حضرت علی ؓ کے یوم ِ پیدائش (13/رجب المرجب)پر اُردو اشعار کی کہکشاں محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
حضرت علی ؓ کے یوم ِ پیدائش (13/رجب المرجب)پر اُردو اشعار کی کہکشاں
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
اردو ادب کے شعرائے کرام نے انسانی طبقات کی بڑی بڑی ہستیوں کو اپنے ہاں اچھے نام اور عمدہ خطابات سے یادکیاہے۔ وہ نام چاہے رام کا ہو، گرونانک کاہو یاجیوتی باپھلے کا ہو۔ رام کی بابت علامہ سرمحمد اقبال کہتے ہیں ؎
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند
بسمل ؔ الہٰ آبادی رام کی بابت کہتے ہیں ؎
وہ گھڑی وہ دن، وہ ساعت وہ زمانہ رام کا
چارلفظوں میں کہیں کیوں کر فسانہ رام کا (بحوالہ ”اردوشاعری میں رام۔ از:محمدذاکر حسین)
گرونانک کے بارے میں شاطر حکیمی کہتے ہیں ؎
گرونانک جسے کہتے ہیں وہ اک مردِ کامل تھا
کہ اس کے پاس سینے میں تقد س آفریں دل تھا
شاطر تخلص رکھنے والے ایک اور شاعر شاطرؔ امرتسری کاتخیل ہے ؎
راز قدرت کے خبردار گرونانک تھے
واقف عالم اسرار گرونانک تھے
مہاتما جیوتی باپھلے اردو والوں کے پاس کافی تاخیر سے پہنچے۔ وہ مراٹھی علاقہ کے آزادی سے پہلے(11/اپریل 1827ء تا 28/نومبر 1890ء) کی انقلابی و علمی ہستی تھے جنہوں نے شودروں اور اتی شودروں کے حق میں بڑا کام کیا۔ویکی پیڈیا کے مطابق ان کی وفات 63(شمسی)سال میں ہوئی۔ ڈاکٹر یحی ٰ نشیط نے ان کی ایک مراٹھی نعت کا ذکر کیاہے۔ اس کایہ شعر سماعت کیجئے گا ؎
خدائے واحد کی روح دل میں اس طرح پھونکی
موحد سارے عالم کے ہوئے آپس میں سب بھائی (بحوالہ ”اردو زبان میں چند اہم نامور ہندوشعراء کانعتیہ کلام“ پروفیسر ڈاکٹر جہاں آرا لطفی)ؔ
ہمارے ساتھ جیوتی باپھلے ہیں
میاں دن رات جیوتی باپھلے ہیں
اُنھیں پڑھنا سکھایا،ہوں اَتی شودر
بڑی وہ ذات جیوتی باپھلے ہیں
میرؔبیدری
اور جب ہم اسلام کے خلیفہ چہارم اور دامادِ مصطفیٰ ﷺ حضرت علی ؓ کی طرف آتے ہیں، تو سار ا اُردو ادب ان کے ذکر کے سامنے باادب ہوکر سرجھکائے اور ہاتھ باندھے صف در صف کھڑا ہوجاتاہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ دم مارسکے۔ علم کے باب (دروازہ) حضرت علی شیر ِ خدا ؓ کاذکرخلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام کے درمیان اردو ادب میں سب سے زیادہ ملتاہے۔ اور عقیدت کے کئی رنگوں میں شامل و حلول ہوکر ملتاہے۔ ایک طرف انھیں راہ طریقت کاپیمبر کہاجاتاہے۔کبھی ان کی شجاعت کی بات سامنے آتی ہے۔ اور کبھی دامادِ نبی ء رحمت ہونے سے بھی ان کابابرکت ذکر ہونے لگتاہے۔ دوسری جانب مسلمانوں کے اہم طبقہ ”اہل تشیع“ کی وجہ سے بھی اردو ادب میں حضرت علی ؓ کاذکر ِ خیر بکثرت ہوتاہے اور ہوتارہے گا۔ حضرت علیؓ کی ولادت بابرکت کے موقع پر مختلف شعراء کے چند اشعار پیش خدمت ہیں،ملاحظہ فرمائیں۔ دیوانِ غالب ؔ میں ایک طویل منقبت حضرت علی ؓ کے لئے چچا غالب نے کہی ہے۔ اس کے دوچار اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
مظہر ِ فیض ِ خدا، جان ودلِ ختم رسل
قبلہء آل ِ نبی، کعبہء ایجادِ یقیں
جلوہ پرداز ہو نقش ِ قدم اس کاجس جا
وہ کف ِ خاک ہے ناموسِ دوعالم کی امیں
کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر ازواجب
شعلہ ء شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں
ایک اور مقام پر غالب ؔکہتے ہیں ؎
غالب ؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغول حق ہوں بندگی ء بوتراب میں
مرزاؔچشتی صابری نظامی کاتعلق اُردو کی پہلی مثنوی ”کدم راؤ پدم راؤ“ کی سرزمین بیدر سے ہے۔ موصوف کا روحانی تعلق بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے خانوادے کے پاکیزہ نفوس سے ہردم رہاکرتاہے۔وہ اپنے دیوان ”مراۃ“ صفحہ 94پر کہتے ہیں ؎
من کنتُ کی سند سے خلافت علی ؑ کی ہے
مومن ہے جس کے دل میں چاہت علی ؑ کی ہے
ہر سہ خلیفہ آپ ؑ سے کرتے تھے مشورہ
اللہ رے کیاشان ِ خلافت علی ؑ کی ہے
ایک اور مقام پر موصوف کا مقطع ہے ؎
جو پوچھا عاشق ؔ خواجہ ؒ سے تو کہنے لگے مرزا ؔ
اجی کہہ دو، اجی کہہ دو، علی ؑ کلمے کامعنیٰ ہے (ایضاً۔ صفحہ 103)
جناب ارشدشرفی کا تعلق حیدرآباد(دکن) سے ہے، استاد شاعر ہیں۔ ان کاقطعہ سماعت کیجئے گا۔ وہ کہتے ہیں ؎
عِرفانِ حق وسیلہء غفار ہیں علیؑ
نُورِ نِگاہِ احمدِ مختار ﷺ ہیں علیؑ
ارشد تو وِردِ نادِ علیؑ کرکے دیکھ لے
تیری مدد کو ہر گھڑی تیار ہیں علیؑ
جناب رضی شطاری کا تعلق میرے خیال میں نظام آباد (تلنگانہ) سے ہے(نہیں بھی ہوسکتا) وہ حضرت علی ؓ کے بارے میں بہ زبان ِ شعر رقمطراز ہیں ؎
علی کو علم کادر، دین کی دستار کہتاہوں
علی کو ہرولی کاوالی وسردار کہتاہوں
یہی میر اوطیرہ ہے، یہی میراوظیفہ ہے
علی مولیٰ علی مولیٰ ہزاروں بار کہتاہوں
منظر پھلوری سائل ؔ نے سات اشعار پر مشتمل حضرت علی شیر خدا کی ایک ایسی منقبت کہی ہے جس میں کوئی نقطہ نہیں ملتا۔ اسی کے دواشعار ملاحظہ کیجئے ؎
احمس علی علی ہے،دلاور علی علی
اس واسطے ہے اسمِ مکرر علی علی
سائلؔ کو کردکھائے ہے سلطاں علی کاامر
اس واسطے کرے ہے گداگر علی علی
محمدعارف قادری نے ”امیرالمؤمنین حضرت سید نا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم“ کے عنوان سے جو منقبت کہی ہے، اس کے دوشعر پڑھ لیجئے گا ؎
حسنین کابابا ہے تو زہر ا ؓکا ہے شوہر
دامادِ رسول دو سَرا مولاعلی ہے
حاصل ہیں اُسے دانش و حکمت کے خزانے
اسرارِ پیمبر کا پتہ مولا علی ہے
اکرم تلہری کا یہ مطلع دیکھیں ؎
بزم ِ تصورات میں صورت علی کی ہے
مومن ہے جو بھی اس کو ضرورت علی کی ہے
مہاراشٹر کے شہر بلڈانہ سے تعلق رکھنے والے ریاض انوربلڈانوی ایک کہنہ مشق شاعر ہیں۔ بچوں کے لئے بھی نظمیں لکھتے ہیں۔ ان کے یہ دواشعار حضرت علی ؓ کی سیرت کے گوشوں کو بیان کرتے ہیں، ان کی ایک منقبت کا مطلع اور مقطع کچھ اس طرح ہے ؎
ہواوج کو بھی ناز وہ قسمت علی کی ہے
اصحاب آنجناب میں عظمت علی کی ہے
بچوں میں سب سے قبل وہ ایمان لائے ہیں
انور غضب کی فہم وفراست علی کی ہے
دیگر شعراء کے چند اور اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
نہ مانگنے کی اسے پھر کبھی ہوئی حاجت
جسے حضور کا صدقہ علیؓ کے گھر سے ملا
محمد توکل رضاخاں حشمتی
درِ علوم ِ نبوت ہے ذات مولیٰ کی
تمام علم کی یہ مسندیں علی ؓسے ہیں
عباس عدیم ؔقریشی
گنہگار ہم ذرہء خاک ہیں
محبوب ِ رب پنجتن پاک ہیں
ڈاکٹر ماجد داغی ؔ
ہرکوچہ ء خیال میں ہے یاعلی کی گونج
کرتا ہے نورؔ سارا زمانہ علیؓ علیؓ
سید نورالحسن نورؔ
نہ ہوسکے گی کماحقہ تری توصیف
خمیدہ سر ہیں، زبان وقلم دوات علی ؓ
سلمان رضا فریدی
وہ جس پہ فدا دہر کا ہر ایک ولی ہے
وہ میراعلی، میراعلی، میراعلی ہے
نامعلوم
علی کے لاڈلوں کو مصطفی کی چین کہتے ہیں
علی زادوں کو عاشق پیار سے حسنین ؓکہتے ہیں
خواجہ شایان حسن چشتی
مرحب دونیم ہے سر خیبر پڑا ہوا
اٹھنے کا اب نہیں کہ یہ ماراعلی کا ہے
سید نصیر الدین نصیرؔ
لیکن حواس باختہ ہیں آسماں زمیں
کربل میں جوکھڑا ہے گھرانہ علیؓ کا ہے
میرؔبیدری
ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والے شاعر وادیب میرؔبیدری نے ”حضرت علی ؓ کی شہادت“ کے عنوان سے جوکلام کہاہے، اس کامطلع کچھ یوں ہے ؎
کوئی ناگہاں ہے علیؓ کی شہادت
مگر کن فکاں ہے علیؓ کی شہادت
حضرت میرانیس ؔ نے حضرت علیؓ کی شہادت کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے ؎
سجد ے میں شیر حق کا دوپارہ ہوا جو سر
اک بار کانپنے لگے مسجد کے بام ودر
اُبلا لہو کہ ہوگئی محراب خوں سے تر
اِک زلزلہ سابس ہوا نازل زمین پر
گردوں پہ جبرئیل ؑ پکارا غضب ہوا
سجد ے میں حق کے قتل امیر ِ عرب ہوا
ملت اسلامیہ کی قسمت میں لعل وجواہر ضرورہیں لیکن حضرت علی ؓ جیسا شاید ہی کوئی ہو جنھوں نے شجاعت،دلیری، اپنے علم اور عرفان سے ہر زمانے کومتاثر کیا۔ کہتے ہیں کہ کسی نہ کسی حوالے سے دنیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بابرکت نام لیتی اور محو رقص ہوجائے گی۔اوراُن کاادا تشکر بھی کرتی رہے گی۔ آخر میں یہ بات نئے شعراء کے لئے لکھ رہاہوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عربی کے ممتاز شعراء میں شامل تھے۔ ان کے عربی دیوان کااُردو ترجمہ مل جاتاہے۔
٭٭٭
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں