سرزمین محبوب نگر میں بیت المقدس کی عظمت پر بصیرت افروز خطاب**قبلۂ اول کی تقدیس و حرمت سے وابستگی ایمان کا تقاضا: اسدالعلماء مولانا محسن پاشاہ قادری
*سرزمین محبوب نگر میں بیت المقدس کی عظمت پر بصیرت افروز خطاب*
*قبلۂ اول کی تقدیس و حرمت سے وابستگی ایمان کا تقاضا: اسدالعلماء مولانا محسن پاشاہ قادری*
محبوب نگر -15 / مارچ (پریس نوٹ):سرزمین محبوب نگر میں منعقدہ ایک روح پرور اور فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے بھارت سیوارتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء و مشائخ بورڈ محبوب نگر نے بیت المقدس اور قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کی تاریخی، روحانی اور دینی اہمیت پر نہایت ہی بصیرت افروز اور مدلل خطاب فرمایا۔
مولانا موصوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیت المقدس محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایمان ، تاریخ اور روحانیت کا عظیم مرکز دینی و ایمانی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ وہ مقدس مقام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں برکتوں والی سرزمین قرار دیا ہے۔ اسی مقام سے حضور نبی اکرم ﷺ کو معراج شریف کی عظیم سعادت عطا ہوئی اور یہ مسجد صدیوں تک مسلمانوں کا قبلۂ اول رہی۔ اس لئے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سے محبت اور اس کی حفاظت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔
انہوں نے تاریخی حوالوں سے بتایا کہ اسلامی تاریخ میں بیت المقدس کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی یے۔ خاتم النبیین شفیع المذنبینؐ کے خلیفۂ دوم امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمرفاروق بن خطاب رضی اللہ عنہ نے 637 عیسوی میں بیت المقدس میں داخل ہو کر وہاں عدل و روا داری کی ایسی بہترین و منفرد مثال قائم کی جسے تاریخ آج بھی سنہرے الفاظ میں یاد کرتی ہے۔ بعد ازاں مرید خاص حضور پیران پیر سیدنا غوث الاعظم دستگیر رضی اللہ عنہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے 1187ء میں بیت المقدس کو صلیبی تسلط سے آزاد کروا کر امت مسلمہ کے دلوں کو ایک نئی امید اور عمدہ حوصلہ عطا کیا۔
مولانا محسن پاشاہ قادری نے کہا کہ آج کے دور میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے مقدسات کو چیلنج کیا جا رہا ہے تو امت مسلمہ کو چاہیئے کہ وہ بیت المقدس کی تاریخ ، اس کی عظمت اور اس کے تقدس کو سمجھیں اور آنے والی نسلوں تک اس شعور کو منتقل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ صرف فلسطین کے مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی مشترکہ روحانی امانت ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات ہمیں امن ، انصاف اور انسانیت کا درس عظیم دیتی ہیں، اس لئے بیت المقدس کے حوالے سے مسلمانوں کو اپنے دینی و تاریخی شعور کو مضبوط کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہوگا اور عالمی سطح پر اس مقدس مقام کے احترام اور تحفظ کے لئے اجتماعی آواز بلند کرنی ہوگی ۔
مولانا موصوف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ بیت المقدس سے وابستگی دراصل ایمان ، تاریخ اور تہذیب سے وابستگی ہے اور جب تک مسلمان اپنے مقامات مقدسات سے محبت اور ان کی حفاظت کا جذبہ زندہ رکھیں گے تب تک ان کی دینی تشخص و شناخت اور روحانی قوت باقی و برقرار رہے گی۔
اس موقع پر علماء کرام ، دانشوران ، سماجی شخصیات اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی جنہوں نے مولانا محسن پاشاہ قادری کے مدلل اور فکر انگیز خطاب کو نہایت توجہ سے سنا اور اس بات کا عزم کیا کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی عظمت و تقدیس کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا ان شآءاللہ عزوجل سلسلہ تادیر شمس و قمر جاری وساری رکھا جائے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں