بشیر النساء حیاتی رکن انجمن و قدآور شخصیت کے انتقال کے غم انگیز موقع پر انجمن کی جانب سے کتابوں کی رسم اجراء اردو دنیا کے لیے باعثِ شرم

بشیر النساء حیاتی رکن انجمن و قدآور شخصیت کے انتقال کے غم انگیز موقع پر انجمن کی جانب سے کتابوں کی رسم اجراء اردو دنیا کے لیے باعثِ شرم

کلبرگی  24 / جنوری.     پروفیسر پیرزادہ فہیم الدین  رکن انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا ہے کہ پروفیسر بشیر النساء صاحبہ حیاتی رکن  انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ ایک بلند پایہ علمی، تعلیمی اور قدآور شخصیت کی مالکہ تھیں۔ ان کے انتقال کے غم انگیز موقع پر انجمن کی جانب سے کتابوں کی رسمِ اجراء کے جلسے کا انعقاد پوری اردو دنیا کے لیے باعثِ شرم و افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بشیر آپا کا انتقال صبح آٹھ بجے ہوا، جس کی اطلاع نہایت تیزی سے عام ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود انجمن کی جانب سے گیارہ بجے دن پروگرام کا انعقاد کیا جانا ایسی بے حسی کی مثال ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ واضح رہے کہ مرحومہ کا تعلق گلبرگہ کے ایک معروف علمی و سیاسی خاندان سے تھا۔ ان کے ایک بھائی جناب محمد علی صاحب سابق وزیر اور گلبرگہ کے رکن اسمبلی رہے، دوسرے بھائی پروفیسر ہاشم على صاحب معروف ماہر دکنیات اور انجمن سے وابستہ تھے ، جبکہ تیسرے بھائی معروف قانون دان جناب خورشید علی صاحب جو تاحیات انجمن کے مشیر رہے اور انجمن کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے۔ ڈاکٹر وہاب عندلیب صاحب کی اس پروگرام میں موجودگی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ و مغفورہ کے رشتہ دار بھائی ڈاکٹر وہاب عندلیب صاحب کی اس پروگرام میں موجودگی بھی حیرت کا باعث ہے ۔
       انہوں نے انجمن کی نام نہاد مجلسِ عاملہ کی اس غیر تہذیبی اور غیر اخلاقی حرکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بےحسی کے غماز واقعہ پر شدید افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ 
                انہوں نے پروفیسر بشیر النساء کے وصال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ میں مرحومہ کے حق میں دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد