ہمارا پڑوسی (دکنی لب ولہجے میں)
ہمارا پڑوسی (دکنی لب ولہجے میں)
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
پڑوسی پڑوسی ہمارا پڑوسی
یہ شوگر، وہ بی پی کمارا پڑوسی
صحافی ہے دکنی کا سچا پڑوسی
جو شاعر ہے ہنگا وہ بھُکّا پڑوسی
پڑوسی وہ کالا تو بھاگا پڑوسی
مگر آچکی ہیں یہ خالہ پڑوسی
جو ٹیچر ہے میکو پڑایا پڑوسی
جو انجینئر ہے، ستارا پڑوسی
جو دائیں ہے دیکھو، وہ کنگوس ہی ہے
جوبائیں ہے عالم ہی ہنگا پڑوسی
جو بہرا ہے اس کی کہانی الگ ہے
چلے گا نہیں یہ کھٹارا پڑوسی
پڑوسن تو اونچی ہے پریوں کے جیسی
تو شوہر کو کہناہے گِڈّا پڑوسی
پڑوسی کی تعریف بالکل یہی ہے
جو دِکتا ہے ہم کو وہ اُتّا پڑوسی
دکاں ہے کرانے کی، وہ بیچے گامال
خریدو، پتہ ہو،ہے مھنگا پڑوسی
بنائے گا بکرا، کسی کو وہ مرغا
بڑا یار لیڈر ہے چھرّا پڑوسی
ملے اس سے ہنگے، کبھی دیکھا بھی ہو
بہت گالیاں منہ سے دیتا پڑوسی
وہ آگے جو بھی ہے مقرر بڑا ہے
کہ چوراہے پر ہی پکارا پڑوسی
ذرا تم بتاؤ کہ کیا سونچتیں سوب
اٹھانے کو بیٹھیوں میں نخرا پڑوسی
ہیں داماد بھی میرؔ لیکن یہ سادا
انھیں تم کہوگے دُلارا پڑوسی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں