*پروفیسر سلیم عباس دیسائی کی ادبی خدمات کا اعتراف، "اصلی مکان" کی اشاعت پر اساتذہ کی مبارکباد*
س یس یس پیو کالج چکوڑی، کےرہٹائیر پرنسپل، یوسف خان احمد خان پٹھان آور گورنمنٹ اردو ہاسکول ہکیری کے معلم اریف رمضان سرنے میرے ادبی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے، حال میں اجراء ہوئی آفسانوں کی کتاب آصلی مکان " کے حوالے سے میرے گھر آ کرمجھے مبارک باد پیش کیا، ساٹھ ہی آپ نے اپنے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا "اج کے زمانے میں لوگ مشہور ہونے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے، دوسروں کا ادب چورا کے نامور ہو نا،کسی گروپ میں شمولیت اختیار کر کے آپنا موقف کی اجاداری ظاہر کرنا،مشاعروں میں چند اشعار پڑھ کے واہا واہی حاصل کر نا۔تو آج کچھ لوگوں کی عادت سی بن گئی ہے۔ایسے لوگوں کے پاس تو کچھ رہتا نہیں مفت میں ڈھول پھیٹا کرتے ہیں، سچے ادیب کی پہچان تو وہ ہے جو کسی رتبے اور شان کا متلاشی نہیں ہوا کرتا۔وہ چھپ کے سے اپنے ادب کے ذریعے سے معاشرے کی خدمت کرنے کو اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہے
ایسے ہی سچے اور محنتی ادیبوں سے ہمارا سماج، ہمارا معاشرہ، ہماری تہذیب روز افزوں زندہ ہے۔ہم پروفیسر سلیم عباس دیسای کو ایسے ہی ادیبوں میں پاتے ہیں۔"
پٹھان سر نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا "ایک دو تحریر لکھ کر اخبار میں شائع کروانے سے زبان اردو کی خدمت نہیں ہو تی بلکہ نہئ نسل کو اردو زبان سے متعارف کروا کے اس زبان میں تعلیم دلوانا ہمارا اولین مقصد ہو نا چاہئے۔"
اریف رمضان سر نے میرے ادبی سفر کے لئے کامیابی وکامرانی کی دعا فرمائی ساتھ ہی ہر موڑپر اپنی رہنما ی کا اظہار کیا، پٹھان سر اور رمضان سر نے میرے تئیں جس طرح الفت اور عقیدت کا اظہار کیا ان کے اس چاہت کے تشکر میں میرے پاس کوئی الفاظ نہیں تھے میں نے پلکیھں جھکا لیا اور دبی زبان میں آپ جیسے مہان حضرات کے چاہت کا سو سو بار شکر ادا کیا۔
پروفیسر سلیم عباس دیسای
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں