زکوۃ مجیب احمد مجیب

زکوٰۃ

سلیم کو یاد نہیں تھا کہ اُس نے آخری بار نیا لباس کب پہنا تھا۔
شاید اُس وقت، جب زندگی ابھی وعدے نبھانے کا حوصلہ رکھتی تھی۔
اب تو اُس کے کپڑے بھی اُسی کی طرح ہو چکے تھے—
ہر جگہ سے تھکے ہوئے، ہر جگہ سے رفو شدہ۔
کرتے کی آستین سب سے پہلے کمزور ہوئی،
پھر کالر،
اور آخر میں سلیم کی امیدیں۔
شبنم ہر صبح کپڑے سنبھال کر اٹھاتی، غور سے دیکھتی،
پھر سوئی میں دھاگا ڈال لیتی۔
وہ کپڑوں کو نہیں،
قسمت کو سی رہی ہوتی تھی۔
رفو لگاتے ہوئے اُس کے ہونٹ ہلتے:
“کتنی بار جوڑوں؟ کپڑا بھی تھک گیا ہے۔”
یہ جملہ شکایت نہیں تھا،
یہ ایک ہاری ہوئی عورت کی خاموش دعا تھی۔
سلیم سنتا ضرور تھا،
مگر کہتا کچھ نہیں تھا۔
مرد کی خاموشی اکثر اُس کی بے بسی ہوتی ہے۔
گھر میں دو بچے تھے۔
بڑا بیٹا اسکول جاتے ہوئے رکتا اور آہستہ سے کہتا:
“ابّا، سب کے بیگ نئے ہیں…”
چھوٹا خاموش رہتا،
اُسے جواب پہلے ہی معلوم ہوتا تھا۔
سلیم کی نوکری جا چکی تھی۔
سیلز ایگزیکٹو کی پہچان، فائلیں، ٹارگٹ—
سب ایک دن میں ماضی ہو گئے تھے۔
مالک نے آنکھ اٹھائے بغیر کہا تھا:
“اب تمہاری ضرورت نہیں رہی۔”
سلیم نے سر ہلا دیا تھا،
جیسے وہ اندر سے پہلے ہی برطرف ہو چکا ہو۔
بازار اُس کے لیے عذاب بن چکا تھا۔
ہر دکان ایک سوال تھی،
ہر قیمت ایک طعنہ۔
ہم سائے کے گھر سے گوشت کے پکنے کی خوشبو ہر روز سنتے تھے۔
سالن تو نہیں آتا تھا،
لیکن صبح گھر کے باہر ہڈیاں ضرور نظر آتی تھیں۔
عربی کھجور کے بیج،
مچھلی کے کانٹے،
طرح طرح کے پھلوں کے چھلکے—
سب صحن میں آ جاتے،
مگر کچھ گھر کے اندر کھانے کے لیے نہیں آتا تھا۔
ہم اس لیے محروم تھے کہ ہم غریب تھے۔
اور اس لیے خاموش تھے کہ خوددار تھے۔
ہمارا رمضان
ہڈیوں اور پھلوں کے چھلکوں کو دیکھ کر گزر رہا تھا۔
سلیم اکثر سوچتا:
“کاش زکوٰۃ رمضان سے ایک مہینہ پہلے دی جاتی۔
تو میں رِزوان ٹیلر کے پاس کپڑا دے آتا۔
ریڈی میڈ یا تو بڑے ہو جاتے ہیں
یا چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔
ایک مہینہ پہلے کپڑے مل جاتے
تو پورا رمضان خوشی خوشی روزے رکھتا۔
یہ مہینہ یوں دل پر بوجھ بن کر نہ گزرتا۔”
رِزوان ٹیلر رمضان میں کپڑا لیتا ہی نہیں تھا۔
کہتا تھا:
“بھائی، عید کے کپڑے پہلے دو،
ورنہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔”
عید کا دن قریب تھا۔
بازار جگمگا رہے تھے،
گھروں میں پکوانوں کی خوشبو تھی،
مساجد میں تکبیر کی مشق ہو رہی تھی۔
لوگ زکوٰۃ نکال رہے تھے—
زیادہ تر عید کے دن۔
عید کی صبح سلیم کو کچھ روپے ملے۔
کسی غیر نے خاموشی سے تھما دیے۔
مگر روپے عید کے دن کیا کرتے؟
کپڑے کب سِلتے؟
بچے کب پہنتے؟
بچوں کی آنکھوں میں نمی تھی۔
وہ آنسو
سلیم کو اندر سے مار رہے تھے۔
شبنم نے بچوں کے پرانے کپڑے سنوارے،
سلیم نے وہی پرانی قمیص پہنی
جس پر سب سے زیادہ رفو تھا۔
شبنم نے قمیص ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا:
تاقے ہوئے لباس کو پھر کہتی ہو تاک
مجھ سے نہ کر زندگی اتنا بڑا مذاق

یہ جملہ سلیم سے نہیں،
زندگی سے کہا گیا تھا۔
شام ڈھل گئی۔
سلیم واپس نہ آیا۔
پل کے نیچے
اُس کی لاش ملی۔
جیب میں کچھ نہ تھا،
صرف ایک تہہ کیا ہوا کاغذ—
جس پر وہی مصرع لکھا تھا

تاقے ہوئے لباس کو پھر کہتی ہو تاک
مجھ سے نہ کر زندگی اتنا بڑا مذاق

جو شبنم نے کہا تھا۔
وقت گزر گیا۔
بچے بڑے ہو گئے۔
آنکھوں میں باپ کی خاموشی
اب بھی زندہ تھی۔
انہوں نے طے کیا
کہ وہ زکوٰۃ
عید کے دن نہیں،
بلکہ عید سے ایک مہینہ پہلے ادا کریں گے۔
اس لیے نہیں کہ یہ کوئی بڑی نیکی تھی،
بلکہ اس لیے
کہ اُن کے باپ جیسا
کوئی اور سلیم
عید کے دن
پل کے نیچے
برآمد نہ ہو۔
وہ جان گئے تھے
کہ بھوک صرف پیٹ کی نہیں ہوتی،
اور کپڑوں کی کمی صرف جسم کو نہیں ڈھانپتی—
یہ انسان کو اندر سے مار دیتی ہے۔
زکوٰۃ اگر وقت پر مل جائے
تو صرف کپڑے نہیں سِلتے،
زندگیاں سِل جاتی ہیں۔
اور اگر دیر ہو جائے
تو پھر
رفو
صرف یادوں پر رہ جاتا ہے۔

مجیب احمد مجیب

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

*ہلکٹہ شریف میں اعراس شریف کے انتظامات کوقطعیت*-

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

دُخترِ اسدالعلماء کے عقد اور ولیمہ مسنونہ میں سینکڑوں علماء مشائخ اور ایڈیٹر اِن چیف روزنامہ منصف الحاج محمد عبدالجلیل صاحب کی شرکت