پروفیسر حمیدسہروردی کے افسانے، افسانچے، اورنظموں کی مرتبہ کتاب ”پایان“محمدیوسف رحیم بیدری، بید،کرناٹک

پروفیسر حمیدسہروردی کے افسانے، افسانچے، اورنظموں کی مرتبہ کتاب ”پایان“
محمدیوسف رحیم بیدری، بید،کرناٹک 

پبلشر اور ڈسٹری بیوٹر کاغذدکن بیورو گلبرگہ کی جانب سے شائع اور تقسیم ہونے والی کتاب ”پایان“ جس کے مرتب رؤف صادق ہیں۔ جس میں پروفیسر حمیدسہروردی کی منتخب تخلیقات جمع کی گئی ہیں۔ جس کا عمدہ اور علامتی سرورق انجینئر خرم عمادسہروردی نے ترتیب دیاہے۔ سال 2025؁ء کے سرداور آخری مہینہ یعنی ڈسمبر میں شائع ہونے والی اس کتاب کے صفحات 144ہیں۔ اور قیمت 200روپئے مناسب رکھی گئی ہے۔ کتاب میں حمیدسہروردی کے 13افسانے،13افسانچے، 13نثری نظمیں،13شخصی نظمیں اور آخر میں حمیدسہروردی اور رؤف صادق کے کوائف ِ زندگی بھی شامل ہیں۔ شعری اور افسانوی ادب کا یہ مکسچر ”پایان“ کے نام سے منظر ِ عام پر لایاگیاہے۔نثری اور شعری ملغوبہ والی کتابیں آہستہ آہستہ عام ہورہی ہیں اور ایسی کتابوں کو شہرت بھی مل رہی ہے جب کہ ابھی تک کا طریقہ نثر، غیر نثر، افسانہ، اور شعر یا نقد کو علیحدہ علیحدہ شائع کرنے کاتھا لیکن AIکے دور میں ایسا ہی کچھ ہورہاہے کہ سبھی کچھ ایک ہی کتاب میں شامل کیاجارہاہے۔ پایان کا ”جواز“پیش کرتے ہوئے مرتب کتاب لکھتے ہیں کہ ”پیش نگاہ کتاب ”پایان“کاانتخاب دراصل ”اردو اساتذہ اور نئی نسل کے نمائندہ قلمکاروں کے اصرار پر کتاب بند کیاگیاہے“(صفحہ 14) 
اب ہم کتاب کے مشمولات کی طرف آتے ہیں۔ رؤف صاد ق کتاب کے مرتب افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”حمیدسہروردی کے افسانوں میں خود کلامی اور نفسیات کے عناصر بھی نمایاں ہیں۔ یہ فنی حربے نہ صرف کرداروں کے داخلی انتشار کو آشکار کرتے ہیں بلکہ انسانی شعور کی پیچیدگیوں کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ (صفحہ 10)، ایک مقام پرلکھتے ہیں ”سہروردی کے افسانوں میں سب سے نمایاں خوبی مذہبی رجحان اور دیومالائی اساطیر کاعنصر ہے“ (صفحہ 9)،ان کے افسانچوں کے بارے میں لکھتے ہیں ”ان کے افسانچوں کا اختتام ہمیشہ متوازن اور منطقی نوعیت کاہوتاہے۔وہ قاری کو کسی مصنوعی چونکانے کے بجائے فکری سکون یاسوال کی گہرائی میں چھوڑتے ہیں“ (صفحہ 11) آگے رؤف صادق پروفیسر حمیدسہروردی کی نظم کی بابت لکھتے ہیں ”حمیدسہروردی کی نظموں کاعلامتی نظام پیچیدہ ہونے کے باوجود قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ وہ جانوروں اور پرندوں کوبطور علامت برتتے ہیں جیسے کبوتر، طوطا، عقاب، شتر مرغ وغیرہ“ (صفحہ 12) رؤف صادق یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ ”ان(حمیدسہروردی) کے یہاں رومانیت کے رسمی آداب یا غم ِ جاناں کی سطحی روایات موجود نہیں، وہ حقیقی اور ذاتی تجربات کو تخلیقی سطح پر برتتے ہیں“(صفحہ 13) 
جناب سہروردی صاحب نے جن 13افراد پر نظمیں کہی ہیں ان میں جوگندرپال، قاضی سلیم، عصمت جاوید، وہاب عندلیب، عتیق اللہ، صادق (رؤف صادق)، خلیل مامون، احسن یوسف زئی، شاہ حسین نہری، محمدیوسف عثمانی، حامداکمل، معین الدین جینابڑے اور سید اخترکریم شامل ہیں۔ یہ تمام شخصیات ایک دوکو چھوڑ کر تمام کی تمام مہاراشٹر اور کرناٹک سے تعلق رکھتی ہیں۔ شخصی نظموں کے بارے میں کتاب کے مرتب لکھتے ہیں ”ان نظموں کامطالعہ یہ احساس پید اکرتاہے کہ حمیدسہروردی نے اپنے دوستوں، اساتذہ، اور ادبی رفقامیں صرف افراد کو نہیں بلکہ ایک ادبی ورثے کو دیکھا اور اسی ورثے کو اپنے فن کے ذریعہ دوام بخشا“(صفحہ 14)   
افسانہ ”راکھ تلے“ میں سلمی کے خطوط کا ذکر کسی اور سلمیٰ کی طرف قاری کو لے جاتاہے۔یہ ذہنی سفر امکان ہے جان بوجھ کر نہیں ہوگا۔ہم نے جناب سہروردی کوایسا نہیں پایا۔ ”روشن لمحوں کے سوغات“ کے چاروں مرید خاکم بدہن قصہ چہاردرویش کے درویشوں کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔ افسانہ ”شانتی نگر“کاکردار بابوبھائی کے باڑے میں جانا چاہتاہے۔ باڑے اب ختم ہوچکے ہیں۔ اردو ادب کے نئے قاری کے لئے امام باڑا یادرہ سکتاہے۔ اس افسانہ کا اہم جملہ یہ ہے ”یہ بات تو ہے، اب تو ہر ایک کارنگ ہی نرالا ہے۔ اور ہرایک اپنے ہی جھنڈے سے لپٹا ہے“ (صفحہ 31)ہرایک کاتو نہیں لیکن بھگوا جھنڈا ہندوستان کے ہرکونے میں لہراتے اور بل کھاتے ہوئے دیکھاجاسکتاہے بلکہ دودھ والے سے لے کر سیاست دان تک کے کندھوں پر بھگوارومال اسی جھنڈے کی موبائلی تقلید ہے۔  
”پایان“ میں موجود افسانے دراصل افسانوں کے پیچیدہ یا کھردرے یا مذہبی ماحول میں ڈوب کر لکھے گئے ہیں۔ دردمندی کی لہر صاف طورپرمحسوس کی جاسکتی ہے۔تیرہ افسانچے بھی خوب سے خوب تر ہیں۔ افسانچہ ”راستوں سے پرے“کو ایک رومانی افسانچہ کہہ سکتے ہیں۔ وہ سوال کرتاہے کہ ”میراذہن صرف دروازے کے بارے میں سوچتا ہے۔ کیوں؟“ جواب ہے ”میں اس پر غور کرنانہیں چاہتی“ یوسف و زلیخا کی کہانی ہے یا کچھ اور؟ قاری سوچتارہ جاتاہے کیوں کہ تمام افسانچے علامتی ہیں۔ اور علامتوں کوسمجھنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ حیرت تب ہوتی ہے جب کسی افسانچہ کو توڑ کر تین افسانچے بآسانی بنائے جاسکتے ہیں۔ کیا یہ علامتی افسانچوں کی کمزور ی ہے یاعلامتی افسانچہ کوئی امیبا ہے؟ جواب ناقد کو دیناہے۔
افسانچہ ”تھکان“ میں لفظ پرواہ آیاہے۔ شاید وہاں ’پروا‘ آناچاہیے۔ مجموعی طورپریہ خوش آئند بات ہے کہ حمیدسہروردی جیسے معروف افسانہ نگار بھی افسانچہ لکھ رہے ہیں تو یہ صنف افسانچہ کی عین خوش نصیبی ہے۔ ویسے منٹونے بھی افسانچے لکھے لیکن نام مختصر کہانی یاکہانی تھاافسانچہ نہیں تھا۔ نظموں میں ”خاموشی کے بول“ نظم انتہائی مختصر ہے۔ تین سطری یہ نظم بہت کچھ کہنے کی ہمت رکھتی ہے، ملاحظہ کریں   ؎
آنکھوں 
اور جسم سے باتیں کرو
دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں!
حمیدسہروردی کی ان نثری نظموں میں وحشت ہے، دیوانگی ہے، رومانس ہے، بڑھتی ہوئی بھیڑسے ناراضی ہے اور بڑی حدتک تشدد ہے۔ انکار ممکن نہیں۔ اب اگر شخصی نظموں کو دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ سبھی کے ساتھ ایک جیسے جذبے اور حروف نگاری سے کام لیاگیاہے۔ا س قدر ٹھنڈ کہ علم پسند شریف آدمی کے پیسنے چھوٹنے لگیں۔ اور جان حلق یاپھراپنے حلقوں سے باہر نکلی ہوئی آنکھوں میں اٹک جائے۔  
کتاب کے آخری حصہ میں کوائف بھی خوبی سے پیش کئے گئے ہیں۔ پروفیسر سہروردی کے 1980سے2024تک کی 8کتابوں کاذکر کیاگیاہے۔ جس میں افسانے، مضامین، نظمیں اور کلیات نظم وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے فکروفن پر 7رسائل کے خصوصی گوشے بھی ہیں۔ جب کہ ”پایان“ کو ملاکر7 کتابیں علیحدہ سے مرتب ہوئی ہیں جن کے مرتبین میں ڈاکٹر غضنفر اقبال، ڈاکٹر اسلم محبوب خان، واجد اختر صدیقی، ڈاکٹر سید اسرارالحق سیبلی، اور رؤف صادق شامل ہیں۔ جناب سہروردی پر لکھے گئے تحقیقی مقالوں میں دو عدد پی ایچ ڈی، چار ایم فل کے مقالے شامل ہیں۔ جب کہ کتاب کے مرتب رؤف صادق کی غزلیں نظمیں، مضامین، تبصرے اورتجزیہ، ثلاثیاں، افسانچے وغیرہ پر چار کتابیں نوکِ قلم پر لہو، نقش ِ معنی، سہ نوک،اور ہم اپنے تماشائی منظر عام پر آچکے ہیں۔ پایان دراصل رؤف صادق کی پانچویں کتاب ہے۔پایان کے کئی معنی لغت میں ملتے ہیں۔ مثلا ً کنارا، سِرا، ازابتداتا انتہا، خاتمہ، انجام، ہندی میں کہیں تو انت  اور چھور۔ کتاب کے مرتب رؤف صادق اور افسانہ وافسانچہ نگار اور شاعر جناب حمیدسہروردی کو پایان کی اشاعت کی بہت بہت مبارک بادپیش ہے۔ کتاب کی ترتیب اس سلیقہ سے کی گئی جیسے مانو شیلف میں خوبصورت کتابیں رکھی گئی ہیں۔ ہر افسانہ، نظم اور شخصی نظم جیسے ایک بھرپور کتاب ہے۔ وجدان رقص میں آتاہے اس طرح کی سلیقہ مند کتابوں پر۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد