غزل میر بیدری، بیدر، کرناٹک
غزل
میر بیدری، بیدر، کرناٹک
خاکہ ایسا بھی اک جناب ہوا
میرا تم سے بچھڑنا خواب ہوا
جن کی صورت نگاہ ناز بنی
واسطے اُن کے بے نقاب ہوا
جسم اس کا تو بھگوا اوڑھے تھا
دل میں کیسے ہرا نصاب ہوا
کس کی آنکھوں میں ڈوب کے بیٹھے
میکدہ سارا ہی شراب ہوا
فاصلہ پیاس نے بڑھایا تھا
تپتی تھی ریت ، سب سراب ہوا
جب ادا کاریاں نہ آئیں میر
ساتھ اس کے میں ہی خراب ہوا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں