*علم و عرفان کی محفل میں اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی روح پرور تشریح* *اولیاء کرام کی پیش گوئی کا تذکرہ*
*علم و عرفان کی محفل میں اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی روح پرور تشریح*
*اولیاء کرام کی پیش گوئی کا تذکرہ*
دھارور،ضلع وقارآباد-27/ اپریل (پریس نوٹ) ایک روح پرور علمی و عرفانی نشست کل رآت خانقاہ غازیہ مرتضایہ ابراھیمیہ روبرو قدیم پٹرول پمپ دھارور ضلع وقارآباد ،میں خطیبِ مقبول حضرت مولانا الحاج مفتی محمد آصف رضا اشرفی غازیہ بندہ نوازیہ بھاگلپور بہار نے سورۂ فاتحہ کی عظیم آیت "اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" پر نہایت مدلل اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ انہوں نے قرآن حکیم، احادیث نبوی ﷺ اور اقوالِ سلف کی روشنی میں واضح کیا کہ صراطِ مستقیم دراصل انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَأَنَّ هٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ" اور ایک مقام پر فرمایا: "صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ"۔
مفتی محمد آصف رضا اشرفی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ بندۂ مومن کی سب سے بڑی دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دینِ حق، سنتِ رسول ﷺ اور اولیاء و صالحین کے راستے پر استقامت عطا فرمائے۔ انہوں نے حدیث پاک "ترکت فیکم امرین..." کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت سے وابستگی ہی صراط مستقیم کی حقیقی تعبیر ہے۔
اس موقع پر بھارت سیوارتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر نے رہبرِ راہِ شریعت پیر طریقت حضرت مولانا الحاج صوفی سید مرتضیٰ علی شاہ چشتی قادری نقشبندی سہروردی المعروف سید افسر پاشاہ صاحب قبلہ مدظلہ سجادہ نشین قطب الاقطاب حضرت سیدنا شمس الدین غازی رحمہ اللہ چشتی عثمان آباد مہاراشٹرا کے علمی، روحانی اور دعوتی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت علامہ ابوالحسنات الحاج سید عبداللہ شاہ صاحب قبلہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمہ اللہ کی مبارک پیش گوئی کا تذکرہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ حضرت محدث دکن رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ “افسر پاشاہ صاحب قبلہ ساری دنیا کی سیر و سیاحت کریں گے اور دونوں ہاتھوں سے علم و عرفان تقسیم کریں گے”، اور آج یہ پیش گوئی حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ حضرت افسر پاشاہ صاحب قبلہ کی خانقاہی، دعوتی اور اصلاحی خدمات ملک و بیرونِ ملک تک پھیل چکی ہیں اور بے شمار تشنگانِ علم ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہو رہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے: "يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ" اور حدیث پاک میں آیا ہے "العلماء ورثة الأنبياء"، انہی تعلیمات کا عملی مظہر اولیائے کاملین اور مشائخِ عظام کی زندگیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء کرام کی خانقاہیں ہمیشہ علم، عرفان، محبت اور انسانیت کی خدمت کے مراکز رہی ہیں۔
محفل میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ دور میں امت کو صراطِ مستقیم، عشقِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور اولیائے کاملین کی تعلیمات سے جڑنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی فتنوں کے دور میں نجات کا راستہ ہے۔
اختتام پر امت مسلمہ کے اتحاد، سلامتی، فروغِ اسلام اور اکابرینِ اہل سنت کی دینی خدمات کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں