دستور پرمنڈلاتے منوکے انسانیت دشمن سائے سید مقصود۔

دستور پرمنڈلاتے منوکے انسانیت دشمن سائے 
سید مقصود۔
صدر راشٹریہ مسلم مورچہ،نئی دہلی۔ حال مقیم۔ ظہیرآباد 
موبائل:9440836492
بھارت کاآئین 26/نومبر 1949؁ء کوپارلیمنٹ ہاوز میں منظوری کے لئے پیش ہوا۔ منظور ہونے کے چار دن بھی نہیں گزرے اس کی مخالفت شروع ہوگئی۔ پورے ملک پر نافذ تو 26/جنوری 1950؁ء کو ہونا تھا۔ نافذ ہونے سے پہلے ہی دستور پر تنقید شروع ہوگئی۔ عام قبولیت کا درجہ حاصل نہ ہوسکا اس دستور کو۔ مخالفت کی کئی وجہ تھی۔تکلیف کس کو ہوئی جو ایسا کیاگیا، ان سب کاجائزہ پیش کیاجارہاہے۔ دستور کے مخالفین کیاچاہتے ہیں۔ 
دستور کے مخالفت کی تاریخ:۔
A۔  بھارت کا آئین 26/نومبر 1949؁ء کو پارلیمنٹ کی منظوری کے لئے پیش ہوا۔ اور منظور کرلیاگیا۔اس چار دن کے نومولو د دستور پر تنقیدیں شروع ہوگئیں۔ آرایس ایس کے دوسرے گرو”گرو گولوالکر“ نے آرایس ایس کے ترجمان ”آرگنائزر“ میں ایک اداریہ لکھا۔ جو 30/نومبر 1949؁ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ 26/جنوری 1950؁ء سے ملک پر نافذ ہونے سے پہلے ہی تنقید شروع ہوگئی۔ گولوالکر لکھتے ہیں ”ہمارا آئین مغربی ممالک کے مختلف آئینوں کے آرٹیکل کا ایک بوجھل مجموعہ ہے۔ اس میں قطعی طورپر کچھ بھی نہیں ہے۔ اسے ہمارا اپنا کہاجاسکے۔ کیااس کے رہنمایانہ اصولوں میں ایک بھی حوالہ موجودہے۔ ہماراقومی مشن کیاہے اور ہماری زندگی میں کلیدی اہمیت کیاہے“اس کے بعدوہ منوسمرتی کی وکالت کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”وہ صحیفہ ہماری ہندوقوم کے لئے منوسمرتی ویدوں کے بعد سب سے زیادہ پوجنے کے قابل ہے۔ اور قدیم زمانے سے ہماری صحافت، رسومات، فکر اور عمل کی بنیاد ہے۔ جس کتاب نے صدیوں سے ہماری قوم کے روحانی اور الہٰیات کو مدون کیا، آج بھی کروڑوں ہندو اپنی زندگی اور عمل میں صدیوں میں جن اصولوں کی پیرو ی کرتے ہیں وہ منوسمرتی پر مبنی ہے۔ آج بھی منوسمرتی ہندوؤں کاقانون ہے“(بحوالہ ویکی پیڈیا) دستور کا انکا رکرنے کی بات، ایک بار کہہ کر خاموش ہوئے، ایسا نہیں ہے۔ ان کی مسلسل کوشش، آج تک جاری ہے۔ اور اس کو حق ثابت کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اور عوامی رائے کی ہمواری کے لئے ان کی کوششیں قابل تعریف کہی جاسکتی ہیں۔ اس سے ان کوفائدے بھی حاصل ہورہے ہیں۔ وہیں مخالفت بھی جم کرہورہی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتاہے کیا
B۔ دستور لاگو ہوکر 100دن بھی پورے نہیں ہوئے تھے، اپریل 1950؁ء کو ریزرویشن کو چیلنج کیاگیا۔ سیلم برہمنا سیوا سنگم نام کی برہمنوں کی تنظیم نے عدالت اور صدرجمہوریہ سے انصاف کی گہار لگائی۔ ریزرویشن برخواست کیاجائے۔ کیوں کہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ نوکری حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا وغیرہ بھارت کے ہرشہری کا بنیاد ی حق ہے۔ مگر اس ریزرویشن کی وجہ سے ایک برہمن نوکری سے محروم ہوگیاتھا۔ کائستھ صدر جمہوریہ راجندر پرساد نے خاموشی سے اس کی تائید کی۔ جس کے نتیجہ میں صرف تین مہینے میں ہی کارروائی مکمل ہوئی۔ 11/جولائی 1950؁ء کو عدالت نے برہمنوں کی تائیدمیں فیصلہ دیا۔ ٹمل ناڈو کے عظیم رہنما، برہمن مخالف تحریک کے بانی ای وی پیریار راماسوامی نے اس کی مخالفت میں تحریک شروع کی۔ جس کی وجہ سے برہمن وزیراعظم پنڈت نہرو اور اس وقت کے وزیر داخلہ سردارپٹیل نے بابا صاحب امبیڈکر جو وزیرقانون تھے، سے مل کر مشور ہ کیا۔ اس کے بعد ریزرویشن کو دستور کی دفعہ 15بنیادی حقوق میں شامل کیاگیا۔ یہ دستور میں پہلی ترمیم تھی، اس طرح ریزرویشن بنیادی حقوق میں شامل ہوا۔ اور مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔ (بحوالہء The History of the Struggle for Social Justice in Tamilnadu، صفحہ نمبر 41، مصنف:کے ویرامنی،صدر DK) C۔ آرایس ایس جو بھارت کے سبھی برہمنوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ برہمن کسی بھی ریاست یا کسی بھی پارٹی یاکسی بھی نظریہ کی نمائندگی کرتے ہوں، ان سب کی ذہن سازی آرایس ایس کرتی ہے۔اس نے آزادی کے52سال میں اپنے ہیڈکوارٹر پر قومی پرچم نہیں لہرایا۔ قومی جھنڈے کے تین رنگوں کومنحوس قرار دیا۔ 52سال تک صرف اپنا ہی جھنڈالہراتے رہے۔ ایک شخص نے ان کے ہیڈکوارٹر پر زبردستی ترنگا لہرایا تو اس پر FIRکرایاگیا۔ آخر کار 2002؁ء میں آرایس ایس کے ہیڈکوارٹر پر ترنگا لہرا کر اپنی پالیسی تبدیل کی۔ اور 2016؁ء میں ہاف پینٹ(چڈی) سے پینٹ میں آگئے۔ کیوں کہ اب وہ چھوٹے نہیں رہے۔ D۔ واجپئی حکومت نے کمال ہی کردیا۔ 22/فروری 2000؁ء میں گیارہ اراکین پر مشتمل جسٹس وی ایم وینکٹ چلیا کمیشن کاگٹھن کیا۔ تاکہ دستور کو ریویو کیاجائے۔ اس نے 31/مارچ 2002؁ء میں رپورٹ داخل کی۔ اور کئی سفارشات کئے۔ جیسے بنیادی حقوق، دستور ی اختیارات، پارلیمانی اور عدالتی معاملات، ریاستوں کے مرکز سے تعلقات وغیرہ۔ اس وقت کے صدر جمہوریہ وینکٹ رمن نے اس کا انکار کیا۔ مانیہ کانشی رام صاحب، بی ایس پی کے سپریمو نے اس کو عوامی تحریک میں تبدیل کردِیا۔ اور جم کر احتجاج ہوا۔ اس وقت کانشی رام نے کہا ”دستور میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اس کو عمل میں لانے والوں کی نیت اور نیتی میں خرابی ہے“۔ باباصاحب امبیڈکر کی اس تقریر کا حوالہ دیا، جو 26/نومبر 1949؁ء کو دستور کانسخہ پارلیمنٹ کے حوالے کی تھی اور کچھ خدشات بھی ظاہر کئے تھے۔ ”آئین چاہے، جتنا اچھا ہو، وہ برا بھی ہوسکتاہے۔ جب آئین کے تحت کام کرنے والے خود اچھے نہ ہوں۔ برخلاف اس کے کسی خراب آئین سے اچھے نتائج نکل سکتے ہیں“اس طرح آئین کے ریویو کی بات ختم ہوگئی۔  E۔ 9/اگست 2018؁ء کو دہلی میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بھارت کے آئین کو جلایاگیا۔ اس پارٹی کانام ہے ”آرکشن وِرُدھ پارٹی (اے وی پی)“ اور آزاد سینا کے کارکنوں نے مل کر یہ کام کیا۔ ضابطہ کی کارروائی ہوئی۔ مگر کیاہوا، اس کیس کااب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ اس کامطلب صاف ہے، کن کوکس کی تائید تھی۔ F۔ مزدوروں کے حقوق ختم کرنے کے لئے لیبر قانون میں تبدیلی کی گئی۔ اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کو ختم کردیاگیا۔ 1991؁ء کے بعد من موہن سرکار نے ایل پی جی (لبرالائزیشن، پرائیوٹائزیشن، گلوبلائزیشن) لاگو کرکے ریزرویشن کوختم کردیا۔ G۔ 17/نومبر 2025؁ء کو پی ایم مودی صاحب نے رام ناتھ گوئنکا یادگار لیکچر دیتے ہوئے کہا”لارڈ میکالے کی 1853؁ء کی تعلیمی پالیسی کو ہم آنے والے دِنوں میں تبدیل کردیں گے۔ اس کامطلب صاف ہے، شودروں کو تعلیم سے محروم کردیاجائے گا۔ اس سے پہلے ان کو پڑھنے کاحق نہیں تھا۔ صرف اعلی ذات کے بچے گروکل میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ شودروں کوتعلیم حاصل کرنا قانوناً جرم تھا۔ کانگریس اور بی جے پی کی سرکاروں نے اپنی تعلیمی پالیسی بنائی، اس سے بچے اسکول تو جائیں مگر تعلیم سے محروم رہیں۔ شودروں کو تعلیم سے روکنے کاایک سازش ہے۔ 
بھارت کادستور بمقابلہ منوسمرتی:۔ بھارت کادستور کیاہے؟منوسمرتی کیاہے؟ دونوں کا تقابل کرکے معلوم کریں گے کہ منوسمرتی کس کے حقوق تلف کرنے، کس کی آزادی چھینے، کس کو غلام بنانے، کس پر ظلم کرنے، تعلیم دیتی ہے۔ اس سے انسانیت کو کچھ فائدہ ہے یانہیں؟ورن ویوستھا (ذات پات کے نظام) کو قائم کرنے کے لئے اور قائم رکھنے کے لئے جس مستعیدی سے منوسمرتی کے سمرتھک (تائیدی) کام کررہے ہیں، ہم کومعلوم ہوتاہے۔ اور یہ کیاکرنا چاہتے ہیں؟”کسی گروہ ِ انسانی کو ترقی کے زینے طئے کرنے والی قوتیں، دولت ِ علم، عزت ِ نفس کاخیال، اور خودداری کے جذبات ہوتے ہیں۔ ایسا قانون بناکر مستقل انتظام کیاگیا، اور ایسے حالات پید اکئے گئے کہ وہ کبھی ان قوتوں کو حاصل نہ کرسکیں۔ اور ان کی ایسی ذہن سازی اور تربیت کی گئی، کہ وہ صرف غلامی کے لئے پید اکئے گئے ہیں۔ اور یہ غلامی بھی خداکاانعام ہے“ (بحوالہ خطبہء صدارت، بہادر یار جنگ، آل انڈیا تبلیغِ اسلام کانفرنس، اجلاس چہارم، منعقدہ 3/مئی 1938؁ء۔ بمقام بمبئی۔ مرتبہ۔ نذیر احمد میونسپل کونسلر چیلاپورہ حیدرآباد۔ صفحہ نمبر 19) 
بھارت کے دستور کامختصر جائزہ:۔ دستو رکی تمہید (Preamble) میں کہاگیا، انصاف، مساوات، سماجی آزادی، بھائی چارہ، اخوت، اس کے بنیادی پتھر ہیں۔ دستور کی عمارت کی بنیاد انھیں پر تعمیر ہوئی۔ ایسا معلوم ہوتاہے، اس کی تشریح کے لئے 25ابواب، 15شیڈول، 395آرٹیکل، 1949؁ء میں بنائے گئے۔ 
منودھرم کا مختصر جائزہ:۔ باباصاحب امبیڈکر کی رائے ”ہندومت دھرم اور قانون میں کوئی فرق نہیں کرتا۔دونوں ایک ہی ہیں۔“(بحوالہ جلد تین، باب نمبر 1۔ ہندومذہب کافلسفہ۔صفحہ نمبر 95۔باباصاحب کی تقریریں اور تحریریں) ہند وفلسفے کے بارے میں باباصاحب نے یوں کہا”ہند وفلسفے کا انصاف کے نقطہء نظر سے تجزیہ کیاجائے تو صاف نظر آئے گا، ہند ودھرم مساوات کا دشمن، آزادی سے نفرت کرنے والا، اور بھائی چارگی کا مخالف ہے“  (بحوالہ جلد تین، باب نمبر 1۔ ہندومذہب کافلسفہ۔صفحہ نمبر 66۔باباصاحب کی تقریریں اور تحریریں) یہ ہے منودھرم، برہمن دھرم، یا ہندودھرم۔ اس کی وضاحت کرنے والی کتاب کانام منوسمرتی ہے۔ وہ کیاکہتی ہے۔ کچھ مثالیں یہاں پیش کی جارہی ہیں۔                                                                   نمبر ایک مثال:۔ باب نمبر ون، شلوک نمبر 87تا 91۔ اس تمام دنیا کے کاروبار چلانے کے واسطے برہمن، چھتری، ویش، شودر، چار ورن مثل جسم کے چارحصوں مکھ (منہ)، بانہہ، پیٹ اور پاؤں سے بنائے۔ اور چارورنوں کے کرم الگ الگ مقرر کئے۔88۔ وید پڑھنا، ویدپڑھانا، یگیہ کرنا، یگیہ کروانا، دان دینا اور دان لینا یہ چھ کرم برہمنوں کے لئے بنائے گئے۔89۔ رعایا کی حفاظت کرنا، دان دینا، یگیہ کرنا، وید پڑھنا (وید پڑھانے کی البتہ اجازت نہیں ہے)، دنیا کی نعمتوں میں دل نہ لگانا۔یہ پانچ کرم چھتریوں کے لئے مقرر کئے۔ 90۔ چارپائیوں کی حفاظت کرنا، دان دینا، یگیہ کرنا، وید پڑھنا، تجارت کرنا، سود لینا، کھیتی کرنا یہ 7سات کام ویش کے لئے مقرر کئے۔ 91۔ شود رکے لئے ایک ہی کرم پربھو نے ٹہرایا ہے یعنی صدق ِ دل سے ان تینوں ورنوں کی خدمت کرنا۔ (بحوالہ ء منوسمرتی، اردو ترجمہ:۔ کرپا رام شرماچکرالوی۔ شائع شدہ:ویدک دھرم پریس دہلی، صفحہ نمبر 16اور 17)ان پانچ اشلوکوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے، برہمن کاکام علمی کام کرنا، چھتریہ جنگ کرنا، راج پاٹ کرنا، ویش تجارت کرکے دھن دولت کمانا، اور شودر ان سب کی خدمت کرنا۔ یعنی ایک شودر ذات میں پید اہونے کامطلب وہ علم، طاقت، حکومت، دولت سے محروم کردیاگیا۔ اسے غلامی کے لئے پید اکیاگیاہے۔ یہ وہ ہے غیرعقلی اور غیرانسانی فلسفہ جو برہما نے خود بنایاہے۔  
دوسری مثال:۔ تعلیم حاصل کرنے پر ان کے لئے سزا ”اگر کوئی شودر وید کوسُنے، یا یاد کرنے کی کوشش کرے، اس کے کانوں میں پگھلتاہوا سیسہ یا لاک ڈال دی جائے۔ اگر وہ وید منتر زبان سے ادا کرے تواس کی زبان کاٹ دی جائے۔ ویدوں کی مکمل نافرمانی کرنے پر اُتر آئے تواس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرناچاہیے“ (بحوالہ جلد 3۔ باب نمبر ایک۔ ہندودھرم کافلسفہ، گوتم سمرتی۔صفحہ نمبر49۔ باباصاحب کی تقریریں اور تحریریں) 
تیسری مثال:۔ بلی، نیولہ، نیل کنٹھ، چڑیا، مینڈک، کتا، چپکلی، الو، اورکاگ کاقتل کرنے پر شودر کے قتل کاکفارہ کرے۔(باب نمبر 11۔ اشلوک 131، منوسمرتی، اردو ترجمہ:۔ کرپا رام شرماچکرالوی۔ شائع شدہ:ویدک دھرم پریس دہلی، صفحہ نمبر442) اس کامطلب یہ کہ منوکی نظر میں شودر کی جان کتے بلی کی جان سے بڑھ کر نہیں ہے۔ شودروں اور اتی شودروں کو نکسلائٹ، اوبی سی اور ایس سیز کو اربن نکسلائٹس، مسلمانوں کودہشت گرد کہہ کر 1947؁ء سے اب تک ہزاروں شودر ماردئے گئے۔ کیوں کہ منوسمرتی کے مطابق ان کا قتل کتے بلی کے برابر ہے۔ گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی نے جولائی 2013؁ء رائٹر کو ایک انٹرویو دیا۔ جب 2002؁ء کے گجرات قتل عام کے بارے میں پوچھا گیاتووزیراعلیٰ نے کہا”گاڑی چلاتے ہوئے ایک کتے کابچہ گاڑی کے نیچے آجائے تو تکلیف ہوتی ہے۔ بات تمثیل کے ذریعہ کہی مگر اس کاصاف مطلب کیاہے قارئین سمجھ سکتے ہیں۔ 
چوتھی مثال:۔ برہمنوں کی عظمت کے بارے میں منوسمرتی کہتی ہے، یہ دنیا دیوتاؤں کے قبضے میں ہے، دیوتا منتر کے قبضے میں ہیں۔ منتر برہمن کے زیر تسلط ہے۔ اسی لئے برہمن ہی سب کادیوتا ہے۔ (بحوالہ ”دلت مسئلہ۔ جڑمیں کون“ انتظار نعیم، ناشر ساہتیہ سربھی دہلی، صفحہ نمبر 103) 
پانچویں مثال:۔ کس ورن کانام کس طرح رکھاجائے؟”برہمن کے نام میں منگل (خوشی)، چھتری کے نام میں بل (طاقت)، ویشہ کے نام میں دھن (دولت)، اور شودر کے نام میں نندا(تحقیر) شامل کرنا چاہیے۔ (منوسمرتی، باب نمبر 3، اشلوک نمبر 31،  اردو ترجمہ:۔ کرپا رام شرماچکرالوی۔ شائع شدہ:ویدک دھرم پریس دہلی، صفحہ نمبر27) 
چھٹی مثال:۔ چنڈال (انتہائی کم درجہ کاشودر)”گاوں کے باہرقیام کرے،اس کی دولت کتے اور گدھے ہیں۔ مُردے کے جسم سے اُترے ہوئے کپڑے پہنے۔ ٹوٹے ہوئے برتنوں میں بھوجن کرے۔ زیور آہنی (لوہے کے) زیب تن کرے۔ہمیشہ گشت کرتارہے(بحوالہ۔ ایضاً۔  اشلوک نمبر50اور 51، باب نمبر 10، صفحہ نمبر 399)آج بڑے بڑے شہروں میں جو سلم بستیاں آباد ہیں، اس میں اکثریت شودروں (ایس سی، ایس ٹی،اوبی سی)، اور مسلمان آباد ہیں۔یعنی منوکاقانون لاگو ہے۔آج کل مسلمان جن حالات سے گزر رہے ہیں اور ان کو مجبور کیاجارہاہے، تاکہ ان کو نئے چنڈال بنایاجائے۔بی شیام سند رکہتے ہیں ”اگر میر اتعلق گزرے ہوئے کل کے اچھوتوں سے ہے تو آپ (مسلمان) آنے والے کل کے اچھوت بننے جارہے ہیں“یہ بات انھوں نے 1970؁ء میں کہی تھی (بحوالہ ”بی شیام سندر۔ ریاست حیدرآباد کے دلت رہنما کی تقریر آل انڈیا مسلم پولیٹیکل کنونشن، منعقدہ 1970دہلی۔بی شیام سندر۔ سوانح حیات۔ مرتبہ:سید مقصود۔اشاعت سمانترا پبلی کیشن حیدرآباد۔ 2017؁ء۔ صفحہ نمبر 111)   
منوسمرتی کی جو وکالت کرتے ہیں، ہندوراشٹر کے نام پر برہمن راج اور اس راج کادستور منوسمرتی کو بنانا چاہتے ہیں۔آبادی کا 85%حصہ  اس قانون کا  شکار بنے گا۔اگریہ مکمل نافذ ہوجائے تو آنے والے دنوں میں ان کاکیا حال ہوگا۔ اسی لئے بھارت کے دستور کو بچانا، ہم سب کافرض بنتاہے۔ ہزاروں سال سے منوواد اور مانوووادان دونظریات کے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ یہ جنگ کبھی رکی نہیں۔ کبھی تیزگام، توکبھی سست روی سے۔ گوتم بودھ کے دور میں ختم ہوئی۔ مسلمانوں کے دور میں کمزور ہوئی۔ اور انگریزوں کے دور میں بڑی تبدیلی آئی۔ ہزاروں سال کی کشمکش کے نتیجے میں شودروں میں بیداری پید اہوئی۔ماڈرن انڈیا میں جیوتی باپھلے، شاہو مہاراج،نارائن گرو، پیریار راماسوامی، کانشی رام اور آج کے دور میں وامن مشرام اس تحریک کی قیادت کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے دور اقتدار میں بھکتی تحریک جو درحقیقت منوواد مخالف تحریک تھی۔ جس میں کبیر، روی داس، چولا میل، نانک، دکن میں گروبسونا، ہر علاقے میں ایسے ہزاروں سنت سارے دیش میں پید اہوئے۔ اورانھوں نے اس منوواد کا قلعہ قمع کرنے کی کوشش کی۔ اگر دستور بچ گیا تو ریزرویشن بھی بچے گا، نمائندگی بھی بچے گی، عزت بچے گی، آزادی رہے گی، اور دین اور دستور بھی قائم رہے گا۔ اسی لئے اس منوکے نظریہ کا شکار ہونے والے ایس سی، ایس ٹی، اوبی سی، مذہبی اقلیتیں، کو ایک جگہ آناپڑے گا۔ اگر صرف مسلمان آپس میں متحد ہوکر کام کریں تو نہیں روکا جاسکتا۔ اس کے لئے ایک ہی منتر ہے ”اتحادبین المظلومین“ منوسمرتی کی تعلیمات اور فلسفہ کو نظر
 میں رکھ کر باباصاحب نے 25/ڈسمبر 1927؁ء کو سرعام منوسمرتی کو آگ لگادی تھی۔حیات ِ نوپاتی ہوئی منوکی سوچ کو ہم سب مظلومین مل کر ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہی یومِ جمہوریہ کاپیغام ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد