حالات کی نبض اوراس کی ضرورت کے شاعر حضرت رشید احمد رشید ؔ (40ویں برسی)محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
حالات کی نبض اوراس کی ضرورت کے شاعر حضرت رشید احمد رشید ؔ
(40ویں برسی)
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
حضرت رشید احمدرشید ؔ کی شاعری وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی معنویت میں اضافہ کرتی جارہی ہے۔ ایک زند ہ شاعری غالباً اسی کو کہیں گے کہ وہ حالات کی نبض کو پکڑے رہے اور اس کی ضرورت بنی رہے۔اور اسکے موضوعات ختم نہ ہوں۔ ہمیشہ کام آتے رہیں۔ استاد الشعراء، فخر کرناٹک، اور شاعرحیات حضرت رشید احمدرشید ؔبقول سید شاہ اسداللہ علوی صدر نوائے احباب بیدر ”3/جنوری 1986ء کو استادِ محترم شاگردوں، سخن فہموں اور مداحوں کا ایک بڑا حلقہ اپنے پیچھے چھوڑ کر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ ایک زمانہ ماتم کناں ہوگیا“ (شعری مجموعہ ”الہام ویقین“، صفحہ 12۔اشاعت:ڈسمبر 1988ء)
گویا 3/جنوری 2026ء کی تاریخ حضرت رشید احمد رشیدؔ کی شمسی تاریخ کی40/ویں برسی کا اعلان کرتی ہے۔ اس موقع پر ان کے کلام کاجائزہ لیتے ہوئے احساس ہوتاہے کہ حضر ت رشید ؔ صرف غزل کے شاعر نہیں تھے۔ اور نہ ہی اس کی زلفوں کو سلجھاتے ہوئے دنیا سے چلے گئے۔ وہ ایک باخبر انسان اور اس زمانے کے گریجویٹ تھے۔رشید احمد رشید ؔ نے اپنے بارے میں لکھاہے ”بی اے کے بعد تعلیم ترک کردیناپڑا۔ خاندانی الجھنیں، آپسی نزاعات اور مختلف مقدمہ بازیوں کے سلسلے نے پیچھاکیا۔ کچھ دن تعلیمات میں ملازمت کی۔ پھر محکمہ ء عدلیہ میں تقریباً بیس سال گزرے“(بحوالہ ”لے“ از:محمدیوسف رحیم بیدری، صفحہ 15، اشاعت مئی 2025ء) رشید صاحب لکھتے ہیں کہ ان سے ان کے ایک دوست ڈاکٹر ہاشمی نے پوچھاکہ ”رشید ؔصاحب کل میں حیدرآباد جارہاہوں آپ کے لئے کیالاؤں؟“ان کایہ سوال عجیب سا معلوم ہوااورمیں یہ سوچنے لگاکہ آخر انھوں (ڈاکٹر ہاشمی) نے یہ سوال کیوں کیا؟دومنٹ کے بعد ہی میں نے اِن چارمصرعوں میں یہ جواب دیا ؎
صبح کانور بھی لا، کیفیت ِ شام بھی لا
ہم غریبوں کی صحت کے لئے اک جام بھی لا
اومسیحائی کے بازار میں جانے والے
مرنے والے کے لئے زیست کا پیغام بھی لا
(شعری مجموعہ ”خم ِ ابرو“ صفحہ 8، اشاعت:مارچ 1968ء)
ٍ اس طرح اچانک اشعار کے نزول سے متمتع ہونے والے شاعر حیات حضرت رشید احمد رشیدؔ کیسے ممکن ہے کہ حالات کے نبض شناس نہ ہوں اور حالات کی ادبی ضرورت کو محسوس نہ کرتے ہوں۔ حضرت رشید احمد رشید ؔ کے صرف دو مجموعہ ہائے کلام خم ابر و اور الہام ویقین ہی منظر عام پرآسکے ہیں۔ایک ان کی حیات میں دوسرا حیات کے بعد۔ حضرت رشید کے پہلے مجموعہ کا جائزہ لیں تو وہ ہمیں نظم کے شاعر نظر آتے ہیں۔ اس مجموعہ میں انھوں نے وطن کے نوجوانوں سے اپنی نظم ”نوجوانان ِ وطن سے خطاب“ میں مخاطب ہوتے ہوئے چین سے ہورہی بھارت کی جنگ کے متعلق کہاہے ؎
اے عزیزو، دوستو، پیار ے وطن کے بھائیو
آؤ ہم نیچا دکھائیں خلفشار چین کو
سانس کی گرمی سے طوفانوں کے رخ کو موڑ دیں
پنجہ ء آہن سے سرکش گردنوں کوتوڑ دیں
نوجوانو! امتحاں کاوقت ہے آگے بڑھو
تم جو چاہو آج ہی بے چین کردو چین کو
نظم کا یہ پہلا بند رہا۔ جملہ 6بندوں کی اس نظم کا آخری بند بہت ہی جوش بھردینے والا ہے اور بھارت کے نوجوانوں کوللکارتا ہے ؎
جو جھکا دیتاہے سر، دنیا میں جی سکتا نہیں
ڈر کے جینا، جی کے ڈرنا، مردکو زیبا نہیں
چین کیاگر چین سے بڑھ کر کوئی غدار ہو
جیت حق کی ہے، سدابھارت کا بیڑا پارہو
وہ جو ہے سب سے بڑی قوت ہمارے ساتھ ہے
نوجوانو!لاج بھارت کی تمہارے ہاتھ ہے
ہندوپاک کی جنگ کے بارے میں بھی رشیداحمد رشید ؔ نے 7بندوں پر مشتمل 21/اشعار کی نظم بنام ”برادران وطن سے خطاب“ کہی ہے۔دوسرابند اس شعر پر ختم ہوتاہے ؎
عظمت پہ تیری رشک ہے خود آسمان کو
جنت نشان کہتے ہیں ہندوستان کو
1965ء کے ماہ ستمبر کے آغاز میں پاکستان سے جنگ ہوئی۔کہاجاتاہے کہ 6/ستمبر کو وزیرعظم لال بہادر شاستری نے پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔پاکستان میں فیلڈمارشل محمدایوب خان تھے۔ اس تعلق سے بھی یہ شعر نظم میں ملتاہے ؎
تو نے کیا ہے شاستری کام وہ بلند
ہرایک کی زبان پہ ہے نام تاشقند
مذکورہ نظم کا ساتواں مگر آخری بند دعائیہ ہے۔ اس شعر پر نظم اختتام کو پہنچتی ہے ؎
تاحشر ہند پاک لڑائی نہ ہوسکے
دشمن پھراپنے بھائی کا بھائی نہ ہوسکے
(خم ِ ابرو، صفحہ 51۔ اشاعت:مارچ1968ء)
رشید صاحب کی ایک نظم کاعنوان ہے ”فرزندِ جامعہ سے خطاب“ 25/اشعار پر مشتمل اس نظم کے آخری شعرمیں جو پیغام دیا ہے وہ بھی وطن پرستی کاپیغام ہے، ملاحظہ فرمائیں ؎
زندگی قربان کر ملک ِ دکن کے واسطے
ائے وطن پرور کٹادے سر وطن کے واسطے
نظم ”نوائے وقت“ کا ۲/حصہ بھی غمگساران ِ وطن اور جان نثاران ِ وطن کیلئے ہے۔ پڑھ کر حوصلہ بندھتاہے۔ ایک اور نظم ”نوجوانِ ہند“ (آزادی ء ہند سے پہلے) عنوان سے ہے۔ جس کاآخری شعر کچھ یوں ہے ؎
ہر ایک فتنہ ء باطل کچل کے چھوڑوں گا
دیارِ ہند کی قسمت بدل کے چھوڑوں گا
بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں غربت بھارت میں ہر طرف پھیل چکی تھی۔ اسی غربت کی بناپر شاعروں کی بڑی تعداد خدا کی انکاری ہوتی جارہی تھی اور ترقی پسندوں کی نکل پڑی تھی۔ اس دورمیں غریبی وافلاس ایک ایساموضوع تھا جو تمام طرح کے شعراء کی شاعری میں مل جاتاہے۔ رشید ؔصاحب کی ایک نظم ہے ”غریب“ اس میں وہ خداکو مخاطب کرکے لکھتے ہیں ؎
یہ فرقِ خادم ومخدوم تیرے بندوں میں
ترے خلاف بغاوت ہے خودپسندوں میں
اس نظم میں اللہ سے خطاب سے پہلے تین شعر ہیں، ان میں سے دوسرا شعر اس قدر ادب کی قدروں اور شرافت سے مملو ہے کہ پڑھ کر عش عش کرنے کوجی چاہتاہے۔حضرت رشید ؔ کہتے ہیں ؎
میں جی رہاہوں کہ جینا ہے مرنہیں سکتا
میں ضبط ِ درد کی توہین کرنہیں سکتا
حضرت رشید کے کلام میں درد کابیان بکثرت ہے لیکن انھوں نے زندگی کے درد کو ابدی دُکھ یا پھوڑا بننے نہیں دیا۔ اسی دُکھ اور درد کے درمیان وہ ایک پرعزم زندگی کاپیغام دیتے ہیں۔ نظم ”غریب“ میں بھی غربت سے باہر آنے کاعزم ہے۔ اسی طرح نظم ”حسن ِ مفلس“ میں بھی ایک لڑکی کے دُکھ کی داستا ں بیاں کرتے ہوئے جب نظم اپنے کلائمکس پر پہنچتی ہے تو حوصلہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں ؎
گوکہ تو ہے چشمہ ء غربت کا اک لرزاں حباب
پھر بھی کرسکتی ہے برپا ملک میں اک انقلاب
یہی کچھ پیغام نظم ”نوجوان ِ ہندسے“ میں بھی رقم کیاہے۔ غزل گوشاعرکاامتحان تب ہوتاہے جب اس کو موجودہ حالات پر یا کسی کے انتقال پر لکھنے کے لئے کہاجائے۔ حضرت رشید دراصل ہر میدان کے شہسوار تھے۔ انھوں نے اردو رباعیات کے شہنشاہ جناب امجدؔ حیدرآبادی کے انتقال پر پابند نظم کہی ؎
کیا دوستوں کا ذکر کہ دشمن بھی رام تھا
بخشے خدا کہ شاعر عالی مقام تھا
غالب ؔصدی پرغالب ؔ کے لئے نظم کہی۔ اقبال کی بابت لکھا۔پنڈت نہرو کے انتقال پر بنام ”پنڈت نہرو کی وفات پر“ نظم کہی۔ مخدوم ؔ محی الدین کے انتقال پر ”آہ مخدوم ؔ“ لکھی۔ جان نثار اختر کے انتقال پر ”نذرِ جاں نثاراخترؔ“سیاسی لیڈر جے پرکاش نارائن کے انتقال پر ”آہ!جئے پرکاش“ لکھی۔ سکندرعلی وجد ؔ پر لکھا۔ریاست کرناٹک کی تشکیل عمل میں آئی تو لکھا ؎
ایک اسٹیٹ بنی نام ہوا کرناٹک
دوستی، امن کا، اور آشتی کا پیغمبر
جس وقت کرناٹک اردو اکادمی کی تشکیل عمل میں آئی اس وقت بھی موصوف نے ”اراکین کرناٹک اردو اکیڈیمی سے خطاب“ عنوان سے نظم قلم وقرطاس کے حوالے کرنے مناسب سمجھا۔
حضرت رشید احمد رشیدؔ نے نوجوانوں جیسے ڈاکٹر انجم شکیل احمد، صابرؔرشیدی، توفیق احمد کے لئے لمبی لمبی نظمیں کہیں۔کسی ظہورؔ نامی طالب علم کی کامیابی پر نظم کہی۔اس کے علاوہ ایک نظم ”نئی نسل کے نام“ سے بھی ہے۔ ان نظموں سے پتہ چلتاہے کہ شاعرحیات اور فخر کرناٹک دراصل نئی نسل سے پرامید تھے اور ان کی حوصلہ افزائی کوحالات کی ضرورت سمجھتے تھے۔ ان کی یہ نظمیں حضرت رشید کو ایک باخبراور دل دردمند شاعر کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے وطن ہندوستان سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے شاعرتھے۔ آخر میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ رشید ؔ صاحب نے تحریری طورپر اعلان کیاتھا کہ ”میرے ہاں اور کچھ کلام اشاعت طلب ہے، انشاء اللہ وقت وحالات ساتھ دیں تو شائع ہوجائے“ (بحوالہ ”لے“از:محمدیوسف رحیم بیدری، صفحہ 15)
یہی کچھ بات سیدشاہ اسداللہ علوی نے بھی لکھی ہے، جناب علوی کہتے ہیں ”شیدایانِ رشید ؔ کے علم میں یہ بات لاناضروری سمجھتاہوں کہ استادِ محترم کا بہت سا غیر مطبوعہ کلام ابھی موجودہے جس کی طباعت اس لئے ضروری ہے کہ یہ تلف ہونے سے بچ جائے۔ اگر ہم سب اس عظیم مقصد کے لئے آگے بڑھیں تو ایسے کئی اور مجموعے منظرعام پر آسکتے ہیں۔ آئیے اس بزرگ ہستی کے لئے دعائے خیر کریں کہ جن کی زندگی علم وفن کے لئے وقف ہوچکی تھی“ (شعری مجموعہ ”الہام ویقین۔ صفحہ 13اور 14)
اللہ تعالیٰ حضرت رشید احمد رشید ؔکی مغفرت فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس عطا کرے۔اور جو کلام شائع ہونے سے رہ گیاہے، اس کی اشاعت کا بھی اہتمام فرمائے۔ آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں