بیدر کی سیر ڈاکٹر دانش اثری، مئو
بیدر کی سیر
ڈاکٹر دانش اثری، مئو
رات کے جس پہر پورے دن کی روداد قلم بند ہورہی تھی، اسی وقت دماغ کے کسی خانے میں اگلے روز کا پروگرام بھی ترتیب پارہا تھا۔ ادھر روداد مکمل ہوئی اور اُدھر پروگرام بھی فائنل ہوگیا اور خالد پروانہ کو یہ اطلاع بہم پہنچائی گئی کہ کل صبح مابدولت بذریعہ کیب بیدر کے لیے روانہ ہورہے ہیں لہٰذا صبح ہی آنجناب بیدار ہوجائیں اور ہمیں بی ایچ ای ایل (لنگم پلی) پہنچادیں۔ خالد نے کہا کہ صبح ناشتہ کرکے نکلیے، بہرطور پروگرام فائنل اور الارم سیٹ ہوگیا۔ حالانکہ نیند سے اپنی ایسی کوئی خاص بنتی نہیں ہے سو سونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ خیر وقت گزرا اور صبح ساڑھے سات کے الارم پر خالد کو بیدار کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں جو کسی طور آٹھ بجے کے بعد ہی کامیاب ہوپائیں۔ ناشتہ کرکے نکلتے نکلتے کافی وقت ہوچکا تھا۔ لنگم پلی پہنچے تو کیب ندارد۔ اچھا خاصا انتظار کرنے کے بعد آخرکار ایک بس آئی، اب مرتا کیا نہ کرتا، اسی انسانوں کے سیلاب میں بہتی ہوئی بس میں سوار ہونے کی ٹھانی اور خالد کو رخصت کیا۔ یہاں تل دھرنے کا جگہ نہیں تھی پاؤں کیا دھرتے لیکن لوگوں نے دھکے مار مار کر بالآخر ٹھونس ہی دیا اور یوں بیدر کے لیے ہمارا سفر شروع ہوگیا۔ منزل کب آئے گی معلوم نہیں، مسافر نوازوں کی کچھ خبر نہیں (تیلگو ہمیں آتی نہیں) لیکن سفر کی شرط تو ہم نے پوری کردی ہے۔ چوبارہ، مدرسہ محمود گاواں اور پھر بہمنی قلعہ، کچھ آثار ہیں جن سے نہ جانے کیوں ایک عجیب سی انسیت ہے سو ایک نظر تو ڈالنی ہی ہے اور اس کے بعد،،،،، اس کے بعد کیا ہونا ہے وہ تو معلوم ہی ہے۔ ۔۔۔ وہ کوچہ روکش جنت ہو، گھر ہے گھر پھر بھی
بیدر سے میری قلبی وابستگی کا سبب کیا ہے یہ امر تحلیل و تجزیہ کا محتاج ہے۔ اول اول تو معاملہ یوں تھا کہ قیام حیدرآباد کے زمانے میں پرانے قلعوں کو دیکھنے کے شوق کی تکمیل کے لیے بیدر عازم سفر ہوا تھا۔ قلعہ دیکھا، جنگی حکمت عملی کی باریکیاں دیکھیں اور سمجھیں اور واپس ہوگیا۔ یہ ایک مجرد شوق کا شاخسانہ تھا لیکن اس کے بعد نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ دوبارہ بیدر جانے کی خواہش بیدار ہوئی، دوبارہ سفر ہوا، سہ بارہ سفر ہوا اور اس بار بھی چند دنوں کے قیام حیدرآباد کے دوران پھر سے جی للچایا اور پہنچ گیا۔ دراصل انسان نرگسیت پسند ہے اور ماضی، اگرچہ انسان اس سے بھاگنے کی لاکھ کوشش کرلے، کہیں نہ کہیں سے اسے اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ بیدر کا قلعہ دراصل ایک شاندار ماضی کی علامت ہے، ایسا جھروکا جس سے ماضی کی شوکت رفتہ صاف صاف نظر آتی ہے۔ یہ ایسا آئینہ جس میں اگر غور سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں مسلم حکومتوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ بھی دکھائی دیتی ہے۔ 1347 میں اسماعیل مخ کے ذریعہ قائم کی جانے والی یہ سلطنت اپنے پورے دورانیہ میں گرد و پیش کی سلطنتوں سے باہم دست و گریبان رہی۔ پہلے دارالسلطنت گلبرگہ تھا بعد میں چالکیوں کو زیر کرتے ہوئے بیدر پر قبضہ ہوا اور توسیع سلطنت کے سبب دارالسلطنت گلبرگہ سے بیدر منتقل ہوگیا۔ معروف ہے کہ ترک فوجیوں کے ذریعے یہ قلعہ تعمیر کیا گیا اور ایسی حکمت عملی کے ذریعہ تعمیر کیا گیا کہ اسے ناقابل تسخیر قلعوں میں شمار کیا جانے لگا۔ بنیادی طور پر یہ قلعہ چالکیوں کے پرانے قلعے کی توسیع ہی تھا۔ یہ بات میں اس لیے بھی کہہ رہا ہوں کیونکہ چالکیوں کا قدیم قلعہ اسی قلعے کے کیمپس میں ہی موجود ہے۔ پڑوسی ریاست وجے نگر اور سلطنت دہلی سے الجھتے سلجھتے دکن کی اس پہلی مستقل مسلم سلطنت نے ایک سو اسی سال کسی طرح نکال لیے۔ لیکن بالآخر اس کا وقت پورا اور یہ ریاست بھی ٹوٹ ہی گئی۔ نتیجتا سلطنت گولکنڈہ، بیجاپور، احمد نگر، برار اور بیدر کا وجود ہوا۔ خیر تاریخ کے یہ اسباق تاریخ کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ تو میں یہ عرض کررہا تھا کہ فتح دروازے پر بس سے اترا تو سیدھے پیدل ہی بڑھتا چلا گیا۔ چوبارے سے ہوتے ہوئے مدرسہ محمود گاواں پہلا پڑاؤ تھا۔ حالانکہ سب کچھ دیکھا بھالا تھا لیکن اس کے باوجود دل کہاں مانتا ہے۔ اندر داخل ہوا تو ایک سکیورٹی گارڈ تین لوگوں کے ساتھ ایک جگہ سائے میں مجلس جمائے ہوئے تھا۔ کچھ تصاویر کلک کیں اور حسرت سے ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلیمی ارتقاء کی خشت اول کو دیکھتا رہا۔ یہ ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مدرسہ تھا جس میں بیک وقت ایک ہزار طلبہ کی اقامت تھی۔ 3000 کتابوں پر مشتمل لائبریری تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کے قبضے کے بعد حادثاتی طور پر بارودی دھماکے کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا غالبا ایک مینار نے بھی اس حادثے میں جام شہادت نوش کیا تھا۔ عمارت کے باقی ماندہ حصے خستگی کا شکار اور اپنی شوکت رفتہ پر آنسو بہارہے ہیں لیکن *کون سنتا ہے فغان درویش* مینار کی تزئین کاری کے آخری آخری نقوش دم واپسیں کا اشارہ معلوم ہوتے ہیں۔ حسرت کے ساتھ مدرسہ محمود گاواں کو دیکھتے ہوئے نظر سامنے پڑی، لکھا تھا *گاواں چکن شاپ* گالیاں دینا تو خیر شریفوں کا وطیرہ نہیں لیکن آخری درجے کی جو ممکنہ گالیاں ہیں وہ آپ خود تصور کرلیجیے۔ ایک عظیم الشان نائب سلطنت، مدبر، علم دوست علم پرور اور چکن شاپ۔ لاحول و لا قوۃ
مدرسہ محمود گاواں سے ہوکر قلعہ پہنچے اور پھر وہی نظارے اور یادیں۔ اس بار تنہا تھا لیکن بس قلعے کو ایک بار دیکھنا ضروری تھا۔ سو گھومتے پھرتے آخری سرے تک گئے اور گنبد سیاہ پر بیٹھ کر غور و فکر کا ایک سلسلہ۔۔۔ ناگاہ قلعے کے وسط میں نشیب میں واقع بستی پر نظر پڑی، اس سے متصل مندر دکھائی دیا جو اس سے پہلے بھی دیکھا جاچکا تھا لیکن اس کے باوجود دوبارہ یہ سوچنا پڑا کہ آخر اس نشیب کی اصل کیا ہے؟ اور اس نشیب میں بسے ہوئے یہ لوگ کون ہیں اور کیوں یہاں آباد ہیں۔ قلعے میں بیٹھے ہوئے ہی کچھ لوگوں سے استفسار کیا لیکن واضح جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سو یہ سوال آئندہ کے لیے اٹھا رکھا گیا کہ آخر یہ کون ہیں اور یہاں ان کے آباد ہونے کی وجہ کیا ہے؟ سب سے بڑا سوال کہ اس نشیب کی اصل کیا ہے؟ یہ کوئی جھیل تھی یا پھر قدرتی گڑھا یا پھر کسی ضرورت کے تحت اسے کھودا گیا تھا۔ بہرحال اس سوال سے الجھتے سلجھتے معروف افسانہ نگار رخسانہ نازنین صاحبہ کے دولت کدے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں ظہرانے کا انتظام تھا، ظہرانے کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی موضوعات پر تفصیلی ہوگئی۔ تخلیقی ادب پر آرٹیفیشیل اینٹلیجینس کے اثرات اور موجودہ عہد کے تخلیق کاروں کی جانب سے اس کا بے محابا استعمال بھی زیر بحث رہا۔ نئے تصورات و نظریات کے درمیان افادی ادب کی کم ہوتی اہمیت اور تعمیری تخلیق کاروں کو سائڈ لائن کرنے کی کوششوں پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ایک عجیب سی مایوسی پرانے ادباء پر طاری ہورہی ہے۔ بنیادی وجہ تو یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ایک ادیب کا حاصل زندگی اس کی مقبولیت ہی ہے، ادیب کو اس کے سوا نہ کچھ ملتا ہے اور نہ ہی اس کی خواہش ہوتی ہے لیکن پزیرائی کا فقدان ادباء کو مایوس کررہا ہے۔ چیزیں کمرشلائز ہورہی ہیں اور اس کمرشلائزیشن سے پرانے ادباء جڑ نہیں پارہے ہیں یا یہ کہیے کہ ان کا ضمیر اس بات کو گوارہ نہیں کررہا ہے سو کنارہ کشی ہی آخری حل نظر آرہا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی حل نہیں، کوششیں جاری رہنی چاہیے اور سنجیدہ تعمیری پہلو کی تشکیل کرنے کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قلعے میں بیٹھے ہوئے ہی بیدر کے نوجوان قلم کار سید راشد احمد کی کال آئی اور پوچھنے لگے کہ *آپ بیدر آئے ہوئے ہیں؟* میں نے کہا کہ جی، انھوں نے ملنے کی خواہش کی اور ظہرانے کی پیش کش کی لیکن چونکہ وعدہ تھا سو ان سے معذرت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ فراغت کے بعد ملاقات ہوگی۔ رخسانہ نازنین صاحبہ کے یہاں سے نکلتے ہوئے انھیں کال کی اور آخر چند لمحوں میں ہی چوبارے میں ان سے ملاقات بھی ہوگئی۔ علیک سلیک اور حال احوال کے بعد راشد صاحب نے واپسی کے بارے میں پوچھا، ظاہر سی بات ہے واپسی کا وقت ہوچکا تھا سو نکلنا ہی تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر وقت ہوتا تو میں آپ کو کچھ ادباء سے ملاتا، ہماری زندگی کا مدار و محور یہی اہل ادب ہی تو ہیں، ان کے علاوہ زندگی کا کہیں تصور ہی کہاں ہے؟ سو ارادہ تبدیل کرتے ہوئے آمادگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے فورا موبائل نکالا اور یوسف رحیم بیدری صاحب کو کال کی، ان سے وقت لیا اور مجھے بائک سے لے کر ان کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ یوسف صاحب بذات خود علیل چل رہے ہیں (اللہ انھیں مکمل صحت و عافیت سے رکھے۔)لیکن اس کے باوجود انھوں نے نہ صرف ملاقات کے لیے وقت نکالا بلکہ انتہائی گرمجوشی سے استقبال کیا اور آنا فانا کچھ ایسے انتظامات کیے کہ میں تو دنگ رہ گیا۔ چائے کے ساتھ گفتگو شروع ہوئی ایک بار جب گفتگو شروع ہوجائے تو وقت کا اندازہ کہاں ہوتا ہے۔ یوسف صاحب کو حیرت اس بات پر تھی کہ آپ یہاں آتے ہیں اور تفریح کی غرض سے آتے ہیں اور بغیر کسی سے ملے چلے جاتے ہیں۔ میں خود سوچ رہا تھا کہ اس کی مناسب توجیہ کیا ہوسکتی ہے لیکن جواب خود میرے پاس بھی نہیں تھا۔ مئو کے نام پر وہ پھڑک اٹھے اور ڈاکٹر شفیق اعظمی کا نام لیا۔ بتانے لگے کہ سعودی عرب میں ان کے ساتھ تعلقات رہے اور اچھے رہے۔ ادبی نشستوں میں، مختلف پروگراموں میں ملاقاتوں کا ایک سلسلہ جاری رہا۔ آپ بذات خود ایک خوش ذوق شاعر اور بہترین افسانچہ نگار ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ تنقیدی مضامین بھی لکھتے ہیں۔ شاعری کا ذکر آیا تو انھوں نے کچھ اشعار سنانے کی فرمائش کی۔ اپنے اشعار کیا سناتا، فضا ابن فیضی کے کچھ اشعار سنائے جو انھیں پسند آئے۔ صحافت کی بات نکلی تو ادبستان کا ذکر خیر آگیا، ادبی رسائل کے مسائل پر خاصی طویل گفتگو ہوئی۔ ادب کی بات جب بھی نکلتی ہے تو رسہ کشی اور کھینچ تان کا ذکر ناگزیر ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس ذکر سے دل گرفتگی کے سوا کیا ملتا ہے۔ ادبستان میں شائع ہونے والے بیدر کے ارباب قلم کا ذکر خیر ہوا۔ اسپانسر شپ کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی اور یوسف صاحب نے کچھ بہترین مشوروں سے نوازا۔ چونکہ وقت کی قلت تھی لہٰذا آنجناب سے اجازت طلب کی گئی لیکن انھوں نے روکا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ نہ صرف میرے لیے نیا بلکہ غیر متوقع تھا۔ اس مختصر ہی سے وقفے میں آنجناب نے خاکسار کی گل پوشی اور شال پوشی کا انتظام کررکھا تھا چنانچہ یہ رسم بھی ادا ہوئی۔ دل ممنونیت کے جذبات سے لبریز ہوگیا۔ نہایت شفقت کے ساتھ رخصت فرمایا۔ راشد صاحب ساتھ ہی تھے۔ نشانہ تو نئی کمان تھا کہ وہاں سے کیب لے کر حیدرآباد نکلا جائے لیکن راشد صاحب کی ضد تھی کہ ایک چائے اور ہوجائے، آخرکار سلیمانی چائے (بلیک ٹی جسے اہل بیدر ڈکاشن یا اس سے ملتے جلتے کسی نام سے یاس رکھتے ہیں) پر اتفاق ہوا اور ہم لوگ وہاں سے درگاہ پورا سے ہوتے ہوئے چائے خانے پہنچے۔ بیدر کی بہترین چائے نوش جان کرنے کے بعد نئی کمان سے کیب لے کر حیدرآباد کے لیے عازم سفر ہوئے۔ اندازہ یہ تھا کہ کیب سیدھے بی ایچ ای ایل جائے گی یا پھر مہدی پٹنم لیکن ہوا یہ کہ کمبخت دونوں کے درمیان سے نکلی۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ گچی باؤلی سے گزرتے ہوئے میں یہیں اتر جاؤں گا۔ لیکن کیب ڈرائیور نے نہ جانے کدھر سے کدھر گھمایا کہ ملکم چیروو پہنچ گئے۔ میں نے اس سے کہا بھائی یہیں اتار دو، ابھی یہ بھی غنیمت ہے۔ خیر وہاں سے آٹو لے کر یونیورسٹی روانہ ہوگیا۔ بیدر کا یہ سفر کئی اعتبار سے نہ صرف خوشگوار بلکہ حیرتناک رہا۔ گزشتہ آٹھ سالوں سے بیدر سے ایک تعلق خاطر رہا ہے لیکن اس بار کے سفر نے جو لطف دیا وہ واقعی منفرد تھا۔ مجھے اب افسوس ہوتا ہے کہ پچھلے اسفار میں میں نے وہاں اہل ادب سے ملنے کی کوشش کیوں نہیں!!! اخلاق و محبت کی فراوانی کے ساتھ اہل بیدر آج بھی اپنی پرانی قدروں کے دل دادہ ہیں۔ اس کے لیے میں سوائے شکریہ ادا کرنے کے اور کیا کرسکتا ہوں کہ ادب اور ادیب کی ساری پونجی الفاظ کی ہوتی ہے۔ بہت شکریہ شکریہ یوسف رحیم صاحب، رخسانہ نازنین صاحبہ اور سید راشد احمد صاحب۔
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
ڈاکٹر دانش اثری، مئو
9236741905
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں