حافظ قرآن دنیا و آخرت میں سرخرو اور والدین کے سروں پر بروز محشر سونے کاتاج پہنایا جائے گا،گوگی شریف میں جلسہ سے علماء کرام اور سجادگان کے خطابات

*حافظ قرآن دنیا و آخرت میں سرخرو اور والدین کے سروں پر بروز محشر سونے کاتاج پہنایا جائے گا،گوگی شریف میں جلسہ سے علماء کرام اور سجادگان کے خطابات*
محبوب نگر- 6 / اپریل ( مولانا محسن پاشاہ ) سجادہ نشین بارگاہِ جلالیؓہ گوگی شریف کرناٹک حضرت مولانا الحاج سید شاہ اسماعیل حسینی آصف بابا قبلہ نے فضائل قرآن حکیم کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے چچا زاد بھائ جناب حافظ سید بادشاہ حسینی ریحان بابا فرزند ارجمند برادر سجادہ نشین بارگاہ جلالیؓہ حضرت مولانا مفتی سید شاہ چندا حسینی زبیر بابا مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ نے مدرسہء طاہر العلوم ملحقہ جامعہ نظامیہ سے حفظ قرآن حکیم کی تکمیل کی ہے جو نہ صرف ہمارے خاندان بلکہ سارے علاقہ گوگی شریف اور اطراف واکناف میں خوشی و مسرت کا ماحول ہے آنے والے دور میں ہمارے بھائ جو کم عمری میں حافظ قرآن حکیم کی تکمیل کی ہے تعلیمی سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا اور مولوی کامل کی تکمیل شہرہ آفاق ازہر ہند جامعہ نظامیہ سے کرینگے ،جلسہ کے سرپرست اعلیٰ سجادہ نشین بارگاہ جلالیہؒ نے  4/ اپریل بروز ہفتہ 9/ بجے رآت جامعہ جلالیہؒ گوگی شریف تعلقہ شاہ پور ضلع یادگیر کرناٹک میں ایک بڑے جلسہء تہنیت و فضیلتِ حافظ قرآن حکیم و دینی تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا - جس میں جنوبی بھارت کے ممتاز علماء کرام ، مشائخ عظام اور دانشواران ملت نے شرکت اور خطاب کیا- حضرت مولانا الحاج سید شاہ اشرف رضا اشرفی سجادہ نشین و متولی بارگاہ قطبِ رائچور نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولانا مفتی سیدشاہ چندا حسینی زبیر بابا قابل مبارکباد ہیں جن کے صاحب زادہ نے کم عمری میں حفظ القرآن حکیم کی تکمیل کرتے ہوئے قطب الاقطاب حضرت سید شاہ جلال الدین حسینی المعروف بہ حضرت چندا حسینی رحمہ اللہ اور ان کے خاندانی بزرگوں کی طرح زندہ مثال قائم کی ہے سجادگان کی اولاد امجاد کا موجودہ دور میں حافظ قرآن حکیم اور عالم دین بننا وقت کا اہم ترین تقاضہ اور ضرورت ہے حافظ ریحان بابا کو اور ان کے والدین کو مبارکبادیتے ہوئے مزید علوم دینیہ کو پروان چڑھانے کے لئے نیک تمناوؤں اور خواہشات کا اظہار بھی کرتا ہوں-بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر نے کہاکہ علم دین و حافظ قرآن بننے والے افراد کے قدموں میں فرشتے رحمتوں والے پروں کو بچھاتے ہیں ،سمندر کی مچھلیاں دعائیں کرتی ہیں ، جس قبرستان میں عذاب الہی ہوتا ہو اگر طالبان علوم دینیہ گذرتے ہیں تو قبروں سے عذاب الہی اٹھا لیا جاتا ہے،مولانا نقشبندی نے ایک طویل واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ ایک روز حضرت سیدنا عیسی روح اللہ علیہ السلام کا ایک قبرستان سے گذر ہوا کیا دیکھتے ہیں کہ ایک قبر میں سخت عذاب الہی ہورہا ہے جب واپس ہوتے ہیں تو عذاب قبر اٹھالیا جاتا ہے آپ بارگاہ رب اللعٰلمین میں عرض گذار ہوتے ہیں کہ مولا کچھ دیر قبل آپ کا سخت  اور شدید عذابِ الہی ہورہا تھا اب واپس ہورہا تھا تو عذاب الہی کو اُٹھالیا گیا دیکھ رہا ہوں اس کی وجہہ کیا ہے تو اللہ جل مجدہ نے فرمایا کہ اس کا بیٹا آج بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر پڑھ رہاہے تو مجھے حیاء آئ کہ اس کے باپ کو گناہوں کی سزا زمین کے اندر کیسے دوں جبکہ اس کا بیٹا مجھے زمین پر  رحمن و رحیم کہہ کہ پکارے اسی بناء پر بیٹے کی وجہہ سے باپ مغفرت و بخشش کردی گئی ہے سبحان اللہ ایک گناہ گار کے فرزند کی جانب سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی بناء پر والد کے قبر کا عذاب اٹھا لیا جا رہاہے تو پھر حافظ قرآن حکیم کا عالم کیا ہوگا یقینا کل بروز محشر حافظ قرآن حکیم کے والدین کے سروں پر نورانی سنہری تاج رکھاجائے گا جس کی چمک سورج کی مانند ہوگی مگر اس سے آنکھ نہیں دکھے گی بلکہ آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہوگی اور حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ ایک ایک آیت تلاوت کرتا جا ایک ایک درجہ بلند و بالا مقام عطا ہوتا جائے گا-امیر امارت امت اسلامیہ حضرت مولانا الحاج قاضی محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری فارغ التحصیل جامعہ نظامیہ اور مناظر اہلسنت حضرت علامہ مفتی محمد حنیف طاہری قادری رضوی مولوی کامل جامعہ نظامیہ نے کہاکہ خانوادہء جلالیہ رحمہ اللہ کے چشم و چراغ نے قرآن مجید کی عظمت و رفعت کو اپنے سینے میں محفوظ و مأمون کرنے کی سعادت مندی حاصل کی ہے یقنیا یہ تمام خاندان ددھیالی و ننھیالی کے علاوہ سینکڑوں فرزندان توحید اس بات کی عکاس ہے،تمام بزرگان دین نے کم عمری ہی میں حفظ قرآن حکیم کی تکمیل کی ہے چنانچہ مفتی زبیر بابا کے فرزند دلبند نے بھی چھوٹی عمر میں حافظِ قرآن کی سعادت حاصل کی ہے-آخر میں حضرت مولانا سید شاہ مجیب الدین فاروقی سرمست الحسنی و الحسینی قبلہ سجادہ نشین و متولی بارگاہ اسدالاولیاءؒ حضرت صوفی سرمستؒ کربلائے ثانی سگر شریف نے دعا فرمائ -مولانا مفتی سیدشاہ چندا حسینی زبیر بابا مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ و برادر سجادہ نشین بارگاہ جلالیؓہ گوگی شریف نے خیرمقدمی واستقبالیہ تقریر کی-جلسہ کا آغاز قراءت کلام پاک نعت شریف اور منقبت سے آغاز ہوا-شہہ نشین پر نبیرہء کعبہء دکن حضرت مولانا سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی قبلہ المعروف بہ رحمت بابا بندہ نوازی چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل، مولانا حافظ مفتی محمد انوار اللہ نقشبندی مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ، مولانا حافظ مفتی محمد اسلم شریف نقشبندی مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ، جناب سید ظہیر الدین قادری چشتی نقشبندی سہروردی جامع السلاسل، جناب محمد پاشاہ بھائ قادری نقشبندی چشتی سہروردی جامع السلاسل برادران سجادہ بارگاہ جلالیہ و دیگر علماء کرام مشائخ عظام موجودتھے -حضرت مولانا حافظ محمد عبدالقدیر امیر دعوت اسلامی ضلع یادگیر نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ‐سینکڑوں حضرات کے لئے تناول طعام کا معقول نظم و نسق کیا گیا تھا -

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں جشن یوم جمہوریہ۔

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد