بابری مسجدکی شہادت۔ اشعار کے آئینے میںمحمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
بابری مسجدکی شہادت۔ اشعار کے آئینے میں
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
مسجد کی تعمیر کی فضلیت کی بابت بخاری میں حدیث ہے کہ امیرالمؤمنین سید نا عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ جب انھوں نے (منقش پتھر اور چونے سے) مسجد بنوائی تو لوگ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے۔ تب انھوں نے فرمایا کہ میں نے تو نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ”جو شخص مسجد بناے اور اس سے محض اللہ کی رضا مقصود ہوتو اللہ اس کے لیے اس جیساگھر جنت میں بنادیتاہے“ (صحیح البخاری:450)
مسجد کی اہمیت سے غیرمسلم دانشور بھی واقف ہیں۔ جس طرح ہندوستان کے مسلمان مندر وں کی اہمیت سے واقف ہیں، اس کی بے حرمتی کے بارے میں سو چ نہیں سکتے، اسی طرح غیرمسلم دانشور بھی مسجد کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے خدا اور بندے کے درمیان رہنے والے ازلی تاابدی تعلق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ ایک مشکل (مکس) یعنی مخلوط معاشرے میں سبھی مذہبی معبدوں کی ضرورت انسانی ضرورت کے علاوہ انسانی حقوق کے ذیل میں سمجھی جانی چاہیے۔ اردوکی معروف شخصیت پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے ”دہلی کی جامع مسجد“ نامی کتاب لکھی تھی، جو ریختہ پر بآسانی مل جاتی ہے۔لیکن یہ مسجد اور مند رکاتنازعہ دراصل دل کی صفائی نہ ہونے سے ہے۔ جس کی بابتتلوک چند محروم فرماتے ہیں ؎
مندر بھی صاف ہم نے کئے، مسجدیں بھی پاک
مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی
یہ دلوں کی صفائی نہ ہونے کانتیجہ ہے کہ مسجد وں کے دشمنوں نے فسطائی طاقتوں کے ساتھ مل کر ہندوستان میں 6/ڈسمبر 1992ء کوکئی سوسالہ قدیم اور تاریخی بابری مسجدڈھادی، تب اس طرح کی سرخیاں اخبارات میں لگائی گئیں۔ بابری مسجد کا انہدام ”یوم سیاہ“ بھی اور ”یوم ِ فتح“ بھی، اجودھیا میں غم والم کاخاموش ماحول وغیرہ۔ اور جو کتابیں منظر عام پر آئیں، ان میں معصوم مرادآبادی کی ”بابری مسجد آنکھوں دیکھاحال“، بابری مسجد تاریخی پس منظر اور پیش منظر کی روشنی میں، دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڈھ، بابری مسجد کی شہادت اور تعمیر نو(یٰسین اختر مصباحی)، بابری مسجد کا الم ناک سانحہ آل انڈیا ملی کونسل کی جدوجہد (آل انڈیا ملی کونسل دہلی)، وغیرہ جیسی درجنوں کتابیں شامل ہیں۔ لیکن ہم شاعری کی طرف آتے ہیں۔ جس وقت بابری مسجد کی شہادت ہوئی، پورے ملک ہی نہیں سارے عالم میں اس خبر کو اولیت حاصل رہی۔ ساراعالم ہندوستان میں ہونے والے فسطائی ظلم کاگوا ہ بنا۔ تب شعراء کی آنکھوں سے جہاں آنسو نکلے وہیں ان کے قلم بھی رونے لگے۔ مشاہد رضا کے نظمیہ اشعار ہیں ؎
اے قوم کی عظمت کا نشاں بابری مسجد
اب ہم تجھے ڈھونڈیں گے کہاں بابری مسجد
اسلام کی رونق ہے تو، ملت کا اثاثہ
سب پر ہے تری شان عیاں بابری مسجد
ہرقلب ترے واسطے رنجو رہے اس وقت
ہر لب پہ ہے بس آہ وفغاں بابری مسجد
ایواں ترا تعمیر وہیں ہو کے رہے گا
گونجے گی تری پھر سے اذاں بابری مسجد
سات بندوں پر مشتمل فضیل احمد ناصری کی نظم ”اے بابری مسجد“ ایک نہایت ہی موثر نظم ہے۔ اس کایہ بند دیکھیں ؎
لاریب رہی عدل کی میزان بھی تو ہی
تھی ہند کے آئیں کی نگہبان بھی تو ہی
تھی ناقہ ء ملت کی حدی خوان بھی تو ہی
اور ماضیء مرحوم کی پہچان بھی تو ہی
تو زندہ ہراک مومن کامل میں رہے گی
اے بابری مسجد تو مرے دل میں رہے گی
نصر اللہ مہر کی نظم کچھ یوں ہیں ؎
کیاتیرے اونچے گنبدوں پر کفر نے یلغار کی
تو ہی بتا یہ کیا ہوا اسے سجدہ گاہ غازیاں
محراب تھی، منبرتھا، گنبدتھے تیرے مینارتھے
اک پرشکن تہذیب کے چہرہ تھے ترے جسم وجاں
صدیوں تلک تیری زمیں پر عشق نے سجدے کیے
توارتکازِ عشق کی اک داستاں در داستاں
بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہر سال شعراء اور ادباء 6/ڈسمبر کو دعائیہ تقریر وشعری نشستوں کا اہتمام کیاکرتے ہیں۔ایسی ہی ایک نشست میں پڑھے گئے شعر یہاں پیش کئے جارہے ہیں۔ یہ دعائیہ شعری نشست دیوبندمیں ہوئی تھی۔ جس کی خبر7/ڈسمبر 2016ء کو اخبارات اور نیوزپورٹل پر شائع ہوئی ؎
بابری مسجد کی ہم کو وہ شہادت یاد ہے
اس پہ جو ڈھائی گئی وہ بھی قیامت یاد ہے
مان لیں گے جائے پیدائش وہاں اک شرط پر
رام کی تجھ کو جو تاریخِ ولادت یاد ہے(قمرؔ منگلوری)
خدا کے گھر کو گراکر بڑے سکون میں ہے
بشر کی وضع ہے حیوانیت کی جون میں ہے
تجھے بنانے میں ہم جان تک بھی دے دیں گے
حسنؓ حسین ؓ کا جذبہ ہمارے خون میں ہے(اسجد راناؔ)
یوں تو بے حد غم دیے ہیں ہم کو اہلِ کفر نے
بابری مسجد ترا غم بھول پائیں گے نہیں (شادؔ مرغوبپوری)
میری آنکھوں میں ابل کر اک سمندر آگیا
لوٹ کر اس سال پھر جب چھ دسمبر آگیا
تم سمجھتے ہو کہ دنیا میں کوئی بابر نہیں
پھر کہاں جاؤگے گر دنیا میں بابر آگیا(عرشیؔ کلیری)
سانحہ ہم بابری مسجد کا کیسے بھول جائیں
کیوں بھلا ہم اپنے سینے پر وہ نیزے بھول جائیں
ظالموں کے ظلم میں شامل تھیں اپنی غفلتیں
ورنہ کیا پہلے بھی تھیں کافر میں ایسی جرأتیں؟(آفتاب اظہرؔ صدیقی)
مسجد سے مسلمانوں کی بے رخی پر شعراء کرام نالاں ہیں۔اکبر الہ ٰآبادی کا شعر ہے ؎
مے بھی ہوٹل میں پیو، چندہ بھی دو مسجد میں
شیخ بھی خوش رہیں، شیطان بھی بے زار نہ ہو
یہ اور اس جیسی دوسری بیزاری مثلا ً یہ اشعار دیکھئے ؎
دل خوش ہوا ہے مسجد ویراں کو دیکھ کر
میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے(عبد الحمید عدم)
مسجد میں اس نے ہم کو آنکھیں دکھا کے مارا
کافر کی شوخی دیکھو گھر میں خدا کے مارا(شیخ ابراہیم ذوقؔ)
مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر
مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا(ریاضؔ خیرآبادی)
ایک مے خوار اگر خود کویاد ِ خدا میں غرق بتلائے اورمسجد میں مے ومینا کا ذکرنہ ہونے کی بات کرے تو اس سے تناؤ ضرور پیداہوگاکہ مسجد میں مے ومینا کاذکر کیوں ہو، مسجد کو خداکو یاد کرنے کی جگہ ہے۔ مسجد ِ ویراں دیکھ کر کس کافر کا دل خوش ہوگا۔ اس طرح کی باتیں نہیں کی جانی چاہیے تاہم اردو ادب میں ایسی باتیں شعراء نے کہی ہیں اور کثر ت سے کہی ہیں۔ جن میں فرحت احساس ؔکے قبیل کے لوگ بھی شامل ہیں۔ انھیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔خیر ہم بابری مسجد کے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد کادکھ سالم سلیم نامی شاعرکچھ یوں بیان کرتے ہیں ؎
گھنٹیاں بجتی ہیں اب ذہن کے دروازے پر
مسجدیں ٹوٹ رہی ہوں مرے اندر جیسے
اور جس وقت سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے کے ذریعہ بابری مسجد کورام مندر کے چاہنے والے کے حوالے کیاتب اسلامی ادب کے ممتاز شاعر جناب انتظارنعیم نے”فیصلہ“ نام سے 7/اشعار پر مشتمل ایک نظم کہی جس کے اشعار ہیں ؎
گھر خدا کا تین حصوں میں کہیں بٹتا ہے کیا
یہ ستم تاریخ نے پہلے کبھی دیکھا ہے کیا
ایک معبد، اس کابھی ہے، اس کا بھی ہے، اس کابھی
یہ بھی سچ ہے، وہ بھی سچ، ایسا کبھی ہوتاہے کیا
بات دیگر ہے، کوئی جبروستم سے چھین لے
ورنہ گھر رب کا بتوں کو بھی کوئی دیتاہے کیا
گھر خدا کا جو بھی مانگے اُس کو ہم دے دیں نعیم؟
کوئی بتلائے کہ یہ بازار کاسودا ہے کیا
آخر میں پوسد کے اسرا ردانش ؔکے کلام کاذکر کرنا چاہوں گا۔بابری مسجد سے متعلق ان کے صرف دوشعرپڑھ لیں۔ یہ شعری یقین ایمان کی دولت سے ہی ممکن ہے۔ ورنہ بابری مسجد کے حوالے سے ملت اسلامیہ ہند میں مایوسی بہت ہے۔ اسرار دانش ؔکہتے ہیں ؎
یقیں ہے ان کے دل میں الفتِ اسلام آئے گی
زمینِ ہند پہ دانش ؔ ایک ایسی شام آئیگی
ادھورے خواب کی اپنے وہی تعبیر کردیں گے
جنھوں نے ڈھائی تھی مسجد وہی تعمیر کردیں گے
مسجدزندگی اور اردو ادب کا ایک زندہ موضوع ہے۔اسی طرح بابری مسجد کا تذکرہ بھی بھارت کی سرزمین پرجانے کب تک ہوتارہے گا۔اوربابری مسجد اور رام مند ر (جوبن چکا ہے)کے نام پرآئندہ اوربھی کون سی اور کتنی سیاست کھیلی جاتی رہے گی اور کب جاکر یہ ڈرامہ ختم ہوگا کہہ نہیں سکتے۔ بس پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں