اصل سوالات برقرار ہیں: ڈاکٹر ماجد داغیؔ

اصل سوالات برقرار ہیں: ڈاکٹر ماجد داغیؔ

گلبرگہ۔ 26/ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) اردو شاعروادیب ڈاکٹر ماجد داغی نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہا ہے کہ ان کے اعتراضات کسی کی کردار کشی یا ذاتی عناد پر مبنی نہیں بلکہ کلیان کرناٹک ریجنل ڈویلپمنٹ بورڈ(KKRDB) کے فنڈز کے شفاف، منصفانہ اور اصولی استعمال سے متعلق ہیں۔انہوں نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ دستوری اداروں میں بھی شفافیت، غیر جانبداری اور مفادات کے ٹکراؤ جیسے اصول لاگو ہوتے ہیں اور صرف نوٹیفکیشن کو عوامی دستاویز قرار دینا ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کے مترادف نہیں۔ ڈاکٹر ماجد داغی نے واضح کیا کہ سوال اٹھانا جرم نہیں بلکہ اردو ادب، علاقائی قلمکاروں کے مساوی حقوق اور سرکاری فنڈز کے درست استعمال کے لیے ضروری ہے، اور وہ اپنے مؤقف کے حق میں ہر قانونی و اخلاقی فورم پر دلائل اور شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ دیڑھ سال سے گلبرگہ کی ادبی فضا اور خاص طورپر اردو کی فضا اردوادب کے موجودہ بڑے ستاروں کے آپسی ٹکراؤ کی وجہ سے انتہائی مسموم ہوتی جارہی ہے۔ گلبرگہ کوئی دلی اورحیدرآباد جیسا اردو کا وہ گڑھ نہیں ہے کہ اس فضا کی خرابی کااثر بڑے حصہ پر نہ پڑے۔گذشتہ دہائی میں حیدرآباد (دکن) میں مرحوم مجتبیٰ حسین (پیدائش گلبرگہ ضلع)اور صلاح الدین نیر(پیدائش ہمناآباد ضلع بیدر) کے درمیان میں جو چپقلش چلتی رہی وہ کسی ادبی فائدے پر جاکر منتج نہیں ہوئی۔ اسی طرح ماہنامہ شگوفہ حیدرآباد کے مدیراعلیٰ اور معروف اردو رائٹر ڈاکٹر عابد معز کے درمیان جو کچھ بھی چل رہاہے وہ اردو ادب کے حق میں ہرگز نہیں ہے۔ اسی طرح گلبرگہ میں جو کچھ ہورہاہے وہ سیدھے سیدھے شان ِ دکن حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز ؒ کی سرزمین گلبرگہ شریف کی بدنامی ہے۔ہمارا(یوسف رحیم بیدری کا) خیال ہے کہ اختلافات یا شدید مخالفتیں شرفاء اور ادباء میں بھی ہوتی ہیں، لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں۔ ڈاکٹر ماجد داغی ؔ کہہ رہے ہیں کہ وہ قانونی کے علاوہ ”اخلاقی فورم پر بھی دلائل اور شواہد پیش کرنے تیار ہیں“ تو اس کے لئے ملت اسلامیہ ہند کے دردمند دل رکھنے والے احباب آگے آئیں اور اس مسئلہ کو حل فرمائیں۔ خود حضرت علی الحسینی سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز ؒ کو بھی ثالث بنایاجاسکتاہے۔ تاکہ معاملے کو فوری ختم کیاجائے اور جن صاحبین پر الزامات لگ رہے ہیں ان کو بھی ضد چھوڑکر معاملہ کے حل کرنے کی طرف توجہ دینا چاہیے اوراگر انجمن کامعاملہ سامنے آتاہے تو وہاں سے بھی ہٹ جانا یا دونوں فریقین کو ہٹادینا اگر ملت اسلامیہ گلبرگہ درست سمجھتی ہے تو اس کے لئے بھی دونوں فریقین کو تیار رہناچاہیے۔ ورنہ یہ معاملہ مرتے دم تک حل نہیں ہوگا۔ الا یہ کہ اللہ چاہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ گلبرگہ اور دیگر شہروں میں ہونے والے ادبی اختلافات کو خوش اسلوبی سے ختم فرمائے۔ آمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

*ہلکٹہ شریف میں اعراس شریف کے انتظامات کوقطعیت*-

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

دُخترِ اسدالعلماء کے عقد اور ولیمہ مسنونہ میں سینکڑوں علماء مشائخ اور ایڈیٹر اِن چیف روزنامہ منصف الحاج محمد عبدالجلیل صاحب کی شرکت