پڑوسی۔ اشعار کے آئینے میں محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

پڑوسی۔ اشعار کے آئینے میں 
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک 

گوپال داس نیرج ؔکاانتہائی نازک اور خوشبوپھیلانے والا شعر پڑوسی سے متعلق کچھ یوں ہے    ؎
جس کی خوشبو سے مہک جائے پڑوسی کابھی گھر 
پھول اس قسم کاہرسمت کھلایاجائے 
کیف بھوپالی کازمانہ خطوط کازمانہ تھا۔ خط آتے تھے تو دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوجاتی تھیں،اور اگر کوئی خود پڑوس کو خط بھیج دے تو اس کی کیفیت اس شعر میں بیان کی گئی ہے    ؎
دل ناداں نہ دھڑک، اے دل ناداں نہ دھڑک 
کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا 
اسی انداز کا ایک شعرمسعودہ حیات کا ملاحظہ کیجئے، جس میں خط کی جگہ محبوب کااحسا س ہوتاہے   ؎
جب شام ِ ملاقات پڑوسی کے مکاں سے 
آواز کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو 
پڑوس اور پڑوس کے جھگڑے عام بات ہے۔ کوئی پڑوسی ایک دوسرے سے مطمئن نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہاجائے کہ کسی نے اپنے پڑوسی کو سکون سے نہیں رکھاہے اور نہ ہی خود سکون واطمینان سے رہ رہاہے۔ منظربھوپالی کہتے ہیں   ؎
ہوگیا اپنے پڑوسی کاپڑوسی دشمن 
آدمیت بھی یہاں نذرِ فسادات ہوئی 
اقبال احمد اقبال کہتے ہیں   ؎
کون سے جرم کی آخر یہ سزا دیتاہے 
گھر پڑوسی کا پڑوسی ہی جلادیتاہے
اسی خیال کاانیس انصاری کاایک حقیقی شعر ملاحظہ کیجئے   ؎
پڑوسی ہوتو پھل یا پھول لاتے 
تمہارے ہاتھ میں ہتھیار کیوں ہے  
پڑوسی سے مضبوط تعلق:۔ پڑوسی سے مضبوط اور پائیدار تعلق کی تلقین شعرائے کرام نے کی ہے۔ اسی لئے سلمان اختر کہتے ہیں   ؎
جوپڑوسی ہیں وہ سب اپنے محلے کے ہیں 
کام آئیں گے یہ سب ان سے جھگڑنا چھوڑو 
عباس دانا کی غزل کا ایک شعرہے   ؎
اگر معلوم ہوجائے پڑوسی اپنا بھوکا ہے 
تو غیر ت مند ہاتھوں سے نوالہ چھوڑ دیتے ہیں 
اوریہ انسانیت کی معرا ج ہے۔ جب پڑوسی کے پاس سب کچھ ہو گا، تو سارا محلہ اطمینان سے رہے گا۔ کچھ نادان قسم کے پڑوسی بھی ہوتے ہیں جو وقت نکلنے کے بعد پچھتاتے ہیں، اس نادان پڑوسی کااظہار عتیق الہٰ آبادی نے اس مقطع میں کیاہے    ؎
گھر ہماراپھونک کر کل اک پڑوسی اے عتیقؔ
دوگھڑی تو ہنس لیا پھر بعد میں رویابہت 
لیکن چند معقول پڑوسی ہوتے ہیں جو کسی حال میں پڑوسی کی حفاظت کرنا نہیں بھولتے۔ نوشاد علی کہتے ہیں    ؎
ہم اور لگائیں اپنے پڑوسی کے گھر میں آگ
بھگوان ہی بچائے ہمیں ایسے پاپ سے 
امیرحمزہ اعظمی کہتے ہیں   ؎
سمجھ کے اس کو حقوق العباد زندہ ہوں 
مری گلی میں پڑوسی کا ناب دان تو ہے 
ُپڑوسی کو بہت سے راز کاپتہ ہوتاہے۔ پڑوسی کون سے دفتر جاتاہے۔اس کے بچوں کاکیاحال ہے؟کون کتناپڑھ رہاہے۔ کس سے کیا معاملہ چل رہاہے۔ بیوی کتنی ضدی یا سیدھی ہے۔ اس کے علاوہ بھی راز ہوتے ہیں۔ اس پر طنز کرنا مظفرحنفی کے علاوہ اور کون کرسکتاہے، کہتے ہیں    ؎
ہمارے راز میں شامل رہے پڑوسی بھی 
اسی لیے تو ہیں دیوارودر، درودیوار 
اردو زبان کے ابھرتے ہوئے شعراء میں ایک نام ڈاکٹرواریؔ سنیل پنوارکابھی ہے۔ موصوف ہندوستان بھر میں مشاعرے پڑھنے جاتے ہیں، دلچسپ شعر کہتے ہیں۔ان کی نظمیں بھی سننے لائق ہیں۔ موصوف کا ایک شعر پڑوسی یاہمسائے کانام لئے بغیر دنگا فساد کرنے والوں کے خلاف ہے، شعرمتاثر کرتاہے۔ ملاحظہ کیجئے   ؎
تم کو کیا، تم لوگ آگ لگاکر اپنی راہ پکڑ لوگے 
ہم لوگوں کے آنگن کی دیواریں باتیں کرتی ہیں 
پڑوس کی چغلیاں /شکویٰ:۔ چغلیاں کرنے کالطف پڑوس کے حوالے سے بہت ہے۔ بچہ سب سے پہلے چغلیاں ماں سے سیکھتاہے۔ احمد علوی کاشعر ہے    ؎
مراپڑوسی کوئی مال دار تھوڑی ہے 
یہ کاربینک کی ہے اس کی کارتھوڑی ہے 
یہ تو کسی کے دولت وثروت پر بات تھی۔ سیدھے سیدھے محبوبہ پر پڑوسیوں کو لے کر شک کرنا اور آٹھ گنا شک، کمال ہے۔ عمیر نجمی کی گاتھا ہے   ؎
یہ سات آٹھ پڑوسی کہاں سے آئے مرے 
تمہارے دل میں تو کوئی نہ تھاسوائے مرے 
پڑوسیوں کاشکویٰ بھی انسانی دائرے میں ہے اور کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے تاہم ایسا ہوتاہے۔ فہمی ؔبدایونی کہتے ہیں    ؎
ارادہ ہے مرا گھر بیچنے کا
پڑوسی خوب خاطر کررہے ہیں 
ضمیر یوسف کاشعر ہے   ؎
یہ بات پڑوسی کو اب اچھی نہیں لگتی 
آنگن میں ہمارے کوئی دیوار نہیں ہے 
یہاں ایک دیوار کی بات تھی، اب ہم دیواروں کی بات کرتے ہیں۔ زیب غوری کہتے ہیں    ؎
اونچی نیچی دیواریں ہیں چارطرف 
کوئی پڑوسی کیسا اورہمسایہ کیا 
کالی داس گپتا رضاؔجیسے بڑے ادیب بھی پڑوسی کی بابت شکوہ سنج ہیں    ؎
گھر آنگن میں سونے کاسورج کہاں 
کرن تک پڑوسی چرالے گئے 
آہ سنبھلی کایہ شعر خاموشی کے ساتھ بہت کچھ کہتاہے،پڑھیں اور سردھنیں   ؎
                                                                     خدا کرے کہ سنے تو زبان خاموشی 
ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں  
شاعرات نے بھی اپنی پڑوسن کے بارے میں جو لکھاہے، اس میں سے ایک بات یہ بھی ہے، پروین کیف کا شعر ہے    ؎
حیاتو اس سے شرماتی بہت ہے 
پڑوسن میری اتراتی بہت ہے 
استاد شاعر مشیر ؔجھنجھانوی کا پڑوسی سے جو شکویٰ ہے، وہ سب سے علیحدہ ہے۔ مشیرؔ صاحب کہتے ہیں    ؎
پھل توپڑوسیوں کے مقدرمیں ہے مشیر ؔ
پتے ہوا سے اڑ کے مرے گھرمیں آئے ہیں 
کنجوس پڑوسی:۔ پڑوسی کنجوس بھی ہوتاہے۔ بلکہ اسی کنجوسی کو توڑنے اور اس کو ختم کرنے کی بات نبی کریم  ﷺ نے کہی تھی۔ کہاتھاکہ اگرگھر میں کچھ اچھاسالن پکارہے ہو تو اس میں تھوڑا پانی زیادہ کردو۔ تاکہ وہ اچھا سالن اپنے پڑوس بھیج سکو۔ شوکت پردیسی کہہ رہے ہیں کہ میر اپڑوسی اپنا سالن تو دور کی بات ہے،اس کے گھر آئی مٹھائی بھی میرے گھر نہیں پہنچاتاہے   ؎
جوپڑوسی کے گھر میں آئی ہے 
وہ مٹھائی اِدھر نہیں آتی 
جمال ؔاویسی کا یہ شعر حقیقت کا عکاس ہے۔ اس طرح کے منظر کوعوام ہی نے نہیں شاعر نے بھی ضرور دیکھاہوگا، اسی لئے تو کہہ رہے ہیں    ؎
آئے ہیں پڑوسی مرے گھر لے کے شکایت 
باتوں میں وہ تلخی ہے کہ نفرت سے زیادہ 
پڑوسیوں کے حال سے بے خبری:۔ پڑوسیوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا انسانی سماج کا لازمی فعل ہے۔ ایک فریضہ ہے۔ جوکوئی اس فریضہ کو انجام نہیں دے گا، انسانی سماج میں بہتر نظروں سے دیکھانہیں جائے گا۔ شکیل جمالی کے شعر تو مشہور ہیں لیکن پڑوس سے متعلق یہ شعر بھی پڑھ لیجئے گا    ؎
پڑوسی پڑوسی سے ہے بے خبر 
مگر سب کے ہاتھوں میں اخبار ہے 
جناب گنیش گائیکواڑ آغازؔ نے نہایت سادگی سے کہاہے   ؎
ہم پڑوسی سے اپنے رہے بے خبر 
ساری دنیا کی ہم کو خبر چاہیے
شعراء نے پڑوسیوں کے حقوق ادا نہ کرنے والوں پر عمدہ طنز کیا ہے۔ عبدالحفیظ ساحلؔ قادری کا شعر ہے   ؎
کبھی بھوکے پڑوسی کی خبرتو لی نہیں اس نے 
مگر کرنے وہ عمرہ اور حج ہر سال جاتاہے 
شجا ع خاور افہام وتفہیم کے آدمی ہیں۔ معصومیت بھی حددرجہ ہے۔ اس شعر کو دیکھیں، اکیسویں صدی میں ایسا کون ہوگاکہ اپنے پڑوسی کو اپناحال بتائے اوروہ بھی دل کاحال ِ اندرون۔ شاعر بھی نا، کیاکیا سوچتا اور کہتارہتاہے    ؎
وہ دل میں تھی کہ گھر میں، آگ تو تھی 
پڑوسی کو بتانا چاہیے تھا 
محمد علوی نے پڑوسیوں کے ملنے نہ آنے پر اپنی فکرکااظہار کیا ہے، ہمارے خیال میں یہ بڑے شہروں میں ہوتاہے، وہ کہتے ہیں    ؎
پاس پڑوسی ملنے آنا بھول گئے 
برتن آپس میں ٹکرانا بھول گئے 
یہ صلح جوئی شاعر کو پسند نہیں آئی۔ شاعر مذکورہ شعر میں کہہ رہاہے کہ برتن ہوتو آپس میں ضرور ٹکراؤگے۔ نظمی سکندری آبادی کہتے ہیں   ؎
پڑوسی نام سے واقف، نہ شغل وشوق سے اپنے 
عجب انداز سے ہم لوگ اپنے گھر میں رہتے ہیں 
بڑے شہروں کاالمیہ:۔ بڑے شہر گنجان بہت ہوتے ہیں ایسا لگتاہے جیسے ایک دوسرے میں گھسے جارہے ہو۔ ایک کاکمرہ دوسرے کاایک چوتھائی جگہ لے لیاہو۔ ایک کی بالکنی دوسرے کے بیڈ روم تک پہنچ چکی ہولیکن حقائق یہ ہوتے ہیں کہ کوئی کسی کو نہیں جانتا۔ اسی کا اظہار شکیب جلالی جیسے بڑے شاعر کررہے ہیں    ؎
بٹاسکے ہیں پڑوسی کسی کا در د کبھی 
یہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی 
مشتاق صدف کا شعر ہے   ؎
اک پڑوسی دوسرے سے نابلد 
بے مروت شہر تو اتنا نہ تھا 
زبیر تنہا کایہ شعربھی دیکھ لیں، اور رات کے رات شکویٰ کرکے حساب بے باق کرنے والا بڑے شہر کا پڑوسی ہی ہوسکتاہے    ؎
سسکیاں سن کے مری رات پڑوسی نے کہا
کیاتجھے رات میں سونابھی نہیں آتاہے 
پڑوسی کی خبرگیری:۔ 
پڑوسیوں کی خبر گیری کی بات سبھی انسان کرتے ہیں، تمام دھرم اور مذہب والے کرتے ہیں۔ اسی طرح شاعر بھی کرتاہے۔ مرحوم تابش ؔمہدی کایہ شعر دیکھیں    ؎
پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے 
مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا 
مکان کو چھت کا نہ ہونا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بہرحال آدمی کے آخری رسومات بھی معنی رکھتے ہیں۔ آلوک شریواستو نے اس کو اس طرح پیش کیاہے، چارپڑوسی کہنا شعر کو دور تک پہنچاتاہے     ؎
سردنسوں میں چلتے چلتے گرم لہو جب برف ہوا
چارپڑوسی جسم اٹھاکر جھونک آئے انگاروں میں 
اتل اجنبی کا یہ شعر بھی جانا پہچانا لگتاہے   ؎
جب غزل میرؔکی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی مری دیوار میں آجاتی ہے 
عشرت کرتپوری نے جو واقعہ اس شعر میں باندھا ہے، یہ اونچے ظرف والوں کی بات ہے۔ آج اکیسویں صدی کی نوجوان نسل(لڑکا لڑکی) ہاتھ میں موبائل پکڑے ساری دنیا سے بیزار نظر آتی ہے۔ کوئی کسی کو برداشت کرنے تیار نہیں ہے۔ حتیٰ کہ بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو برداشت نہیں کرناچاہتا۔ پہلے زمانے میں بچے بے شمار ہوجایاکرتے تھے۔ آج گن گن کر بچے پیدا کئے جارہے ہیں بلکہ بات اب ایک تک پہنچ چکی ہے۔ ایک ہے ہے، وہ بھی نہیں تو چلے گا کیوں کہ وہ بھی دل برداشتہ ہوکر پیدا کیاجارہاہے، ایسے میں اپنے ظالم پڑوسی سے تعلق رکھنا جگر کی بات ہے    ؎
بیمار کہیں ہونہ پڑوسی، چلودیکھیں 
اب رات میں اس سمت سے پتھرنہیں آتے 
محمد رضاحیدری کے شعر کاتجاہل عارفانہ بہت کچھ بول رہاہے، ملاحظہ فرمائیں    ؎
میں گھر لوٹا تھا کرکے دیں کی خدمت 
مرابھوکا پڑوسی سوچکاتھا 
یاورؔوارثی اپنے پڑوسی کے حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہتے ہیں   ؎
رات ہوتی ہے تو بڑھ جاتاہے شورِ گریہ                                          آج کل میر اپڑوسی کوئی بیمار ہے کیا 
ماضی کے پڑوسی:۔ 
دور ِ موجودہ کے پڑوسی کس طرح کے ہیں، ہر ایک کا تجربہ مختلف ہوگا۔ اسی طرح ماضی کے پڑوسیوں کوتلاشتے ہیں تو ان اشعار میں ان کی تعریف مل جاتی ہے     ؎
قید مذہب کی نہ تھی کل کے پڑوسی دونوں 
ایک دوجے کے مددگار ہواکرتے تھے 
مناظر عاشق ہر گانوی مرحوم کے زمانے کاپڑوسی کچھ اس طرح کاتھا   ؎
اس کا اندازبھی چہر ہ بھی غزل جیساہے 
وہ پڑوسی مرالگتابھی غزل جیسا ہے 
 نشترخانقاہی کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں کہ    ؎
نہیں کچھ اعتبار اب قفل ودرباں کا کبھی ہم بھی 
پڑوسی کے بھروسے پر کھلاگھر چھوڑ جاتے تھے 
طاہر سعود کرتپوری لکھتے ہیں   ؎
اک پڑوسی رات بھر روتارہا
اک پڑوسی کی خوشی کے واسطے 
سیاسی پڑوسی:۔ 
سیاسی پڑوسی وہ ہوتے ہیں جو سیاسی طورپر ایک دوسرے کے محتاج یا ایک دوسرے کو کاٹ کھانے والے ہوتے ہیں۔ یہ ملک کے اندر بھی سیاسی پارٹیوں اور سیاسی پارٹیوں کے سیاسی ممبران کی شکل میں ہوتے ہیں اور ملک کے باہر وہ ایک دوسرے کے ملکی پڑوسی ہوتے ہیں۔ ان سیاسی پڑوسیوں کااپناجغرافیہ اور ان کی سیمائیں انھیں بہت کچھ اول فول بکنے اور الٹا سیدھا کام کرنے پر اکساتی ہیں۔ کبھی کبھی یہ سیاسی پڑوسی غزہ جیساانسانی المیہ پید اکردیتے ہیں اورایران عراق جیسی ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کی جنگ بھی ان سیاسی پڑوسیوں میں ہوجاتی ہے۔ اٹل بہاری واجپائی ایسے ہی سیاسی پڑوسی تھے۔ وہ سیاست دان ہونے کے علاوہ شاعر بھی تھے۔ ان کاشعر ہے    ؎
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہناہے 
پیارکریں یا وارکریں، دونوں کو ہی سہنا ہے 
اشوج مزاج بدر کایہ شعر بھی لطف دیتاہے، سیاسی پڑوسیوں کے حوالے سے  ؎
ملک ایسے بھی ہیں کچھ خاص پڑوسی اپنے 
سرحدوں پر جو عداوت کی غزل لکھتے ہیں 
غالباً اس شعر میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہوگا۔ محسن آفتاب کا یہ شعر سیاسی پڑوسیوں کے لئے رہنمائی کافریضہ انجام دے سکتاہے۔ کہتے ہیں    ؎
پڑوسی کا بھی حق ہے تجھ پہ اتنا یاد رکھ محسن ؔ
منڈیروں پر چراغوں کو سلیقے سے رکھاجائے 
صداؔ انبالوی کی یہ درد مند صدابھی لڑنے بھڑنے والے ممالک کو سن لینا چاہیے   ؎
کب تک لڑیں گے اپنے پڑوسی سے دوستو
لے دے کے ختم کیوں نہ فسادِ کہن کریں 
مثالی پڑوسی:۔ انسانی سماج میں مثالوں کا امکان بہت ہوتاہے۔ ہم اور ہمارے پڑوسیوں نے بھی ساتھ رہنے کی مثالیں چھوڑی ہیں۔ رضاؔرامپوری کہتے ہیں    ؎
پس دیوار پڑوسی کوئی روتا ہے اگر 
اپنے احساس کادامن مجھے تر لگتا ہے 
خان عتیق آفریدی کہتے ہیں    ؎
گھرپڑوسی کاجلے اور نہ ہو دکھ مجھ کو 
جھول ایسا مرے کردار میں آیا بھی نہیں 
بدرعالم خاں اعظمی نے ایک دنیا کو اپنامثالی سینہ دکھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جس دل میں پڑوسی کادل دھڑک رہاہووہی دراصل مثالی پڑوسی ہے، ان میں ہم بھی شامل ہیں    ؎
یہ ہے ہماری سیاست کہ دل پڑوسی کا
ہمارے دِل میں دھڑکتا ہوا دکھائی دے 
جناب میرؔبیدری نے ہمسائے یاپڑوسی کے لئے جو دعا دی ہے وہ کچھ یوں ہے    ؎
میرؔسلامت ہمسائے کو رب رکھے 
کوئی غم اور آفت اُس کا نہ گھر دیکھے 
پڑوس،اور ہمسایہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنی باتیں کی جائیں کم ہے۔ آئیے، ہم تمام پڑوسی ملک کرایک ایسا سماج اور معاشرہ بنائیں جہاں ہم ایک دوسرے کے غم خوار ہوں۔ کوئی مشکل، کوئی پریشانی، کوئی مصیبت، کوئی مسئلہ ہمارے گلی محلوں سے ہوتاہوا ہمارے گھر تک نہ پہنچے۔ خدایا ہماری مددفرما۔ ہم خواہش مندوں کو مثالی پڑوسی اورپڑوس بننے کی توفیق دے۔ آمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد