اپنے پڑوسی سے مل کر اپنے زندہ ہونے کاثبوت دیں ایس۔امین الحسن نائب امیرجماعت اسلامی ہند کاجامع مسجد بیدر سے پیغام

اپنے پڑوسی سے مل کر اپنے زندہ ہونے کاثبوت دیں 
ایس۔امین الحسن نائب امیرجماعت اسلامی ہند کاجامع مسجد بیدر سے پیغام 

بیدر۔ 24/نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری)”آج کا انسان جب کہ اپنی ذات کے محور پر گھوم رہاہے، اس کو اس محور سے ہٹاکر سماجی ذمہ داریوں کی طرف لانا ہوگا۔ کسی زمانے میں دوپڑوسیوں کے درمیان مشترک دیواریں ہواکرتی تھیں۔ان دیواروں میں ایک کھڑکی ہواکرتی تھی جس سے آپس میں دونوں گھروں کے لوگ اشیاء کا لین دین ہی نہیں کرتے تھے بلکہ خیرخیریت بھی دریافت کرلیاکرتے تھے“ ان خیالات کا اظہار دہلی سے تشریف لائے مہمان خصوصی محترم جناب ایس امین الحسن نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے جامع مسجد بیدر میں جماعت اسلامی ہندبیدر کے عظیم الشان خطاب عام سے کیاجس میں مردوخواتین کی کثیرتعداد موجودتھی۔ موصوف نے اپنے پرجوش اور خوبصورت خطاب میں سورہ النساء کی آیت 36کی تلاوت کی اور کہاکہ شہروں کی بات تو ہوتی رہتی ہے لیکن اب دیہاتوں میں بھی ایک دوسرے سے اجنبیت کی فضا نظر آتی ہے۔ انھوں نے مذکورہ آیت کی مجموعی ترجمانی کی اور پڑوس کی تین اقسام کا تجزیہ پیش کیا۔ انھوں نے رشتہ دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی اور عارضی پڑوسی کی الگ الگ تعریفیں بیان کیں۔ پھرپڑوسی سے متعلق حدیث جبرئیل علیہ السلام بیان کی۔پھر آپ نے اپنے تجربات بیان کئے۔ پھرکہاکہ پڑوسیوں کے ضمن میں بڑی غفلت پائی جاتی ہے۔ معمولی معمولی بات پر جھگڑا ہوجاتاہے۔ نبی  ﷺ نے فرمایا وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا (تین بار) جس کے شرسے اس کاپڑوسی محفوظ نہ رہے۔ انھوں نے کہاکہ ”اللہ فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ پڑوسیوں سے حسن ِ سلوک کے فائدے بتاتے ہوئے کہاکہ وقت ِ ضرورت ایک دوسرے کی مدد کی جاسکتی ہے۔موصوف نے اجتماعیت کا ایک فلسفہ یہ بیان کیا ”میں ہوں، ہم سب ہیں۔ ہم سب ہیں تو میں ہوں“جناب ایس امین الحسن نے آج کے انسانوں کی عمومی کمزوریوں کاتفصیلی ذکر کیا۔ یہی بھی کہ ان کے نقصانات کیاکیاہیں۔ پڑوسیوں سے دوری، اخلاقی، روحانی اور نفسیاتی امراض کو جنم دیتی ہے۔ جناب امین الحسن نائب امیرجماعت نے پڑوسیوں کے حقوق کے ضمن میں کہاکہ (۱) پڑوسی کو تکلیف نہ دیں (۲) ملاقات کریں، اپنے زندہ ہونے کاثبوت دیں (۳) تعلقات استوارکریں اور اس میں فراخدلی کاثبوت دیں (۴) ان کی خیرخیریت دریافت کرتے رہیں (۵)تقریبات میں یادرکھیں۔ تحائف دیاکریں (۶)وقت ِ ضرورت ایک دوسرے کے کام آئیں (۷)انھیں اپنی خدمات پیش کریں۔ (۸) اگر اختلافات پید اہوجائیں توان کی یکسوئی کے لئے سنجیدہ، شعوری انفرادی، ذاتی اور نجی طورپر ان کو دور کرنے کی سنجیدہ خیرخواہانہ کوشش کریں۔ (۹) مستحق پڑوسیوں کی مدد بھرپور طریقے سے ہونی چاہیے۔ پڑوسی کولے کر ہمارے اندرخداخوفی ہو، انسانیت سے ہمدردی ہو۔ محمد معظم امیرمقامی JIHبیدر نے محترم یس امین الحسن صاحب کاتعارف کراتے ہوئے استقبالیہ پیش کیا۔ ملک گیر مہم ”حقوق ہمسایہ۔ مثالی پڑوسی، مثالی معاشرہ“ جو جماعت اسلامی ہند کی جانب سے 21تا30/نومبر جاری ہے، اس کاتعارف پیش کیا۔پروگرام کاآغاز جناب طہٰ کلیم اللہ صدیقی کی قرأت کلام ِ پاک سے ہوا۔برادر عبدالجمیل نے ترانہ پیش کیا۔ جب کہ کنوینر کے فرائض جناب محمد عار ف الدین معاون امیرمقامیJIH بید رنے انجام دئے۔شہ نشین پر جامع مسجد کے نائب صدرجناب غوث قریشی،جناب منصوراحمد قادری رکن کرناٹکا ریاستی حج کمیٹی، جناب محمد آصف الدین رکن شوریٰ جماعت اسلامی ہند کرناٹک،معاون امرائے مقامیJIH ڈاکٹر اِرشادنوید،جناب محمد صلاح الدین، برادر احتشام صدر مقامی SIOبیدر یونٹ اور دیگر موجودتھے۔خواتین کے لئے پردہ کامعقول انتظام کیاگیاتھا۔ حافظ انجینئر سید عتیق اللہ معاون میڈیا انچارج JIHبیدر نے مذکورہ پریس نوٹ جاری کی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد