بزرگ شاعر اقبال آصف کا77/واں یوم ِپیدائش ”چلتا ہوں ان خطوط پہ آصفؔ میں آج تک“محمدیوسف رحیم بیدری، موبائل:9845628595

بزرگ شاعر اقبال آصف کا77/واں یوم ِپیدائش 
”چلتا ہوں ان خطوط پہ آصفؔ میں آج تک“
محمدیوسف رحیم بیدری، موبائل:9845628595 

شاعر کا حقیقی تعارف اس کے کہے گئے اپنے اشعار ہوتے ہیں لہٰذا یہاں چند اشعار تفنن طبع کے بجائے تعارف کے لئے پیش کئے جارہے ہیں   ؎
ہَوا  ہُوں میں چپکے سے آجاؤں گا
اُسے چھوکے فوراً چلاجاؤں گا
چلتا ہوں ان خطوط پہ آصف میں آج تک 
دوچار خط کیااس نے لکھے تھے مجھے کبھی 
یہ اور بات بہت خوش ہوں اس سے مل کے مگر 
بہت اداس ہوں میں اس سے گفتگو کرکے 
حیرت زدہ تھے لفظ اُجالوں کو دیکھ کر 
میری ہر ایک سوچ سے پھوٹی جو روشنی 
بعدمرنے کے میرا کیاہوگا 
رات دن بس یہ سوچتاہوں میں 
اگر چہ چاند ہے پہلومیں پھر بھی 
سمندر میں وہ زیرو بم نہیں ہے 
جلتی پہ تیل ڈالنا ہم کو نہیں پسند 
دیکھیں کہیں جو آگ بجھاتے رہیں گے ہم 
دل میں اک بار جو درآئے نہیں جاتاپھر 
عشق میں کوئی بھی مہمان کہاں ہوتاہے 
ملت کے ان امیروں سے آصف ؔنہ آس رکھ 
کھاتوں میں جن کے لاکھوں کروڑوں کابیاج ہے 
ان اشعار کے خالق کے بارے میں ڈاکٹر سردار سلیم جوائنٹ ایڈیٹر ”روشن ستارے“تلنگانہ اردو اکیڈیمی لکھتے ہیں ”تجربوں کی بھٹی میں تپ کر کندن بن جانے والے لہجوں میں ایک لہجہ، منفردلہجہ، جذبات کی گہرائی میں ڈوبا ہوا لہجہ، افکار کی بلندیوں کوچھوتا ہوالہجہ۔ یہ لہجہ ہے اقبال آصف ؔ کا، اس لہجے میں زمانے کے عروج وزوال کی ان گنت داستانوں کاکرب پوشیدہ ہے“ 
وہ آگے لکھتے ہیں ”جناب اقبال آصف ؔوحشی مضامین کو رام کرنے کاہنر خوب جانتے ہیں۔ کرخت سے کرخت بات بھی وہ بڑی ملائمت سے کہہ جاتے ہیں، مجھے معاف کیجئے! میں سمجھتاہوں یہ کام سب کے بس کانہیں ہے، سچ پوچھئے تو یہ پانی میں سانس روکنے کاعمل ہے، پاؤں میں گرداب لپیٹ کر دریاؤں کو پارکرنے کاسلیقہ بہت کم شناوروں میں ہوتاہے   ؎
میں پانیوں میں کھیلنے نکلاتھا جس گھڑی 
ہر پاؤں مو ج موج مراک بھنور میں تھا 
یہ شعر اقبال آصف ؔ کی بلند حوصلگی اور تخلیقی توانائی کا مظہر ہے۔ سمندر اورپانی ان کے خاص استعارے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید رفاعی اقبال آصف ؔ کی بابت کہتے ہیں ”آصفؔ کے پا س نئے تجربے ہیں، نئے اِشارے ہیں، گہرارچاؤ ہے۔ جذبات کی توانائی ہے اور کیفیتوں کا طویل سلسلہ ہے جو شعروں کوڈھالتااور رنگ وروپ دیتاچلاجاتاہے۔ آصف کے یہ اشعار دیکھئے جو اس کے اپنے عہد، اس کے اپنے مزاج کاآئینہ ہیں جس میں ہم آصفؔکو صاف طورپر دیکھ سکتے ہیں   ؎
اپنی پہچان اگر تم کو ہے کرنی قائم 
سب کی آواز میں آواز ملایانہ کرو
پہلے یہ دشت کاٹ تولینے دو اس کے بعد 
سوچیں گے پھر یہاں سے کدھر جانا چاہیے
جناب حامد اکمل ایک بزرگ شاعر ہیں، کرناٹک کے ادبی منظرنامہ میں ان کانام سنہرے حروفوں سے لکھاجانا چاہیے۔ جناب حامد اکمل نے اقبال آصفؔ کاتعارف کراتے ہوئے اپنے حرف ِ اخلاص کو یوں بیان کیاہے ”اقبال آصف، عادل شاہی سلطنت کے پایہ تخت بیجاپورکے نمائندہ شاعر ہیں۔ ان کااندازِ سخن پہلی نظر ہی میں ’دامن ِ دل می کشد کہ جا، ایں جانست‘ کامصرعہ گنگناتاہے۔ اقبال آصف ان معنوں میں صاحب ِ طرز شاعر ہیں کہ ان کاطرزِ سخن منفرد اور مختلف ہے۔ نئی غزل کے بے باکانہ انداز میں انکسا ر کی قلندری دکھانے والے گنے چنے شعراء میں اقبال آصف ؔ کو شامل کیاجاسکتاہے۔ ان کی غزل عصری آگہی اورکلاسیکی رچاؤ کاخوبصورت امتزاج ہے جس کی وجہ سے ان کے پاؤں ارضِ سخن پر جمے ہوئے ہیں، ان کے لہجے میں مقامیت کی خوبصورتی بھی ہے اور مسلمہ عالمی نزاکت کااحسا س بھی“  ؎
     ہواہو، تیرگی ہو یاکہ بارش
     دیاہوں، سب کی نیت جانتاہوں 
چلی ہیں بازار میں اکیلی 
یہ لڑکیاں بھی ہیں مردکتنی 
      شعر گوئی کہیں نہ تھی آصف ؔ
      اپنے ہونے کی اک نمائش تھی 
قاضی اسدثنائی کے نزدیک جناب اقبال آصف ؔنے ”اپنے وطن بیجاپورکے انجمن پری یونیورسٹی کالج میں سائنس اورریاضی کے استاذ کی حیثیت سے 23سال خدمات انجام دیں۔ 2007؁ء میں وظیفہ ء حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ اقبال آصف ؔ صاحب درحقیقت ایک صوفی منش شاعر ہیں، اپنے احساسات کو پاکیزگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ نظماناانہیں خوب آتاہے۔ اقبال آصف صاحب جتنے اچھے شاعر ہیں اتنے ہی اچھے انسان ہیں۔ خدالگتی بات یہ ہے کہ ان کاتعارف چند لفظوں میں نہیں سماسکتا، ان کی شاعری حقیقی معنوں میں ان کا مکمل تعارف نامہ ہے“ 
جہاں سے ہم نے’تعار ف‘ کی بات شروع کی تھی وہیں آکر بات ختم ہوجاتی ہے کہ اقبال آصف ؔ کو جانناہے توا ن کی شاعری کامطالعہ ضرور ی ہوجاتاہے۔ بہر حال محمد اقبال جن کاقلمی نام اقبال آصف ؔ ہے اور جو بیجاپور کے استاد شعراء میں گنے جاتے ہیں، یکم جون 1949؁ء کو جنوبی ہند کے تاریخی شہر بیجاپور میں پیدا ہوئے، اس بیجاپور میں پیداہوئے جس کی دفتری زبان کبھی دکنی ہواکرتی تھی۔ تاہم دکنی زبان کا اثر اقبال آصف ؔ صاحب کے کلام میں نہیں ملتا، اس کے لئے تلاشنا ضروری ہوجاتاہے مگر اردو کے بارے میں ان کی ایک نظم ”میری اردوزباں“ کے عنوان سے اکامہادیوی مہیلا یونیورسٹی بیجاپور کے بی اے کے نصاب میں شامل ہے، اس کاآخری بند ملاحظہ کیجئے گا   ؎
آصف ؔ خوش بیاں کو تراپاس ہے 
نازکی کا تری خوب احساس ہے 
حکم کر اک اشارے کی بس آس ہے 
تیری خدمت میں حاضر تراداس ہے 
میری اردو زباں، میری اردو زباں 
اردو زباں کے یہی داس کا یکم جون کو 77واں یوم ِ پیدائش ہے۔ موصوف کو اور اہل ِ اردو کواقبال آصف ؔ کی یوم ِ پیدائش مبارک۔ توقع ہے کہ وہ اردوزبا ن وادب کی خدمت بدستور کرتے رہیں گے۔ اور ان کے شاگردوں کوبھی اس کی توفیق نصیب ہوگی۔برائے رابطہ:  9739053881

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

*ہلکٹہ شریف میں اعراس شریف کے انتظامات کوقطعیت*-

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کے معلم جناب احسان اللہ رومی کے عمرہ سفر پر دعائیہ تقریب

دُخترِ اسدالعلماء کے عقد اور ولیمہ مسنونہ میں سینکڑوں علماء مشائخ اور ایڈیٹر اِن چیف روزنامہ منصف الحاج محمد عبدالجلیل صاحب کی شرکت