جمعۃ الوداع کی عظمت و فضیلت پر بصیرت افروز خطاب* — *ماہِ رمضان کی روحانی اختتامیہ ساعتوں کی اہمیت اجاگر
*جمعۃ الوداع کی عظمت و فضیلت پر بصیرت افروز خطاب* — *ماہِ رمضان کی روحانی اختتامیہ ساعتوں کی اہمیت اجاگر*
محبوب نگر:20/مارچ ( پریس نوٹ )ماہِ صیام المبارک کے بابرکت ایام کے اختتام پر آج مسجدِ ہاجرہ، خمیس باشوار جان محمدؐ کنٹہ، محلہ مکہ مسجد محبوب نگر میں جمعۃ الوداع کے موقع پر ایک عظیم الشان اور روح پرور خطاب کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ، اسدالعلماء تنویر صحافت حضرت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی (مولوی کامل الحدیث، جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ نے انتہائی مدلل اور بصیرت افروز انداز میں خطاب فرمایا۔
مولانا موصوف نے اپنے خطاب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ حکیم سے کرتے ہوئے جمعۃ الوداع کی شرعی و روحانی اہمیت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا۔ آپ نے ارشادِ باری تعالیٰ:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ..."
کا حوالہ دیتے ہوئے تقویٰ، پرہیزگاری اور ماہِ رمضان کے آخری لمحات کی قدر و منزلت پر زور دیا۔
آپ نے فرمایا کہ جمعۃ الوداع دراصل ماہِ رمضان المبارک کا رخصتی پیغام ہے، جو بندۂ مؤمن کو یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ اس مبارک مہینے میں حاصل کی گئی عبادات، تقویٰ اور اصلاحِ نفس کو سال بھر برقرار رکھے۔ احادیثِ نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے بیان فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن کو "سید الایام" قرار دیا اور اس کے فضائل کو بیان کرتے ہوئے کثرتِ درود شریف ، تلاوتِ قرآن اور دعا کی تلقین فرمائی۔
خطاب کے دوران مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمعۃ الوداع محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ یہ خود احتسابی، توبہ و استغفار اور آئندہ زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ آپ نے سامعین کو تلقین کی کہ وہ رمضان المبارک کے بعد بھی نماز ، روزہ ، ذکر و اذکار ،والدین کی فرمانبرداری و اطاعت گذاری اور اخلاقِ حسنہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
مزید برآں، آپ نے امتِ مسلمہ کے موجودہ حالات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے اتحاد، اخوت اور دینی بیداری کی ضرورت کو اجاگر کیا اور فرمایا کہ یہی وہ راستہ ہے جس سے مسلمان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
اختتام پر بادیدہء نم اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود اور عالمِ اسلام میں امن و استحکام کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں حرمین شریفین، فلسطین ،عراق افغانستان ،ایران ملک شام ،یمن اور ملک بھارت کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کی زبوں حالی کاخاتمہ فرمائے۔
یہ روحانی و علمی خطاب سامعین کے دلوں میں ایک نئی بیداری اور دینی جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت ہوا اور جمعۃ الوداع کی حقیقی روح کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں