روزہ اور صوفیائے کرام مرزا چشتی صابری نظامی، بیدر۔ کرناٹک۔
روزہ اور صوفیائے کرام
مرزا چشتی صابری نظامی، بیدر۔ کرناٹک۔ موبائل:8296162678
اللہ تعالیٰ قرآن مجیدفرقان حمید میں فرماتاہے ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں“ حضوراکرم ﷺ کا ارشادہے کہ جبرائیل نے مجھے خبردی ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے، روزہ میرے لئے ہے اورمیں خود ہی اس کی جزاء دوں گا۔ کیوں کہ یہ وہ باطنی عبادت ہے جس کاظاہر سے کوئی تعلق نہیں اور غیرکااس میں قطعاً کوئی حصہ نہیں۔ اور اس کی جزاء بے حدو حساب ہے۔ فرمایاگیا ہے کہ روزے کے عوض بہشت میں ہمیشہ کاقیام نصیب ہوگا۔
حضرت خواجہ جنید ؒ نے فرمایا ”روزہ آدھی طریقت ہے“ یہ بھی فرمایاکہ بعض مشایخ ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں۔ اور بعض ماہ ِ رمضان کے۔ بعض بزرگان روزہ رکھتے ہیں لیکن کسی کومعلوم ہونے نہیں دیتے۔ بعض ایسے بھی مشایخ ہیں جو ایام بیض (یعنی ہرماہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ) اور محرّم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں۔ بعض رجب، شعبان اور رمضان تینوں مہینوں کے روزے رہتے ہیں۔ بعض بزرگان صومِ داؤد (اس میں ایک
دن روزہ رکھ کردوسرے دن افطا ر کیاکرتے ہیں) رکھتے ہیں۔ روزہ درحقیقت نفس کو روکنے کانام ہے اور طریقت کے جملہ اسراروروموزاسی میں پوشیدہ ہیں۔ روزہ میں کم ترین درجہ بھوک کاہے۔(یعنی روزہ داروں میں کمترین درجہ ان لوگوں کا ہے جومحض بھوکار ہنے کو روزہ سمجھ بیٹھے ہیں) اور یہ درجہ بھی اس لئے دے دیاجاتاہے کہ ”بھوک زمین میں اللہ کاکھانا ہے“اور یوں بھی بھوکا رہنا ہر جگہ قابل ستائش خیال کیاجاتاہے اور شرعی اور عقلی نقطہء نظر سے اسے پسندیدہ قرار دیاگیاہے۔
پس روزہ کی فرضیت ایک ماہ کے لئے ہے اور یہ حکم ہر بالغ وعاقل مسلمان پر عاید ہوتاہے جو صحت مند اور مقیم ہو۔ روزہ رکھنے کی متعددشرائط ہیں (جن کی پابندی کے بغیر روزہ، روزہ نہیں کہلایاجاسکتا) مثلاً پیٹ کوکھانے اورپینے سے روکو تو چاہیے کہ آنکھ کو نظارہ ء حرام اور نظر شہوت سے بچائے رکھیں اور اسی طرح کان کو لغو باتوں کے سننے اور چغلخوروں کی خرافات سے محفوظ رکھیں۔ زبان کو بے ہودہ گوئی اور فضول بکواس سے بچائے رکھیں۔ اور تن کو دنیا کی غلامی اور شریعت کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھیں کہ روزہ تو درحقیقت اسی صورت میں صحیح ہوگا کیوں کہ خود پیغمبر حضوراکرم
نے فرمایاہے کہ ”جب توروزہ رکھے تو تیری آنکھ، کان اور زبان کابھی روزہ ہونا چاہیے اورفرمایاکہ بہت سے روزہ دار وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں بھوک اور پیاس کے سواروزے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا(یعنی صرف کھانا پینا چھوڑ دینے سے روزہ نہیں ہوتا)۔ حضرت علی ہجویری ؒ نے فرمایا ”حواسِ خمسہ کوقید رکھنا ہی مکمل ترین مجاہد ہ ہے۔ کیوں کہ تمام علوم کاحصول ان ہی پانچ دروازوں سے ہوتاہے (یعنی دیکھنا، سننا، چکھنا، سونگھنا اور چھونا) اور یہی پانچ حواس خمسہ ہیں جو کہ علم اورعقل کے سپہ سالار ہیں۔ تمام نیکیوں اور برائیوں کاسبب یہی پانچ حواس ہیں۔ پس لازم ہے کہ روزہ دار ان تمام حواس کو پوری طرح سے قابو میں رکھے۔ ورنہ صرف کھانا پینا ترک کرکے روزہ دار ہونے کادعویٰ تو بچے اور بڑی بوڑھیاں بھی کرتی ہیں۔ روزے میں بہرحال کیفیت یہ ہوجائے کہ ہماراروزہ نفس کوعاجز کردے تو دل میں خود بخود، عاجزی اور انکساری پیدا ہوجاتی ہے۔ اور وجود اللہ کے حضور خضوع اور خشوع کے ساتھ پیش ہوتاہے۔ آج حال یہ ہوگیاہے کہ سحری اور بعد از افطاری لذت دار پکوان لازم ہوگیاہے۔ اللہ ہمیں نیک توفیق عطاکرے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں