*آیت اللہ سید علی خامنہ ای*

*آیت اللہ سید علی خامنہ ای*
ضعیف تھا وہ، مگر اس کا حوصلہ تھا قوی
سدا کھڑا رہا تن‌کر ،کہیں جھکا نہ کبھی

ہمیشہ بات کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں
ہمیشہ لوہا لیا جابرانِ وقت سے بھی

ہزار بار سلام اس کے حوصلے کو سلام
خدا کرے عربوں‌میں‌بھی حوصلہ ہو یہی

زبانِ حال سے اس نے یہ بار بار کہا
تف ایسی قوم پہ جس میں‌نہیں‌‌ہےخودداری

کسی کی ذہنی غلامی ہے فردو قوم‌کی موت
کسی کے رحم‌وکرم پر جئیں تو ہے خواری

عمل سے اس نے دیا ہے خود آگہی کا پیام
جِلا خودی کو ملے گی خود‌آگہی سے ہی

وہ مثلِ خار کھٹکنے لگا تھا برسوں سے
کہ اس کے ہونے سے دشمن پہ خوف تھا طاری

ارادے اس کے رہے وجہِ اضطرابِ یہود
اسے مٹانے کو جاری تھیں کوششیں‌ان‌کی

شہید کردیا دھوکے سے ان لعینوں نے
سرشت جن کی رہی ہے ہمیشہ دھوکہ دہی

عجیب شان کی حامل تھی زندگی اس کی
ملی جو موت بھی اس کو تو باوقار ملی

نتیجہ خیزی بھی اک دن‌زمانہ دیکھے گا
یقیں ہے ضائع نہ جائے گی اس کی قربانی

پروفیسر مقبول احمد مقبول
چِٹگوپہ، ضلع بیدر (کرناٹک) 
9028598414

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد