اپنی زباں کا مرثیہ! تحریر: الطاف آمبوری (تامل ناڈو)

*اپنی زباں کا مرثیہ!*
*تحریر: الطاف آمبوری (تامل ناڈو)*
9952391661
کچھ دن پہلے ایک نجی مال میں کھڑے مجھے ایک منظر نے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا۔ ایک پانچ سالہ بچہ اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے اونچی آواز میں کہہ رہا تھا، *"Mama, look! I want that ice cream, please!"* ماں نے مسکرا کر محبت پاش نظروں سے آس پاس دیکھا، گویا وہ سب کو دکھانا چاہ رہی ہو کہ دیکھو، میرا بچہ کتنی فر فر انگریزی بولتا ہے۔ یہ منظر ہمارے معاشرے کے کسی ایک گھر کا نہیں، بلکہ آج اردو مادری زبان رکھنے والے ہر دوسرے متوسط اور اعلیٰ طبقے کے گھرانے کی کہانی ہے۔ چاہے وہ اتر پردیش اور دہلی کے کوچے ہوں، یا تامل ناڈو کے دور دراز قصبات، ہر جگہ اردو بولنے والے اپنی ہی زبان سے دور بھاگتے نظر آ رہے ہیں۔
ہم ایک ایسے عجیب دورِ نوزائیدہ سے گزر رہے ہیں جہاں مادری زبان بولنا پسماندگی کی علامت اور انگریزی بولنا شرافت، ذہانت اور اعلیٰ سماجی رتبے (Status Symbol) کا سرٹیفکیٹ بن چکا ہے۔ اگر کوئی بچہ محفل میں انگریزی کے دو چار جملے اچھال دے، تو داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں، لیکن اگر وہی بچہ میر و غالب کا کوئی شعر سنادے، تو اسے "پرانے خیالات کا دیسی" سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
دلچسپ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اب گلی محلوں کے وہ اسکول جن کی اپنی عمارتیں ہسپتال کے ایک وارڈ سے بھی چھوٹی ہیں، باہر بڑے بڑے بورڈز پر "انگریزی میڈیم" لکھ کر فخر سے گاہک نما والدین کو راغب کرتے ہیں۔ ان اسکولوں میں بچوں کو اردو بولنے پر باقاعدہ جرمانے کیے جاتے ہیں اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس زبان کو بچہ ماں کی گود سے سیکھ کر آتا ہے، اسکول کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے اس زبان کے استعمال پر مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ بچہ نہ تو انگریزی کا "شیکسپیر" بن پاتا ہے اور نہ ہی اردو کا "غالب"۔ وہ بیچ چوراہے پر کھڑا ایک ایسا لسانی مسافر بن جاتا ہے جس کا اپنا کوئی علمی گھر نہیں ہوتا۔
اس رجحان کے پسِ پردہ صرف سماجی دکھاوا نہیں، بلکہ ایک گہرا معاشی خوف بھی ہے۔ آج کا کارپوریٹ سیکٹر, ملٹی نیشنل کمپنیاں، بینکنگ، اور خاص طور پر آئی ٹی (IT) کی دنیا مکمل طور پر انگریزی کے شکنجے میں ہے۔ والدین کا یہ خوف بالکل بجا ہے کہ اگر ان کا بچہ انگریزی میں مہارت نہیں رکھے گا، تو وہ جدید دور کی اس معاشی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔ روزگار کی اس مجبوری نے ہماری مادری زبان کو اسکولوں اور گھروں کے ڈرائنگ رومز سے نکال باہر کیا ہے۔ لیکن یہاں سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا معاشی ترقی کا راستہ صرف اپنی زبان کی لاش پر سے گزر کر ہی ممکن ہے؟
دنیا کی زندہ قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ چین، جاپان، جرمنی اور فرانس کے سائنسدان، ڈاکٹر اور انجینئرز اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر کے دنیا پر راج کر رہے ہیں۔ وہ انگریزی صرف ایک ضرورت، ایک آلے (Tool) کے طور پر سیکھتے ہیں، اسے اپنی شناخت کا متبادل نہیں بناتے۔ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے؛ ہم انگریزی کو علم نہیں، بلکہ "عقل" سمجھ بیٹھے ہیں۔ اگر کوئی شخص اردو میں دنیا جہان کی عقل و دانش کی باتیں کر دے، تو اس کی بات وزنی نہیں مانی جاتی، اور اگر کوئی انگریزی میں محض موسم کا حال بھی چبا چبا کر سنادے، تو لوگ اس کی مرعوبیت کے سحر میں جکڑے جاتے ہیں۔ یہ ذہنی غلامی کی بدترین شکل ہے۔
اس لسانی تبدیلی نے ہماری نئی نسل کو ایک گہرے نفسیاتی اور ثقافتی بحران (Identity Crisis) میں دھکیل دیا ہے۔ تامل ناڈو جیسے ریاستوں میں، جہاں پہلے ہی مقامی زبان (تامل) اور قومی زبانوں کا ایک خوبصورت توازن موجود تھا، وہاں اردو مادری زبان والے اب ایک عجیب خلا کا شکار ہیں۔ نوجوان نسل غالب کا فلسفہ، اقبال کی خودی، فیض کی خوشبو اور منٹو کا سچ پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہو چکی ہے، کیونکہ وہ اردو کی ابجد سے ہی واقف نہیں ہیں۔
 رومن اردو: رسمِ خط کا قتلِ عمد
اس المیے کا ایک اور دردناک پہلو رومن اردو کا بڑھتا ہوا چلن ہے۔ سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور موبائل میسجز نے ہماری نئی نسل سے اردو کا خوبصورت رسمِ خط (نستعلیق) چھین لیا ہے۔ آج کا نوجوان اردو بول تو لیتا ہے، لیکن جب لکھنے کی باری آتی ہے تو وہ انگریزی حروف کا سہارا لیتا ہے۔ "کیسے ہو؟" کو "Kaise ho?" لکھنا بظاہر تو ایک سہولت نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اردو کی روح پر ایک گہرا وار ہے۔ رسمِ خط کسی بھی زبان کا لباس ہوتا ہے، اور جب آپ کسی زبان کا لباس چھین لیتے ہیں، تو وہ زبان آہستہ آہستہ دم توڑ دیتی ہے۔ رومن اردو نے ہماری نسل کو اپنی ہی زبان پڑھنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ اگر یہی حال رہا، تو اگلی چند دہائیوں میں اردو کا اصل رسمِ خط صرف عجائب گھروں اور لائبریریوں کی زینت بن کر رہ جائے گا۔
"آر ٹی ای (RTE) کے تحت مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا آئینی اور بنیادی حق ہے، اسے اسکولوں کی انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ 
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس زوال کو کیسے روکا جائے؟ مرثیے پڑھنے سے بات نہیں بنے گی، ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
 گھر سے شروعات: سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری والدین کی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو زندہ رہے تو اس کی شروعات گھر کی چہار دیواری سے کرنی ہوگی۔ والدین شعوری طور پر گھر کے ماحول میں بچوں سے خالص اردو میں گفتگو کریں اور انہیں واٹس ایپ وغیرہ پر رومن کے بجائے اردو کی بورڈ استعمال کرنے کی عادت ڈالیں۔
 اسکول میں اردو آپشن نہیں، حق ہے: ہمیں اسکولوں میں اردو کو محض ایک اختیاری یا فالتو مضمون (Option) کے طور پر قبول کرنے کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔ تعلیم کا حق قانون (RTE - Right to Education) کے تحت مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا آئینی حق ہے۔ والدین اسکولوں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اردو کو اپنا قانونی حق بنا کر مانگیں۔
 ڈیجیٹل میڈیا کا درست استعمال: جدید ٹیکنالوجی کو اردو کے فروغ کا ذریعہ بنائیے۔ موبائل فونز اور ٹیبلٹس پر بچوں کو مغربی کارٹونز دکھانے کے بجائے یوٹیوب پر موجود معیاری اردو کارٹونز، اخلاقی کہانیاں اور "ریختہ" (Rekhta) جیسے شاندار اردو پورٹلز اور چینلز سے روشناس کروائیں۔ جب وہ اسکرین پر اردو دیکھیں اور سنیں گے، تو زبان سے ان کی رغبت خود بخود بڑھے گی۔
 اردو کو روزگار سے جوڑنا: سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اردو کو محض شاعری، قوالی یا جذباتی خطابات کی زبان بنا کر نہیں رکھنا، بلکہ اسے جدید روزگار اور معیشت سے جوڑنے پر پورا زور دینا ہوگا۔ ترجمہ نگاری (Translation)، ڈیجیٹل کنٹینٹ رائٹنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور میڈیا انڈسٹری میں اردو کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے تاکہ نئی نسل کو یہ یقین ہو کہ اردو سیکھ کر وہ ایک کامیاب معاشی زندگی گزار سکتے ہیں۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ انگریزی وقت کا ایک اہم ہتھیار ہے، اسے ضرور سیکھیے اور اس میں مہارت حاصل کیجیے۔ لیکن خدا کے لیے اسے اپنی روح پر مسلط مت کیجیے۔ انگریزی آپ کا پیشہ ہو سکتی ہے، لیکن اردو آپ کی پہچان ہے۔ اپنے بچوں کو انگریزی سکھانے سے پہلے انہیں اپنی مادری زبان سے محبت کرنا سکھائیے، کیونکہ جو قومیں اپنی زبان بھول جاتی ہیں، تاریخ اکثر ان کا نام و نشان مٹا دیتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

*ہلکٹہ شریف میں اعراس شریف کے انتظامات کوقطعیت*-

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

دُخترِ اسدالعلماء کے عقد اور ولیمہ مسنونہ میں سینکڑوں علماء مشائخ اور ایڈیٹر اِن چیف روزنامہ منصف الحاج محمد عبدالجلیل صاحب کی شرکت