مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی کا مدرسہ تحفیظ القرآن آمبور میں خطاب
مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی کا مدرسہ تحفیظ القرآن آمبور میں خطاب
............,.....................................
حضرت تھانوی علیہ الرحمہ سےایک بہت بڑے معروف شاعر حضرت جگر مراد ابادی نے بھی بیعت کی تھی حضرت نے ان کے ا س شعر کو بہت پسند کیا تھا.
مری طلب بھی اسی کے کرم کا صدقہ ہے
قدم یہ اٹھتے نہیں ہیں اٹھائے جاتے ہیں
مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے شہر آمبورکے قدیم ترین اور معروف مدرسہ مدرسہ تحفیظ القران کے سالانہ جلسے سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس شعرکی مصداق ہزاروں لوگ گلی کوچوں میں بے مقصد گھومتے پھرتے نظر اتے ہیں انہی توفیق نہیں ہوتی کہ کلام اللہ سے اپنا رشتہ جوڑیں اس کے برعکس اس پرفتن دور میں معصوم طلبہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کے کلام سے جڑے رہتے ہیں صبح وشام اسے دیکھتے پڑھتے اور یاد کرتے رہتے ہیں یہاں کئی کئی قران ایک دن میں ختم ہوتے ہیں طلبا ایصال ثواب کریں یا نہ کریں اللہ کے فضل و کرم سے قران مجید کا ثواب باقاعدہ متعلقین کو پہنچتا ہے یہ اللہ رب العزت کی بڑی دین ہے بے شک اللہ کے کلام سے ایسا تعلق رکھنے کی توفیق مٹھی بھر لوگوں کو میسر اتی ہے یہ مدرسے اللہ کی زمین میں اللہ رب العزت کی جنت کا نمونہ ہیں جہاں صرف قال اللہ و قال الرسول کی تعلیم ہوتی ہے مفتی صاحب نے فرمایا کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں سوائے تین اعمال کے صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا وہ نیک اولاد جو والدین کے لیے دعا کرے یہ مدارس اور یہاں تعلیم پانے والے بچے اس حدیث پاک کی مصداق صدقے جاریہ کا حسین نمونہ ہیں مولانا محترم نے ان بچوں کی تربیت کرنے والے اساتذہ مدرسے کے قائم کرنے والے حضرات اور اس میں دامے در مے سخنے حصہ لینے والے احباب کی خدمات میں ہدیہ تبریک پیش فرمائی اور کہا کہ دین و دنیا کی کامیابی کے لیے ان مدارس میں بڑا کوئی عہدہ ہی ضروری نہیں بلکہ مہتمم اور اساتذہ سے لےکر مدرسہ میں جھاڑو لگانے والے چپراسی تک یقینا دینی خدمت میں مصروف ہیں اور اللہ رب العزت کے پاس ہرایک خادم بلا تفریق منصب بڑا مقام رکھتا ہے اپ نے بڑے دل نشین انداز میں قران کی اہمیت کو سامعین کے گوش گزار فرمایا اور سب سے اپیل فرمائی کہ مدرسے کی ترقی میں سنجیدگی سے سب اپنا کردار ادا کرتے رہیں اور مدرسہ کے استحکام اور حفاظت کی اس پر خطر دور میں فکر کریں
اولا محمود الحسن طالب علم نے قرآن پاک کی تلاوت فرمای پھرمحمد ایان اورمحمد مشتاق نے حمد ونعت سنای پھرجناب حافظ مولانا امین الدین صاحب مہتمم مدرسہ نے مہمانوں کا استقبال فرمایا اور مدرسے کی رپورٹ حاضرین کے گوش گزار فرمائی مدرسے کے ہونہار طلباء محمد اسامہ محمد افتخارمحمد مزمل اور محمد مستان نے بزبان اردو اور انگریزی بہترین تقاریر فرمائیں اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار فرمایا جناب حافظ مولوی فرقان صاحب نے جلسے کی نظامت فرمائی اور ہدیہ تشکر کی ذمہ داری بھی بحسن و خوبی انجام دی
اراکین مدرسہ اور عمائدین شہر نے جلسے میں شرکت فرمائی امتحانات
میں ممتاز مقامات حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا مدرسے کے صدر
وسرپرست اور اس اجلاس کے صدر محترم مفتی ریاض احمدصاحب قاسمی دامت بر کاتہم کی مقبول دعا سے جلسہ اختتام پزیر ہوا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں