میرؔبیدری کادکنی شعری مجموعہ ”دکنی۔ دوم“ منظر عام پر

میرؔبیدری کادکنی شعری مجموعہ ”دکنی۔ دوم“ منظر عام پر 
بیدر۔ 29/ڈسمبر (پریس نوٹ) بیدر کی سرگرم اردو تنظیم ”یارانِ ادب بیدر“ کی ایک پریس نوٹ کے مطابق شہر بیدر کے اردو اوردکنی شاعرجناب میرؔبیدری کادوسرا دکنی شعری مجموعہ ”دکنی۔ دوم“ کے نام سے الحمد للہ، آج دوشنبہ کو منظر عام پر آچکاہے۔ میرؔبیدری کے اس شعری مجموعہ کادیباچہ ڈاکٹر منظور احمد دکنی نے لکھاہے۔ ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کے قومی صدر ڈاکٹر سلیم خان، بیلگام کے استاد شاعر ڈاکٹر سید یاسین راہی ؔ، حیدرآباد کے صوفی منش نعت گواستاد شاعر جناب ارشد شرفی، ورنگل کے سنسکرت پنڈت اور اسلامی اسکالر جناب فقیر صابر عالم ؔ اور ملک گیر سطح پر معروف بیدر کی سینئر افسانہ نویس محترمہ رُخسانہ نازنین کی تحریریں ؔؔ”دکنی۔ دوم“ میں شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ ڈاکٹر منظور احمد دکنی سے کی گئی ادبی لیکن دلچسپ مراسلت بھی کتاب کے آغاز میں شامل کی گئی ہے۔ اس سے قبل میرؔبیدری کا پہلا دکنی شعری مجموعہ ”دکنی“ کے عنوان سے منظر عام پرآکر مقبول ہوہی رہاتھاکہ اس کے چھ ماہ بعد ”دکنی۔ دوم“ بھی منظر عام پر آچکاہے۔ جس میں دکنی رباعیات، دکنی قطعات، دکنی دوہے۔ حمد، نظموں میں دکنی بچہ، محرم آیا، پڑوسن پڑوسی، ہمارا پڑوسی، خواجہ فریدالدین انعامدار کے لئے ایک نظم، دکنی اک زندہ زبان، دکنی بیت کے علاوہ 48دکنی غزلیں شامل کتاب ہیں۔ کتاب کے آخر میں دکنی زبان سے متعلق تین بیانات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ایجوکیشنل پبلشنک ہاؤس دہلی سے معیاری کاغذ اور عمدہ ٹائٹل کے ساتھ شائع  128صفحات کی اس کتاب کوالجمیل پرفیومری، رٹکل پورہ بیدر سے حاصل کرسکتے ہیں۔ یاپھر کتاب کے لئے8867818382 پررابطہ کرسکتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد