بشیر بدر۔ ایک عہد کاخاتمہ محمدیوسف رحیم بیدری
بشیر بدر۔ ایک عہد کاخاتمہ
محمدیوسف رحیم بیدری
جناب بشیر بدر انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔عید الالضحیٰ کے دن 12:30بجے کے قریب بلاوا آیا اور چل دئے۔ طویل عرصہ سے علیل تھے،طویل علالت کے ایک موڑ پر موت کے دروازے سے گزر کرگویا علالت راحت میں بدل گئی۔ آدمی اپنے حصہ کی علالت بھی قسمت کے صفحات پر لکھ کر لاتاہے۔بشیر بدریہ بھی لکھ کر لائے تھے کہ اس کا تیماردار اس کے لئے راحت بدر ہو، میاں بیوی کی محبت نے اکیسویں صدی کے جین زی کو سمجھایاکہ آج بھی ایسی بیویاں ہیں جو بیماری میں شوہروں کاہر پل ساتھ دیتی ہیں بلکہ مرتے دم تک ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔اور راحت دل وجاں ہوتی ہیں۔ دوسری جانب دنیا اس قدر تیزرفتار ہوئی ہے کہ مجھے بشیر بدر کے انتقال کی اطلاع پونے چار بجے انجینئر فیروز مظفر صاحب سے موصول ہوئی اور جب میں نے گوگل کیاتو سب سے پہلے امراجالا کی اطلاع ملی۔ اس کے بعدان کی تحریروں تک پہنچنے کیلئے کلک کرنے پر بشیر بدر کی چار پانچ تصاویر کے ساتھ لکھاتھا۔ Born 15 Feb 1935 Ayodhya اور Died 28 May 2026یعنی دنیا اردو شاعروں کی بابت بھی اپ ڈیٹ رہنے لگی ہے۔ بشیر بدرنے کہاتھا ؎
اب مرے تلووں کے نیچے کی زمیں آزاد ہے
آسمانوں سے مجھے بادل بلانے آئے ہیں
بشیر بدر جس وقت شاعری کے افق پر نمودار ہوئے، پورے ہندوستان میں ان ہی کاڈنکا بجتاتھا۔ وہی ترنم لوگوں پر اثر کرتاتھاجس کوبشیربدر پیش فرماتے تھے۔ پاکستان اور دنیا کے کئی قطعوں میں ان کی شاعری پسند کرنے والے بے شمار مداح تھے۔ جو آج ان کی وفات پر رورہے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں ہیں لیکن ان کے دل رورہے ہیں کہ ہماری زندگی کے واقعات کو شعری زبان دینے والاشاعر ہمارے درمیان نہیں رہا۔
بشیر بدرکاکلام ریختہ پر مل جاتاہے۔ ریختہ والوں نے 179غزل، 172اشعار، 24ای کتب اور دیگر اشیاء بھی اپلوڈ کررکھی ہیں۔ بشیر بدر کی غزلوں میں سے درج ذیل غزلیں اور اس کے علاوہ بھی غزلیں ریختہ پرملاحظہ کرسکتے ہیں۔ان غزلوں کے درج ذیل مصارع ایک تاریخ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کوئی اگر ان یادوں کو جمع کرلے تو کئی ا فسانے سامنے آسکتے ہیں۔ یہ غزلیں کالجس میں طلبہ پڑھتے تھے۔ طالبات پڑھتی تھیں۔ رسائل میں غزلیں شائع ہوتے ہی یا پھر بشیر بدرکی زبان سے کسی مشاعرے میں سنتے ہی ان غزلوں کولکھ لیاجاتا۔ پندرہ پیسیے والے پوسٹ کارڈ پر غزلیں یا ان غزلوں کے اشعار اِدھر سے اُدھر پوسٹ کردئے جاتے۔ دنیا اس قدر تیز رفتار نہیں تھی لیکن اس کی یاد داشت بہت تیز تھی۔ آج تک اس کم رفتار دنیا کی وہ پیڑھی بشیر بدر کی غزلوں کویادر کھی ہوئی ہے۔ان غزلوں کے مصارع ملاحظہ کیجئے۔
٭آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
٭اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
٭یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
٭نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
٭سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
٭سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے
٭محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
٭پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
٭لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
٭ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
٭ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
٭کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہوگی
٭اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
٭بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے گا
٭خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
٭ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے
٭کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو
٭کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی
٭اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا
٭وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے
٭ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
٭مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو
٭وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے
٭وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے
٭سنوار نوک پلک ابرووں میں خم کر دے
٭دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے
٭مسافر کے رستے بدلتے رہے
٭مرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے
٭سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں
٭خوشبو کی طرح آیا وہ تیز ہواؤں میں
٭کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے
٭وہ اپنے گھر چلا گیا افسوس مت کرو
٭سر راہ کچھ بھی کہا نہیں کبھی اس کے گھر میں گیا نہیں
٭غزلوں کا ہنر اپنی آنکھوں کو سکھائیں گے
٭میری آنکھوں میں ترے پیار کا آنسو آئے
٭اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے
٭اداس رات ہے کوئی تو خواب دے جاؤ
٭آہن میں ڈھلتی جائے گی اکیسویں صدی
٭گھر سے نکلے اگر ہم بہک جائیں گے
٭کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا
٭یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے
٭میں کب تنہا ہوا تھا یاد ہوگا
٭جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے
٭اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈا کریں
٭ریت بھری ہے ان آنکھوں میں آنسو سے تم دھو لینا
٭کسی کی یاد میں پلکیں ذرا بھگو لیتے
٭مری زندگی بھی مری نہیں یہ ہزار خانوں میں بٹ گئی
٭بڑے تاجروں کی ستائی ہوئی
٭سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
٭اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں
٭پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
٭بھول شاید بہت بڑی کر لی
٭ہمارے پاس تو آؤ بڑا اندھیرا ہے
٭شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا
٭کوئی کانٹا چبھا نہیں ہوتا
٭میں تم کو بھول بھی سکتا ہوں اس جہاں کے لئے
٭کون آیا راستے آئینہ خانے ہو گئے
٭چمک رہی ہے پروں میں اڑان کی خوشبو
٭نظر سے گفتگو خاموش لب تمہاری طرح
٭راہوں میں کون آیا گیا کچھ پتہ نہیں
٭مری غزل کی طرح اس کی بھی حکومت ہے
٭میرے سینے پر وہ سر رکھے ہوئے سوتا رہا
٭خاندانی رشتوں میں اکثر رقابت ہے بہت
٭مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا
٭اب تو انگاروں کے لب چوم کے سو جائیں گے
٭چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولی
٭دل میں اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں میں
٭مری نظر میں خاک تیرے آئنے پہ گرد ہے
٭سوئے کہاں تھے آنکھوں نے تکیے بھگوئے تھے
٭یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں
ایک شاعر کے لئے اس سے بڑھ کر اعزاز اور کیاہوسکتاہے کہ اس کی غزلیں نصاب کا اور انسانی حافظہ کاحصہ بنیں بلکہ لوگوں کوبشیر بدرکے کسی شعر پر یاد آجائے کہ یہ تو میری زندگی کے اہم لمحات سے اس قدر جڑا ہواہے کہ میں اس شعر سے جدا نہیں ہوسکتا۔ جو اشعار بشیر بدر کے معروف رہے ہیں وہ سینکڑوں ہیں۔ ان میں سے چند اشعار پیش کئے جارہے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔ سب سے پہلے وہ دس اشعار جو امر اُجالامیں ترویندر کمار چترویدی نے اپنے تازہ ترین ہندی مضمون میں پیش کی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
۱۔ دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
۲۔ کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
۳۔مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی
۴۔زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
۵۔کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
۶۔یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں
مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے
۷۔محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا
۸۔سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا
۹۔گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
۰۱۔عجیب شخص ہے ناراض ہو کے ہنستا ہے
میں چاہتا ہوں خفا ہو تو وہ خفا ہی لگے
یہ اشعار بھی پڑھ لیں تاکہ بشیر بدر کی شاعری اوراس کے مزاج کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے ؎
وہ درودوں کے سلاموں کے نگر یاد آئے
نعتیں پڑھتے ہوئے قصبات کے گھر یاد آئے
آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمی ء شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئنے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے
تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے
پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے
یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں
مرے بدن پہ کسی دوسرے کی شال نہیں
اگر واقعی تم پریشان ہو
کسی اور سے تذکرہ مت کرو
فی الحال اتنے ہی پر بات ختم کی جاتی ہے۔ بشیر بدر کے گزرتے ہی ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہوگیا جس کو اردو زبان کارومانی دور کہہ سکتے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ بشیر بدر کی باتوں کوکیسے سمیٹا جائے۔ عید الاضحی کی مصروفیات کے درمیان بشیر بدر کاگزرجانا ذہن کو تکلیف ضروردے رہاہے۔ اللہ تعالیٰ بشیر بدر کی مغفرت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس عطاکرے۔ ان کے وارثین کو صبر جمیل کی توفیق دے۔ آمین
آخر میں بشیر بدر کاوہ متنازعہ مگر مشہور شعر بھی پڑھ لیں ؎
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں