقبال اردو کے بڑے شعراء میں بلکہ صفِ اول کے شعراء میں شامل ہیں۔ کلیان کرناٹک علاقے سے تعلق رکھنے والے جناب نثاراحمد کلیم ؔنے ”سوغات ِ کلیم“ شعری مجموعہ (صفحہ 119) میں ”اردو کے لئے“ عنوان سے 7اشعار کی ایک نظم شامل کی ہے جس کاآخری شعر کچھ یوں ہے ؎
زندگی کااپنی، مقصد کیابتائے گاکلیم ؔ
جینا مرنا زندگی کا صرف اردو کے لئے
جناب نثاراحمد کلیم ؔ نے ”نذرِ رشید احمد رشید ؔ“ نظم (بحوالہ شعر ی مجموعہ ”فکر کلیم“ صفحہ 104) میں حضرت رشید احمد رشید ؔکو شاعرِ اردو زباں کہاہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے ؎
شاعرِ اردو زباں اور شہرِ گاواں کاوقار
شعر کے روحِ رواں اور محفلوں کی تم بہار
مرزا محمد بیگ محمودی رمزؔ صاحب کو خادم ِ اردو جناب نثاراحمد کلیم ؔ نے لکھاہے(شعر ی مجموعہ ”فکر کلیم“ صفحہ 105) ، ملاحظہ کیجئے ؎
تھاشفاخانہ شہر میں مرکز ِ شعروسخن
خادمِ اردوزباں تھا رمزؔ جیسا اہل فن
نثاراحمد کلیمؔ نے اپنے ہم عصر شاعر اورمعروف سیاست دان جناب محسن کمال کاکچھ یوں ذکر ِ خیر کیاہے ؎
اردو ادب اور سیاست کے نام کا
سکّہ یہاں جما دیا محسن کمال نے
کلیان کرناٹک علاقے کے ایک اور شاعر میر ؔبیدری ہیں۔ ان کے درج ذیل شعر ملاحظہ کیجئے ؎
جن کے کاٹے سے اردو نہ ہرگزبچے گی
جب ملیں سانپ ایسے کچل، شہر ِ اردو
(شعری مجموعہ ’بارش‘، میرؔبیدری۔ صفحہ 111)
محبت کی زباں اُردو رہے گی
یہ بن کر آسماں اُردو رہے گی
نہ سیکھا اس نے نفرت کرنا لوگو!
جہاں ہو پیارواں، اردو رہے گی
(شعری مجموعہ ”سرخاب“ میرؔبیدری، صفحہ 90)
میرؔبیدری نے اُردو شخصیات پر بھی جواشعار کہے ہیں، ان میں سے چند شعر یہاں پیش کئے جارہے ہیں ؎
آج اردو بہاتی رہی آنسودیکھ
کیوں کہ اردو کی طاقت تھے ایم اے حمید
(شعری مجموعہ ”سرخاب“ میرؔبیدری، صفحہ107)
کنڑ، سنسکرت دھرتی کے باسی
اُردو کا تحفہ لائے، م پ راہیؔ
(شعری مجموعہ ”سرخاب“ میرؔبیدری، صفحہ 93)
مگر ہیں اردو سپاہی، گلبرگہ شہر کی دین
نظیراک بے نظیر، خواجہ فرید الدین
(شعری مجموعہ ”سرخاب“ میرؔبیدری، صفحہ 98)۔ میرؔبیدری کی اردو خدمت پر کمال الدین شمیم ؔکے یہ دوشعر (بحوالہ شعری مجموعہ ”رقص“ میرؔبیدری، صفحہ 91)دیکھیں ؎
اردو زباں اس کے تو سرپر سوار ہے
اردوزباں کا یہ حقیقت میں یارہے
اردو زباں کا ہی وظیفہ ہے رات دن
مصروف اس کو پایاہے ہفتہ کے سات دن
اسی طرح جناب محمد ظفراللہ خان نے بھی درج ذیل اشعار میرؔبیدری المعروف بہ محمدیوسف رحیم بیدری کے لئے کہے ہیں، (شعری مجموعہ ”رقص“ میرؔبیدری، صفحہ 94)جس کی ردیف میرؔبیدری کے اصلی نام یوسف پر رکھی گئی ہے ؎
تیرے قلم نے سنوارے ہیں زُلف اردو کے
تیرے قدم سے اُگ آئیں گے گلشن یوسف
کسی بھاشا، کسی زبان سے نہیں تعصب
لیکن وکیل ِ اردو، دلیل ِ روشن یوسف
دنیائے تعصبات میں، اردو کے رفیق ہو!
تیرگی ء شب میں امید کی کرن یوسف
ڈاکٹر ماجد داغی ؔ نے اپنی نظموں پرمشتمل شعری مجموعہ ”زوال ِ آدم“ میں ایک نظم ”الماس“ لکھی ہے جو معروف شاعر حمید الماس کے انتقال پر کہی گئی ہے، اسی آزاد نظم کے درمیان کی یہ تین سطریں اردواور کنڑکے تعلق کودرشاتی ہیں ؎
اور کنڑ سے اردو میں
بسویشور کے وچن جس نے لائے
وہ الماس ہی تھے
(شعری مجموعہ ”زوال ِ آدم“ ڈاکٹر ماجد داغی ؔ، صفحہ 108)
میسور بنیاد بزرگ شاعرہ محترمہ سید ہ نیلوفر نایاب ؔ صاحبہ نے بزم اردو کو آباد رکھنے کی دعا کی تھی تاکہ اردو زبان فروغ پاسکے ؎
بزمِ اردو کو یارب تو آباد رکھ
جس سے پائے فروغ اب ہماری زباں
(شعر ی مجموعہ ”گلدستہ ء نایاب“ سیدہ نیلوفر نایاب ؔ۔ صفحہ 127)
اردو کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سبھی سے کہناپڑتاہے کہ اردو ہندوستان میں پید اہوئی، یہیں پلی بڑھی، لیکن اردو کے ساتھ اہل ِ ہندبلکہ اہل ِ اقتدار انصاف کرنے کے لئے بوجوہ تیارنہیں ہیں۔ اسی خیال کوبیجاپور کے استاد شاعرسید محمود انعامدار نے ان دوعلیحدہ علیحدہ اشعارمیں باندھا ہے ؎
پیداہوئی ہے ہند میں، پل کر جواں ہوئی
اردو نہیں ہے غیر یہ، ہندوستاں کی ہے
سب زبانیں یکساں ہیں، کہتے ہیں انصاف کریں گے
اُردو کی جب بات چلے،ان کو کچھ کچھ ہوتاہے
اردوشاعروں نے اپنا ناطہ میرؔوغالب ؔاور اقبالؔ سے جوڑنے کوقابل فخر گردانا ہے۔ شیخ حبیب بنگلوری کایہ قطعہ ملاحظہ کریں ؎
جہاں میں سب سے الگ اپنی شان رکھتے ہیں
زباں پہ اپنی ہم اردو زبان رکھتے ہیں
جو خاندان ہے اقبال ؔ، ومیرؔو غالبؔ کا
حبیب ؔ ہم بھی وہی خاندان رکھتے ہیں
”تلفظ“ پر اردو شاعری میں زیادہ زور دیاجاتاہے۔ اسی کی اہمیت کے پیش نظرتلفظ پر بھی شعراء نے فکر سخن کیاہے۔ احمد باشاساغر ؔ کایہ قطعہ اسی کی نمائندگی کرتاہے ؎
دولت تہذیب چل کر میرے پاس آنے لگی
میرے لہجے میں تمدن کی بوباس آنے لگی
جب سے اردو کاتلفظ میں صحیح کرنے لگا
میری انگریزی میں بھی تب سے مٹھاس آنے لگی
اردو الفاظ پر بھی شعراء نے طبع آزمائی کی ہے اس کی تعریف کی ہے۔ ڈاکٹر مومن بیجاپوری کا یہ شعر اس ذیل میں ایک اچھی مثال ہوسکتاہے ؎
ہر لفظ اس زباں کا نورانی شکل والا
یہ مثل ِ کہکشاں ہے، اردو زباں ہماری
اردو تحقیق میں اردو کی تاریخ بھی پنہاں ہے۔ اور اردو تحقیق نے سبھی کو منوایا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر مقبول احمد مقبول کی نظم ”اردو زباں“ کایہ بند اہم ہے، ملاحظہ فرمائیں ؎
زورؔ وعرشی ؔوشیرانی وہاشمی
خواجہ وقاضی ورامؔ سے عبقری
گیان چند ورضاؔوحسن جالبی ؔ
ان کی تحقیق کی تو تھی روح ِ رواں
میری پیاری زباں، میری اردو زباں
جناب سید عرفان اللہ قادری عاشق ِ اردو ہیں بلکہ انھیں اردو زبان کے عاشق جن بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان سے کسی بھی قسم کا سوال کیاجاسکتاہے اورجواب بھی منٹوں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں حاضر۔ میرے استفسار پر انھوں نے حسن بھٹکلی، مہرالنساء مہروؔ، ریشماں طلعت شبنم کولاری، عبدالرحمٰن خطاؔ شیونگی، ایوب بیگ دانش چکبالاپوری اورسید احمد باشاہ ساغر کے اردو سے متعلق اشعار فوری ارسال فرمائے۔ وہ اشعار ملاحظہ کیجئے ؎
کسے تہذیب کہتے ہیں وہ خود ہی جان جائیں گے
تم اپنے اپنے بچوں کو فقط اردو سکھا دینا حسن بھٹکلی
پیدا ہوئی یہیں پہ، یہیں پر جواں ہوئی
اردو زباں ہماری یہ ہندوستان کی مہرالنّساء مہروؔ
نرم گفتار ہے باتوں میں کھنک ہے اُس کی
میری پیاری زباں اُردو کا اثر لگتا ہے ریشماں طلعت شبنم کولاری
اردو شیریں ہے اردو پیاری ہے
مادری یہ زباں ہماری ہے عبدالرحمٰن خطاؔ شیونگی
مرثیہ اردو کا دانش ؔ ختم ہوتا ہے یہاں
عاشقِ اردو کے گھر انگریز پیدا ہوگئے ایوب بیگ دانش چکبالاپوری
دولت کی بات کرنا کبھی ذکر تاج کر
خسرو کا ذکر چھیڑ مجھے خوش مزاج کر
گر چاہتا ہے تو جو میرے دل کو جیتنا
اردو زبان بول میرے دل پہ راج کر سید احمد باشاہ ساغر بلگامی
حکیم سعید میسوری کی ”اردو“ سے متعلق توشیحی قطعہ بھی عرفان اللہ قادری نے ارسال کیاہے، عمدہ قطعہ ملاحظہ کیجئے گا ؎
ادب سکھاتی ہے جو، وہ زبان ہے اردو
رفاہِ قوم کا، اعلیٰ نشان ہے اردو
دریں زمانہ پسندیدہ است وشیریں است
وقارِ حسن ِ غزل اور جان ہے اردو
نوجوان اور خوبصورت شکل کے شاعر شریف احمد شریف کا نوجوانوں سے متعلق عزم ہے ؎
جلاکر پیڑ چندن کی نئی خوشبو بنادیں گے
نوجوانوں کو ہمارے صاحب اردو بنادیں گے
ایک اور معتبراورنوجوان شاعر ثاقب جنیدی کاکہناہے ؎
نگاہیں مہذب، تکلم میں جادو، زباں میں بلاغت تو شیریں لہجہ
محبت کی بستی مبارک ہو تجھ کو کہ اب تک تو اردو سنبھالے ہوئے ہے
جناب آفتاب عالم شاہ نوری ایک ذہین اور بیدار مغز سیاح اور اردوکے عاشق ہیں۔ ”عالمی یومِ اردو“ پر ان کاپیغام ان چار مصرعوں میں پنہاں ہے ؎
کلیاں، تتلی، گلشن، خوشبو
روپ ہے ان کا جیسے جادو
ذہنوں پر وہ راج کرے گا
جس نے سیکھی بولی اردو
جناب آفتاب عالم شاہ نوری نے ہلکے لہجے میں بھی اردو کی تعریف کی ہے جو لہجہ بچوں کے لئے مناسب لگتاہے۔ یہ قطعہ ملاحظہ کیجئے ؎
بھینی بھینی خوشبو آئے
جن کو بولی اُردو آئے
میرے بچوں کو بہلانے
دیکھو کتنے جگنو آئے
موصوف نے ”اُردو کا مبلغ“ عنوان سے جو طنز کیاہے، وہ ہمارے کئی ایک پروفیسر، لیکچررس، ٹیچرس، شعروادباء پر صاد ق آتاہے۔ یہ ایک المیہ ہے، اس کی جانب اردو والوں کو توجہ دینا چاہیے۔ اور اس مخمصے سے فوری باہر نکل آنا چاہیے۔ جناب آفتاب عالم کہتے ہیں ؎
ناصح تو یہ کہتا ہے کہ اُردو میں ہے خوشبو
دنیا کے اندھیروں میں ہے تہذیب کا جگنو
اُردو کے مبلغ سے یہ جا کر کوئی پوچھے
کیوں اپنے ہی بچوں کو سکھائی نہیں اُردو
مؤظف پرنسپل جناب محمد عابداللہ اطہر شیموگوی کی اس ترغیب پر ہم اپنے مضمون کوختم کرتے ہیں ؎
اردو کی ترقی کو اُمرا ہوں کمربستہ
شرفا سے ملے تائید، ادباہوں کمربستہ
ہے اپنی زباں اردو، سب اس کو بچانا ہے
اور شوق سے پڑھنے کو طلبا ہوں کمربستہ
”عالمی یوم ِ اردو“ 2025ء کے موقع پر آئیے، عزم کرتے ہیں، خود اردو سیکھیں گے اور سبھی کوآف لائن اور آن لائن اردو سکھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اردو جیسی نرم ونازک، پیاری پیاری، شیریں وخوش خصال زبان کی حفاظت فرمائے اور تمام طبقات کی آنے والی نسلیں اس زبان سے بہرہ مندہوں۔ساری دنیاخصوصاً بھارت میں اُردو زبان وادب اور تدریس کاہمیشہ بول بالارہے۔ آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں