ریاست ٹمل ناڈو کی جملہ اردو ادبی انجمنوں کے شاندار وفاق متحدہ اردو تنظیم ٹمل ناڈو کا تاریخی افتتاح،

ریاست ٹمل ناڈو کی جملہ اردو ادبی انجمنوں کے شاندار وفاق 
متحدہ اردو تنظیم ٹمل ناڈو کا تاریخی افتتاح،

اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی

ریاست ٹمل ناڈو میں اردو کی ادبی تاریخ لگ بھگ پانچ چھ صدیوں پرانی ہے، اردو کی یہاں شروعات دکنی لہجے کے ساتھ ہوئی تھی اور اس کے اثرات آج بھی یہاں کی بولی جانے والی اردو میں نمایاں ہے۔ اس عرصے میں یہاں کئی مشاہیر ادب پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی فکری بصیرتوں سے اردو زبان و ادب کی راہوں میں بساط بھر مشعلیں روشن کیں جو آج بھی ریاست کےادبی افق پر ستاروں کی طرح روشنیاں بکھیر رہی ہیں۔ ماضیء قریب میں آزادی اور تقسیم سے پہلے شہر مدراس جو آج چنئی کے نام سے جانا جاتا ہے اردو زبان و ادب کا ایک گڑھ رہ چکا ہے، اس  میں علامہ اقبال جیسی شخصیت نے حاضر ہوکر علم ودانش سے  بھر پور شاہکار خطبات پیش کیں جن کی آج بھی ایک تاریخی حیثیت ہے۔
آزادی کے بعد  ریاست مدراس میں اردو کو جس طرح کنارے لگایا گیا اور اُس سے جڑے اداروں کو نشانہ بنایا گیا وہ ایک تلخ تاریخ ہے اور پھر لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تقسیم کے بعد ریاست ٹمل ناڈو میں اردو گویا پچھڑتی چلی گئی۔ کئی علاقے جہاں اردو بولی لکھی اور پڑھی جاتی تھی آج وہاں گم ہوکر رہ گئی ہے، اگر تھوڑی بہت  کہیں باقی بھی ہے تو صرف گھروں میں بولی جانے والی زبان کے طور پر۔ ریاست ٹمل ناڈو میں آج اگر کہیں اردو بولی لکھی اور پڑھی جاتی ہے تو وہ صرف شہر مدراس کے کچھ علاقوں میں اور ضلع ویلور اور  ضلع ترپاتور کے چند شہروں میں۔ ریاستی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے بعد تو گویا ان جگہوں میں بھی اردو تیزی سے پس پشت جارہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ریاستی حکومت نے ایک عدد اردو اکیڈمی بھی بنا رکھی ہے مگر وہ برائے نام اور ووٹ بینک سیاست کے مدنظر ہے۔
ایسے ماحول میں یہاں کے اردو داں حضرات کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنی خوبصورت مادری زبان کی ترقی و بقا میں کمر بستہ ہوں۔ الحمد اللہ ریاست ٹمل ناڈو کے اردو دانشور اور ادباء و شعراء کی ایک بڑی تعداد اس فکر کو لے کر کئی دہائیوں سے سرگرم ہے اور اپنے اپنے دائروں میں کام کرتی آرہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اکثر محبان اردو کی ایک بڑی خواہش رہی ہے کہ ان بکھرے ہوئے جزیروں کو ایک لڑی میں پرو کر ایسا  ادبی اقلیم  بنایا جائے جس کی وسیع کینوس میں ریاست ٹمل ناڈو کے تمام اردو حلقے سمٹ آئیں۔ خواہش کرنا اور خواب دیکھنا بڑا آسان ہے مگر انہیں تعبیر سے ہم کنار کرانا بے حد مشکل عمل ہوتا ہے۔ مگر ریاست ٹمل ناڈو کی سنگلاخ زمین میں آج بھی اردو کے ایسے شیدائی موجود ہیں جو نہ صرف خواب دیکھتے ہیں بلکہ اس بات کی بساط بھر کوشش  بھی کرتے ہیں کہ اسے تعیبر کا لبادہ پہنایا جائے۔ منفرد لہجوں کے معتبر شاعر محمد حنیف کاتب اور محب اردو روح اللہ ایسی ہی فعال شخصیتوں کا نام ہے جنہوں نے اردو دانوں کے ایک ایسے خواب کو جو وہ کئی دہائیوں سے دیکھتے آرہے ہیں یوسف بن کر تعبیر عطا کی اور ریاست کے تمام فعال اردو ادبی انجمنوں کا ایک وفاق ترتیب دے ڈالا اور بقول ان دونوں معزز شخصیات کے اس تعبیر کے لئے لائحہ عمل انہوں نے اپنے حالیہ دورہء امریکہ کے دوران ترتیب دیا یعنی گویا انہوں نے وفاق کی تعمیر کے لئے پہلا اینٹ سات سمندر پار رکھ کر اس کو ایسی آفاقیت عطا کرد ی ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ 
شروعاتی تین مجلسوں میں ریاست کے فعال اردو شخصیات کو جوڑ کر وفاق کے خد و خال کو لے کر مشورے ہوئے اور بالآخر آٹھ نومبر دو ہزار پچیس (2025-11-08) بروز ہفتہ بمقام بی ایم کنونشن ہال، ٹریپلیکین، چنئی میں بوقت گیارہ بجےصبح ریاست ٹمل ناڈو کی جملہ تیتیس (33) اردو ادبی انجمنوں کے ایک شاندار وفاق کو، متحدہ اردو تنظیم تمل ناڈو کے نام سے ریاست میں اردو ادب کی شاندار ماضی کو لے کر پیدا حسرتوں اور حال کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی دبیز ہوتی تاریکی کے درمیان  مستقبل کے لئے پر امید ٹمٹاتی چراغوں کے سائے میں وجود میں لایا گیا۔ امید کی اس نئی کرن کے حوالے سے، سچ پوچھیں تو اس تقریب میں شریک شرکاء کو اوران کے خلوص اور والہانہ پن کو دیکھ کر یہ بالکل نہیں لگا کہ  یہ ایک رسمی تقریب ہے  بلکہ ایسا لگا  یہ ان خوابیدہ آرزوؤں اور امیدوں کا  وہ سنگ میل ہے جہاں سے ریاست میں اردو ادب کا کارواں خواب غفلت سے بیدار ہوکر  پھرسے ایک بار اپنی گم شدہ منزلوں کی جانب جادہ پیما ہوگا۔
افتتاحی تقریب کی شروعات قاری ظفر احمد دامت برکاتہم کی قراءت قرآن پاک  سے ہوئی اور پھر بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ نعت اویس یاسین خان نے پیش کی۔ ساجد ندوی کی خوبصورت نظامت اور روح اللہ صاحب کی باوقار صدارت سے مزین اس تقریب کا خطبہء استقبالیہ عبدالرحیم پٹیل نے پیش کیا۔ محمد حنیف کاتب معتمد متحدہ تنظم اردو ٹمل ناڈو نے افتتاحی کلمات اور وفاق کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم کا بنیادی مقصد، ریاست میں اردو زبان و ادب اور ثقافت کا فروغ، ریاست کے اردو ادبی انجمنوں اور اداروں کے لئے ایک متحدہ پلیٹ فارم مہیا کرانا، اردو شعراء ادباء اور دانشوروں کو یکجا کر کے ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کرنا، اردو تعلیم کوعام کرنا، اردو کتابوں شعری مجموعوں اخبارات رسائل اور تحقیقی کاموں کی اشاعت میں تعاون کرنا، اردو زبان کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنا اور سرکاری سطح پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اردو زبان کو اس کا جائز حق دلانے کی کوشش کرنا، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اردو کی فعال انجمنوں اور اداروں سے مستقل رابطے میں رہنا اور اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لئے عالمی سطح پر کوشش کرنا، تنظیم کی ویب سائٹ کا قیام، اردو خدمت گاروں، ادباء اور شعراء کے لئے سالانہ اعزازات عطا کرنا اور اردو کی ترقی و ترویج کے لئے ہرممکن ذرائع کا اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں وفاق کے تنظیمی ڈھانچے کو لے کر بھی کئی وضاحتیں پیش کیں۔ 
شہ نشین پر تشریف فرما مہمانان کی شال پوشی اور ریاست ٹمل ناڈو کے ایک معروف شاعرسیداسلم صدا العامری کے شعری مجموعے صدائے بازگشت، جسکا تعارف ڈاکٹر حیات افتخار نے پیش کیا، کی رسم اجرائی کے بعد اے محمد اشرف صاحب، ڈاکٹر سجاد حسین صاحب، ڈاکٹر نعیم الرحمن صاحب اور پٹیل محمد یوسف صاحب جو بطور مہمانان خصوصی شریک تقریب تھے، موجود شرکاء تقریب سے خطاب کیا اور وفاق کی مظبوطی اور بقا کے لئے گراں قدر مشوروں سے نوازا۔ مہمانوں کے خطاب کے بعد وفاق کے حوالے سے ڈاکٹر قاضی حبیب احمد صاحب ، ڈاکٹر پروین فاطمہ صاحبہ، ڈاکٹر سید رفیق باشاہ صاحب، ڈاکٹر جی امتیاز باشاہ صاحب اور عون علی صاحب نے اپنے تاثرات اور تجاویز پیش کئے۔ آخر میں ڈاکٹر حیات افتخار صاحب کے ہدیہ تشکر کے ساتھ یہ افتاحی تقریب اختتام کو پہنچی۔ تقریب کے شرکاء نے ناظم تقریب شاہد مدراسی کی حسن انتظام کی خوب سراہنا کی اور اکثر شرکاء کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ تو بس شروعات ہے، ابھی تو کہانی شروع ہوئی ہے، ان شاءاللہ وفاق کے ساتھ جڑ کر اور اس اردو نتظیم کو مقدور بھر تقویت دے کر ہم اپنے اپنے دائروں میں اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ  ریاست ٹمل ناڈو میں اردو زبان و ادب کا سفر اور اس کی تاریخ تاقیامت ایک روشن باب اور ایک روشن جادہ بن کر جاری و ساری رہے۔ 
افتتاحی تقریب، نماز ظہر اور ظہرانہ کے بعد ایک مختصر شعری نششست بھی منعقد ہوئی جس میں ریاست بھر سے شریک شعرا نے اپنے کلام پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔ اور یوں ریاست ٹمل ناڈو کی اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا شاندار آغاز ہوا۔ امید ہے مستقبل قریب میں اس متحدہ اردو تنظیم سے ریاست ٹمل ناڈو میں اردو زبان و ادب کو لے کر کئی ایسے تاریخی کارنامے وقوع پذیر ہوں  جو اردو دنیا  کو مبہوت کردیں۔ ان شاءاللہ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد