اُردو ادب میں زکوٰۃکاسرسری ذکر(اشعار کے حوالے سے)محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔

اُردو ادب میں زکوٰۃکاسرسری ذکر(اشعار کے حوالے سے)
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔ موبائل:9845628595 
اردو ادب میں زکوٰۃ کے خدوخال نمایاں اور بے محابہ ملتے ہیں۔ جس کا تعلق گوشت پوست کے محبوب سے ہے، حقیقی محبوب (خدائے واحد) سے بھی ہے۔زندگی کی پیچیدہ کاری سے، پیچیدگی سے ہے۔ کسی نے آنسوزکوٰۃ میں دئے، کوئی کاجل اور کوئی حسن کی زکوٰۃ کا طالب ہے۔کوئی غم کی زکوٰۃ دے رہاہے، کوئی شعر کو شعراء کے لہو کی زکوٰۃ قرار دے رہاہے۔ قصہ مختصر یہ کہ کوئی کچھ اور کوئی کچھ کے اس جہان میں طالب علم کو زکوٰۃ سے متعلق دلچسپ واقعات وحادثات اور ایک آدھ اقوال نماپہلو مل جاتے ہیں۔ چچاغالب ؔفرماتے ہیں   ؎
زکوٰۃ ِ حسن دے، اے جلوہء بینش کہ مہرآسا 
چراغ ِ خانہ ء درویش ہو، کاسہ گدائی کا 
سراج ؔلکھنوی کہتے ہیں    ؎
وہ زکوٰۃ دولت صبر بھی مرے چند اشکوں کے نام سے 
وہ نظر گذر کی شراب تھی جو چھلک گئی مرے جام سے 
نظیرؔاکبر آبادی نے اپنی غزل میں زکوٰۃ سے متعلق یہ شعر کہاہے، اہل عشق ِ مجازی کے لئے دل لگتا شعر ہے یہ    ؎
آنکھ اٹھا دیکھیے اور دیکھ کے ہنس بھی دیجے 
اپنے کاجل کی زکوٰۃ اور مسی وپان کی خیر
ابن انشاء کہاں پیچھے رہنے والے تھے، وہ بھی کہتے نظر آئے    ؎ 
دل کی متاع تولوٹ رہے ہو، حسن کی دی ہے زکوٰۃ کبھی 
روز حساب قریب ہے لوگو، کچھ تو ثواب کاکام کرو 
 بیدم شاہ وارثی کا سچاشعر ہے   ؎
بادہ کشوں کو دیتے ہیں ساغر یہ پوچھ کر 
کس کوزکوۃ نرگس مستانہ چاہیے   
اسعدبدایونی فرماتے ہیں   ؎
مٹی کی مملکت میں نمو کی زکوٰۃ پر 
زندہ ہیں پیڑ آب وہوا کے بغیر بھی 
نظم ”خضر ِ راہ“ میں علامہ اقبال کہتے ہیں  ؎
دست دولت آفریں کو مزدیوں ملتی رہی 
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کوزکوٰۃ 
جگر ؔ کی جگرکاری ملاحظہ فرمائیں   ؎
پیہم جو آہ آ ہ کیے جارہاہوں میں 
دولت ہے غم، زکوٰۃ دئے جارہاہوں میں 
میرؔبیدری کاشعرہے   ؎
جسم وجاں کی ذرا زکوٰۃ تو دو 
حکم دیکھو قطار میں کھڑا ہے 
نوجوان شاعر عمیر نجمی کی غزل کاشعر ہے   ؎
ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ 
نصاب عشق پہ واجب زکوۃ ہیں ہم لوگ 
معین شاداب ایک اچھے شاعر اور ناظم مشاعرہ ہیں۔ دہلی، اترپردیش، جموں وکشمیر اور بڑی حدتک جنوبی ہند میں ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ کہتے ہیں   ؎
تری نگاہ تواس دور کی زکوٰۃ ہوئی 
جو مستحق ہے اسی تک نہیں پہنچتی ہے 
جناب میرؔبیدری ترغیب دیتے ہوئے نظر آتے ہیں   ؎
دِل، نظر میں کھبے ہوئے ہوں گے 
حسن کی کچھ زکوٰۃ دیناتھا 
مرزامسیتا بیگ منتہی ؔ بھی یہی کچھ کہہ رہے ہیں   ؎
ہے دولت حسن پاس تیرے 
دیتانہیں کیوں زکوٰۃ اس کی 
میرسوزؔ نے تو وہ زکوٰۃ اپنے لئے مانگ لی ہے۔ غزل کامطلع کہاہے   ؎
حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میں 
تو بھکاری تراکہاؤں میں 
”کہاؤں“ کاجواب نہیں۔ لیکن یہ لفظ چل نہیں پایا۔ یاپھرکہہ سکتے ہیں کہ ادب کے موجودہ منظرنامے میں ہم نے اس لفظ کو نہیں دیکھا۔نوجوان شاعر عبیدثاقب کہتاہے    ؎
کھڑکیوں پر بھی آیاجایاکر 
حسن کی بھی زکوٰۃ ہوتی ہے 
جرأت قلند ربخش تو سیدھے سیدھے بوسہ بطور زکوٰۃ پر اترآئے، کہاکہ    ؎
اک بوسہ مانگتاہوں میں خیرات حسن کی 
دومال کی زکوٰۃ کہ دولت زیادہ ہو 
اس شعر میں ”دولت زیادہ ہو“کاجواب نہیں۔ شاعر پتہ نہیں کون سے جہاں تک سوچتاہوا چلاجاتاہے۔ ایسا ہی ایک خیال میرؔبیدری کا ہے۔ کہاہے    ؎
سوچتے ہوں گے کس طرح دیں ہم 
لینے والا زکوٰۃ سے بڑا ہے 
لینے والے کے حوالے سے دینے والا یاد آتاہے۔ اس حوالے سے میرؔبیدری کا یہ مطلع دیکھیں   ؎
جوبھی نکلے زکوٰۃ ہم کو دے
یعنی پیارے زکوٰۃ ہم کو دے 
یہ لوگ کون ہیں، اس کاجواب میرؔبیدری کے اس شعر میں ملتاہے   ؎
کچھ بڑوں سے ہم نے سیکھا ہے یہی 
مولوی کو دیں گے ہم پوری زکوٰۃ 
محمد عمر یعقوب نوجوان شاعر ہیں۔ اچھے شعر کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہاہے   ؎
جلتاہے خون دل کا تو اٹھتاہے پھر قلم 
یہ شعر شاعروں کے لہو کی زکوٰۃ ہے 
ضیاء الحق قاسمی نے پرمزاح اندازمیں جو بات کہی ہے وہ سچ ہے اور یہی کچھ ہندوستان میں دیکھنے کو ملتاہے    ؎
ہے عجب نظام زکوٰۃ کا مرے ملک میں، مرے دیس میں 
اسے کاٹتا کوئی اور ہے، اسے بانٹتا کوئی اور ہے 
زکوٰۃ سے متعلق ہمارے مذکورہ چنندہ اشعار میں اسلامی پہلوتسلی بخش نہیں ہے۔یایہ بھی ممکن ہے کہ زکوٰۃ کے پہلوؤں کو شعراء نے اسلامی پہلو سے نہ باندھا ہو۔اس طرف اسلامی شعراء یا اسلام کی طرف مائل شعرا ء کو توجہ دینا ہوگا۔ شعرکو منظوم کرنا اور شعر کاخودبخود تخلیق ہوجانا دوعلیحدہ علیحدہ مرحلے ہیں۔ جس مرحلے سے کام لینا چاہیں لے لیجئے گا لیکن زکوٰۃ کاغالب اسلامی پہلو طلباء اور معاشرے کے سامنے لایاجائے۔ میرؔبیدری نے کہا ہے    ؎
ہاں عبادت اسی میں پنہاں ہے 
میرے رب کی زکوۃ دینے میں 
سید خادم رسول عینی ؔکہتے ہیں    ؎
کتاب رب میں ملا حکم رب کا کتنی بار 
ملے گی گھر میں برکت زکوٰۃ دیتے رہو 
نکالنا ہے تمہیں عینی ؔڈھائی فیصد بس 
کرم ہے رب کا نہایت زکوٰۃ دیتے رہو
نویش ساہو کہتے ہیں   ؎
آنسو کمائے ہیں سو ترے دین کے لئے 
مولیٰ یہی زکوٰۃ ہے، ہم رو نہیں رہے 
شاید چچا غالبؔ نے کہاتھاکہ شعروں کے انتخاب میں رسوا ئی مقدرہے۔سواس مقدر کے سنگ ہم بھی وقتاً فوقتاً چلے آتے ہیں۔ زکوٰۃ اسلام کا تیسرارکن ہے۔ اس رکن پر اردو کے موجودہ شعراء کو کام کرنا ہوگا۔دکنی اور ہندی کے شعراء بھی توجہ دیں۔ کنڑی،تلو، ملیالم،تمل، تیلگو، مراٹھی، گجراتی، بنگالی، کشمیری، اور بھوجپوری کے اسلام پسند شعراء بھی زکوٰۃ کے موضوع کو اپنے کلام میں نبھانے کی اپنی سی کوشش ضرور کریں۔ دنیاسے جاچکے شعرائے کرام میرؔ، غالب ؔ، اقبال ؔ، نظیرؔاکبرآبادی، حفیظؔمیرٹھی،اسعدؔ بدایونی، نعیم صدیقی،فخرِ دین نظامی، فیروزؔبیدری، مشیر ؔجھنجھانوی، رحمن جامی ؔ، محمودعالم ؔ، راحتؔ اندوری، منورراناؔ، رشید احمد رشید ؔ، حمیدالماس ؔ،ملک ؔمحی الدین، فضل الرحمن ہادی ؔ، عبدالکریم کریم ؔوغیرہم کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور جو شعراء حیات ہیں، ان کی کاوشیں اسلام کی سربلندی کے لئے جاری وساری ہوں،اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے سرپر ہو، ان کے قلم کو اپنے دین کیلئے رب رحیم قبول فرمائے۔ آمین

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد