فتح کا جشن اور قانون کا امتحان: جہاں کھیل کی خوبصورتی ہلڑ بازی کی نذر ہو گئیاز:ایڈوکیٹ طاہر حُسین
فتح کا جشن اور قانون کا امتحان: جہاں کھیل کی خوبصورتی ہلڑ بازی کی نذر ہو گئی
از:ایڈوکیٹ طاہر حُسین
کھیل ہمیشہ دلوں کو جوڑنے اور مثبت جذبات کو فروغ دینے کا نام ہے۔ گزشتہ رات کرکٹ میچ میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کی شاندار کامیابی یقیناً ایک بڑا معرکہ تھی، جس پر ٹیم اور اس کے کروڑوں مداح مبارکباد کے مستحق ہیں۔ آر سی بی کے کھلاڑیوں نے جس لگن اور کھیل کا مظاہرہ کیا، اس نے سب کے دل جیت لیے۔دوسری جانب، مخالف ٹیم نے بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کی ہار پر کرکٹ کے سنجیدہ مداحوں نے ہمدردی کا اظہار کیا، کیونکہ کھیل میں ہار جیت اس کا حصہ ہے۔ ایک اچھے کھیل کا تقاضا یہی ہے کہ جیتنے والے کو داد دی جائے اور ہارنے والے کی محنت کو سراہتے ہوئے اس کا حوصلہ بڑھایا جائے۔کھیل کی اس خوبصورتی کو اس وقت گہن لگ گیا جب میچ کے فوری بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ یہاں سب سے بڑا اور اہم قانونی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان تماشائیوں اور مداحوں نے سڑکوں پر اس طرح جمع ہونے اور جشن منانے کے لیے پولیس اور مقامی انتظامیہ سے کوئی باقاعدہ پرمیشن (اجازت) لی تھی؟قانون کے مطابق کسی بھی عوامی جگہ پر بڑے اجتماع، ریلی یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے انتظامیہ کو پہلے سے مطلع کرنا اور اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے بغیر کسی قانونی اجازت کے سڑکوں کو بلاک کر دیا، جس نے انتظامیہ کے نظم و نسق پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔فتح کی خوشی منانا ہر مداح کا حق ہے، لیکن گزشتہ رات جشن کے نام پر جو کچھ ہوا، اس نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر ویلنگ، تیز رفتاری اور خطرناک کرتب دکھا کر قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ سڑک کے بیچوں بیچ گاڑیاں کھڑی کر کے رقص کرنے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام گھنٹوں مفلوج رہا، جس کے نتیجے میں مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینسز بھی پھنسی رہیں۔کئی جگہوں پر جھڑپیں بھی ہوئیں جس سے عوام میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا۔شہریوں کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات پولیس اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی تھی۔سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے رات بھر قانون شکنی کی ویڈیوز شیئر کی جاتی رہیں، جس پر شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے کو مل۔ایسے ہم حکام سے پُر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ کھیل کے تقدس کو پامال کرنے اور بغیر اجازت شہر کا امن برباد کرنے والے ان عناصر کے خلاف سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی مدد سے سخت کارروائی کی جائے۔جشن ضرور منایا جائے، لیکن اس تہذیب اور قانونی دائرے کے ساتھ کہ دوسرے شہریوں کا سکون برباد نہ ہو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اپنی ذمہ داری تندہی سے نبھائیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں