*استقبال رمضان**ڈاکٹر مفتی تمیم احمد، چیرمین، تنظیم فروغ اردو، تمل ناڈو (انڈیا) 9444192513
*استقبال رمضان*
*ڈاکٹر مفتی تمیم احمد، چیرمین، تنظیم فروغ اردو، تمل ناڈو (انڈیا) 9444192513*
*نحمده ونصلى على رسوله الكريم*
*استقبال رمضان کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تمام ہدایات پر عمل کیاجائے۔1.سب سے اپنے رب کا شکریہ ادا کریں کہ اس نے ایک مرتبہ پھر ہمیں رمضان المبارک کی تیاریوں کا موقع عنایت فرمایا۔ ورنہ کتنے ہی لوگ ایسے تھے جنہوں نے گزشتہ سال ہمارے ساتھ افطاری، سحری، تراویح، اور روزے وغیرہ رکھے تھے، مگر وہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اللہ نے ہم پر فضل فرمایااورایک مرتبہ پھر رمضان کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ تو اپنے رب کا خوب خوب شکریہ ادا کریں (سورہ ابراہیم) ترجمہ تم جتنا شکر اللہ کا ادا کرو گے تمہیں اتنا ہی عطا فرمائےگا۔2.رمضان شروع ہونے سے پہلے سچے دل سے اپنے پچھلے تمام گناہوں پر شرمندہ ہوتے ہوئے ایسی توبہ کریں، جیسی توبہ کرنے کا طریقہ اللہ تعالی نے ہمیں بتایا ہے ارشاد ربانی ہے(سورہ تحریم ۸) ترجمہ.اے ایمان والو! اللہ کی طرف خالص سچی توبہ کرو۔اور ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ(ابن ماجہ) سچی توبہ کرنے والا گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ہو۔ لہذا رمضان شروع ہونے سے پہلے سچی توبہ کریں۔3.آمد رمضان المبارک سے پہلے خوب اچھی اچھی نیتیں کرلیں کہ میں رمضان میں پورے روزے رکھوں گا، مکمل پوری تراویح پڑھوں گا، سحری و افطار کی بھی برکتیں حاصل کروں گا ،قرآن شریف کی روزانہ تلاوت کروں گا اور جھوٹ، غیبت، چغلی، تکبر، حسد، اور تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے بچتا رہوں گا۔ اسکے علاوہ اور بھی خوب اچھی اچھی نیتیں کرلے کیونکہ حضورﷺ کا فرمان ہے “نية المومن خيرمن عمله”( شعب الایمان) یعنی مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے.3.اس رمضان المبارک کی تیاری کو اس انداز سے کریں کہ ہو سکتاہے کہ یہ میری زندگی کا یہ آخری رمضان ہو، پتا نہیں اگلا رمضان یا یہ رمضان پورا کرپاؤں گا کہ نہیں۔ اس لیے جتنا ہوسکے خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کریں اور اپنی موت کو ہر پل یاد کرتے ہو ئے رمضان المبارک گزاریں۔ حضورﷺ کا فرمان ہے لذتوں کو ختم کردینے والی موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو۔4.رمضان شریف کے آغاز سے پہلے ایک قرآن شریف کی پاروں والی پیٹی لے لیں تاکہ گھرمیں سب کو قرآن شریف کی تلاوت میں آسانی رہے اور اگر اپ اردو جانتے ہیں تو(ترجمہ قرآن) اور اردو نہیں جانتے ہیں تو انگریزی والا ترجمہ قرآن لے لیں اور کم سے کم روزآنہ ایک رکوع قرآن شریف مع ترجمہ اور تفسیر پڑھیں اور کوئی مختصر کتاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر بھی خرید لیں اور تھوڑی تھوڑی روزانہ سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھیں۔5.اور اس بات کا بھی خیال رکھیں، اپنے مال کا حساب شعبان ہی میں لگا کر شعبان یا رمضان کی ابتدا میں ہی زکوۃ ادا کردیں۔ تاکہ غریبوں کے بھی رمضان صحیح طریقے سے گزریں(سورہ توبہ ١۰٣) یعنی آپ ان کے مالوں سے زکوۃ لیجئے جس کے ذریعے آپ انکو پاک کریں گے6.رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہی اپنے گھروں کی خوب اچھے سے صاف صفائی کرلیں جس طرح کوئی مہمان آتاہے تو ہم اپنے گھروں کو صاف ستھرا کر لیتے ہیں۔ اسی طریقے سے آمد رمضان پر بھی صفائی کا اہتمام کریں (سورہ بقرۃ 222) بےشک اللہ توبہ کرنےوالوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔7.اور ہاں رمضان المبارک سے پہلے ہی رمضان المبارک کے لیے اپنا نظام الاوقات یعنی ٹائم ٹیبل سیٹ کرلیں۔ کب کیا کرنا ہے؟ تاکہ ماہ مبارک میں کسی طرح کی کوئی دقت نہ آئے۔ اور رمضان کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہوپائے۔8رمضان المبارک کی اس تیاری کو تو ہم میں سے زیادہ تر لوگ کرہی لیتے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ رمضان کا راشن خریدنا لیکن اس بار جب آپ اپنے گھر میں رمضان کا راشن بھریں تو خصوصاً اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں...۔اس مہینے میں کچھ زیادہ ہی رونق ہوتی ہے اور سحری تک یہ رونق برقرار رہتی ہے، دن میں خاصا سناٹا ہوتا ہے اور ایک پرسکون سا ماحول بنا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کےدفاتر کے اوقات میں بھی معمولی تبدیلی اور کام کاج کرنے والے لوگ بھی اس مہینے میں اپنے معمولات میں رد و بدل کر دیتے ہیں تاکہ رمضان کے روزے اچھے اور پر سکون گزریں۔ اسکول کالج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات بھی آپنے تعلیمی مشاغل کے ساتھ رمضان المبارک کا خاص خیال رکھیں۔فرض نمازیں روزے وغیرہ کہی چھوٹ نہ جانے۔شوشل میڈیا انٹرنیٹ موبائل وغیرہ کا کم استعمال کریں۔زبان کی نظروں کی حفاظت کریں۔مساجد بھی نمازیوں سے بھر جاتی ہیں، خاص طور پر رمضان کے آخر عشرے میں یہ روح پرورفضاء قائم ہوجاتی ہے جس میں شبینہ کی محفلیں، عبادات و اذکار اور روشنیوں کی چکا چوند میں نہائی ہوئی مساجد کے خوبصورت نظارے اس مہینے میں ایک خاص دینی روحانی اور ملی جذبے سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ رونقیں عید کا چاند دیکھنے کے بعد ماند پڑجاتی ہیں جس کا انتظار گیارہ مہینے کیا جاتا ہے۔الغرض رمضان ایک ایسا مہینہ ہے کہ انسان کی کیفیات پر اثر انداز ہوجاتا ہے اور خدا کی بندگی میں انسان کی یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ صحیح معنوں میں عبادت کی حلاوت کو محسوس کرتا ہے اور جب انسان کو تقوی حاصل ہوجائے تو خدا کی عبادت، اطاعت اور فرماں برداری میں لذت بھی* *محسوس ہوتی ہے۔حضور اکرم ﷺ نے شعبان کے آخری ایام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کر کے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں رمضان کی عظمت و برکت کو بیان کیا اور یہ بھی فرمایا کہ اس ماہ مبارک میں ایک ایسی رات بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس ماہ مبارک کا روزہ اللہ تعالی نے فرض کیا ہے اور اس کے قیام کو سنت موکدہ بنایا اور نفل کو فرض اور فرض کو ستر فرض کے برابر قرار دیا ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے جس کے بدلے جنت ہے اور یہ ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے اور اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ میں یہ مضمون وارد ہے کہ “ہر چیز کی زکوۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے۔”یوں تو مکمل رمضان رحمتوں و برکتوں کا مجموعہ ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ اولی کو رحمت، عشرہ ثانیہ کو مغفرت اور عشرہ آخرہ کو جہنم سے خلاصی کا مہینہ قرار دیا ہے۔ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ “ساری عبادتوں کا دروازہ روزہ ہے۔” دیکھا جائے تو روزہ ایک با مشقت سی عبادت ہے کہ انسان کئی گھنٹے تک محض خداوند کی خوشنودی کے لئے بھوکا اور پیاسا رہتا ہے تو ظاہری و باطنی طور پر اس کے اثرات اس پر اثر انداز ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا دل منور ہوجاتا ہے اور پھر عبادت کی رغبت پیدا ہوجاتی ہے۔ مگر یہ تب ہوتا ہے کہ جب آپ کا روزہ صرف برائے بھوک اور پیاس نہ ہو بلکہ اللہ کی رضامندی کے لئے ہو اور اس کو عبادت سمجھ کر رکھا جائے۔حضورﷺ نے فرمایا کہ رمضان میں چار چیزوں کی کثرت کرو۔ دو باتیں ایسی ہیں کہ تم اس کے ذریعے اپنے رب کو راضی کروگے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ تم ان سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ پہلی دو باتیں “ایک لا الہ الااللہ کی گواہی دینا اور استغفار” اور دو چیزیں جن سے بے نیاز نہیں ہوسکتے “اللہ سے جنت میں داخلے کا سوال اور جہنم سے اللہ کی پناہ مانگنا ہے۔”رمضان کے بقیہ معمولات کے ساتھ ساتھ حضورﷺ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اعتکاف فرماتے تھے اور یہ حضورﷺ کی مستقل سنت تھی۔ صحابہ کرام کو بھی اس کی تلقین کرتے۔ اعتکاف کے بارے میں بہت سے فضائل حدیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں اور حضور سے اس سنت پر ہمیشہ عمل بھی ثابت ہے۔ ایک سال حضور سفر پہ تھے تو رمضان کا اعتکاف نہ کرسکے، اگلے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایاحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس دن اعتکاف کیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔الغرض ایسا مبارک مہینہ ہے کہ انسان اگر ایک مہینہ ان نیک اعمال پر مداومت اختیار کرتا رہے تو اس کے لئے رمضان کے بعد بھی عمل کرنے میں آسانی ہوتی ہے لیکن اس کو بدبختی کہیئے یا کچھ اور کہ رمضان کے بعد ان اعمال میں سستی پڑجاتی ہے اور عید کے دن ظہر سے ہی مساجد ویران ہوجاتی ہیں۔ جہاں ایک مہینہ بہت سے اعمال کئے ہوتے ہیں وہیں ان کو اس قدر بےقدری سے ترک کردیا جاتا ہے کہ جیسے ایک مہینہ یہ اعمال بوجھ بن کر سر پہ سوار تھے، خدا کی پناہ۔۔گویا کہ ہم “ایک مہینے کے مسلمان ہیں” اور وہی کام دھندے پھر سے شروع کردیتے ہیں جس کو ہم محض رمضان میں کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو سوچیئے کہ رمضان میں کئے گئے اعمال کا کیا ہوگا؟ اور اگر آپ رمضان کے بعد بھی وہی اعمال کرتے ہیں اور وہی کیفیات آپ کے دل و دماغ پہ چھائی ہوئی ہیں تو سمجھئے کہ رمضان کا مقصد حاصل ہوگیا۔ یہ چند باتیں تھیں جن پر رمضان المبارک سے پہلے اگر ہم عمل کریں تو ان شاء اللہ تعالی رمضان کی عبادت میں چار چاند لگ جائے گا ۔اللہ تعالی ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔ عالم اسلام کے مسلمانوں کی خصوصاً فلسطین سوڈان اور دیگر مظلوم ملکوں کی مدد و نصرت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین*
*( حوالہ : منتخب مضامین)*
*شعبہ نشرواشاعت۔انجمن قاسمیہ پیری میٹ چنئی ٹمل ناڈو (انڈیا)*
*drthameemahmed786@gmail.com*
*anjumanqasimiyah@gmail.com*
*+919444192513*
*+919940251340*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں