کانگریس ہائی کمان کی ریاست کرناٹک اور کلیان کرناٹک کے مسلمانوں کے ساتھ سخت ناانصافی، ہر دلعزیز وزیر رحیم خان اور ضمیراحمد خان کو کنارے لگادیاگیا محمدیوسف رحیم بیدری
کانگریس ہائی کمان کی ریاست کرناٹک اور کلیان کرناٹک کے مسلمانوں کے ساتھ سخت ناانصافی،
ہر دلعزیز وزیر رحیم خان اور ضمیراحمد خان کو کنارے لگادیاگیا
محمدیوسف رحیم بیدری
کانگریس CLPکے قائد ڈی کے شیوکمار کے حوالے سے گورنر آف کرناٹکا کو دیا گیا ایک مکتوب تیزی سے وائرل ہورہاہے جس میں ڈی کے شیوکمارکی دستخط کے ساتھ سفارش کی گئی ہے کہ درج ذیل افراد کو بحیثیت وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ اور وزیر کی حیثیت سے حلف لینے کاموقع عنایت فرمائیں۔ مکتوب کے مطابق ڈی کے شیوکمار کو وزیر اعلیٰ،ڈاکٹر جی پرمیشور کو نائب وزیر اعلیٰ نامزد کرتے ہوئے 14 رکنی کابینہ کی فہرست پیش کی گئی ہے۔اس فہرست میں کے ایچ منی اپّا، کے جے جارج، ایم بی پاٹل، رام لنگا ریڈی، ستیش جارکی ہولی، کرشنا بائرے گوڑا، پریانک کھرگے، یو ٹی قادر، ایشور کھنڈرے، یتھیندر سدرامیا، بائرتی سریش اور شرن پرکاش پاٹل کے نام شامل ہیں۔خط پر 3 جون 2026 یعنی آج چہارشنبہ کی تاریخ درج ہے اور گورنر سے مذکورہ افراد کو3/جون کی شام کی تقریب میں بحیثیت وزیر حلف دلانے کی درخواست کی گئی ہے۔ تاہم، اس دستاویز کی سرکاری سطح پر تاحال کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔مگرذرائع کاکہناہے کہ اسی فہرست کو حتمی فہرست مان لی جائے۔ مذکورہ افراد ہی وزیراعلیٰ، ڈپٹی وزیر اعلیٰ اور وزراء ہوں گے۔
ذات پات کا حساب:۔ اگر ہم اس فہرست کو حتمی مان لیتے ہیں تو اس فہرست کے مطابق وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکماروالی سرکار میں (فی الحال) تین SC(ڈاکٹر جی پرمیشور، ایچ کے منی اپا، پریانک کھرگے) تین لنگایت ایم بی پاٹل، ایشورکھنڈرے، اور شرن پرکاش پاٹل، دووکلیگا(ڈی کے شیوکمار اور کرشنا بیرے گوڈا) دوکربا (بیرتی سریش اور یتیندرسدرامیا)ایک ST(ستیش جارکی)، ایک کرسچین (کے جے جارج) ایک مسلمان (یوٹی قادر) اورایک ریڈی (رام لنگاریڈی) اس طرح 8ذاتوں کو وزرات میں جگہ ملے گی۔
کون کس کیمپ سے تعلق رکھتاہے:۔ ہر دلعزیز اور سب سے زیادہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر رہ چکے سدرامیا کیمپ سے ڈاکٹر پرمیشور، کے جے جارج، ایم بی پاٹل، ستیش جارکی ہولی، پریانک کھرگے، یتند رسدرامیا، ایشور کھنڈرے اور بائرتی سریش شامل ہیں جب کہ ڈی کے شیوکمار کیمپ سے کے ایچ منی اپا، رام لنگاریڈی، کرشنابیرے گوڈ ا، یوٹی قادرشامل ہونے کی بات بتائی جارہی ہے۔
رحیم خان وزیر بلدیہ وحج کی گھرواپسی:۔ آج چاربجے شام مذکورہ عوامی نمائندے کسی تبدیلی کے بغیر اگر حلف لیتے ہیں تو اسی کے ساتھ یہ سمجھاجائے گاکہ بیدر کے ہر دلعزیز وزیراور رکن اسمبلی جناب رحیم خان کی گھرواپسی ہوچکی ہے(کچھ دِ ن کے لئے سہی)۔یہ ٹھیک نہیں ہواکہ وزیرحج پہلی دفعہ حج کے لئے گئے تھے اور ان کی سیٹ واپس لے لی گئی۔ اسی طرح کل تک ریاست کے سب سے طاقتوروزیر اقلیتی بہبود واوقاف اوردیگر محکمہ جات جناب بی زیڈ ضمیر احمد خان کو بھی (فی الحال)کنارے لگادیاگیاہے۔ یہ خواہش بی جے پی کی تھی اور وہ خواہش پوری کردی گئی جس کیلئے ہائی کمان نہیں بلکہ ذرائع ڈی کے شیوکمار کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن ہمارا خیال ہے کہ سارے فیصلے ہائی کمان نے کئے ہیں، ڈی کے وزارت کے عہدوں کی تقسیم کے ذمہ دار نہیں ہیں۔کیوں کہ ان کے گروپ کے افراد کو خود کم وزارتیں دی گئی ہیں۔
کلیان کرناٹک کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی:۔ ایک مسلمان وزیر UTقادر کو 14وزیروں میں رکھ کر گویا مسلمانوں کو 40%میں ایک وزیر دینے کاپیغام سامنے آیاہے۔ آئندہ بھی 14وزراء کے ساتھ توسیع ہوتی ہے تو اس میں بھی ایک مسلمان وزیر پھر اس کے بعد تیسری توسیع یعنی 7وزراء کی توسیع کے ساتھ ایک آدھ مسلمان وزیر اس طرح تین مسلمانوں کو وزرات دی جائے گی۔ اور کہانی ختم کردی جائے گی۔ ریاست کے مسلمانوں نے 5وزیر مانگے تھے۔ جو نہیں دئے جائیں گے تو اس سے ریاست کے مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کاالزام کانگریس ہائی کمان (ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے اور راہل گاندھی) پر آئے گا۔ چوں کہ کلیان کرناٹک سے فی الحال کسی بھی مسلمان کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ کانگریس پولیس ایکشن سے لے کر آج تک اس علاقے کے مسلمانوں کو نظرانداز کرتی آئی ہے۔ آسام اورمغربی بنگال میں پچھلے ماہ کانگریس کو جتانے والے مسلمانوں اور کلیان کرناٹک کے مسلمانوں کے لئے واضح پیغام ہے کہ اب بھی وقت ہے کچھ کرنا ہے تو کرلیں ورنہ کانگریس ہائی کمان سدھرنے والی نہیں ہے جس میں ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے جیسی اہم شخصیت بھی شامل ہیں، جن کاتعلق بیدر(پیدائش) اور گلبرگہ(کرم بھومی) سے ہے۔
ایشور کھنڈرے کے لئے خوشی اور غم دونوں:۔ ایشور کھنڈرے بیدر کے بھالکی تعلقہ سے رکن اسمبلی ہیں اور اپنی وزرات بچانے میں پوری طرح کامیاب ہوچکے ہیں۔ ان کا ویرشیو لنگایت صدر والا کارڈ کام آچکاہے۔ تاہم وہ DCMنہیں بن سکے۔ کلیان کرناٹک کے چند مسلمان (جن میں ایک مسلم ڈاکٹر بھی شامل تھے) ایشور کو DCMوالا اقتدار دلانے کے لئے سامنے آئے تھے ان کی کوشش فی الحال کامیاب نہ ہوسکی۔ لہٰذا ایشور کھنڈرے کو ایک طرف سے خوشی ہے کہ وزارت بچ گئی۔ غم یہ ہے کہDCMکے عہدے پر ترقی نہ ہوسکی۔
مجموعی صورتحال:۔ مجموعی طورپر سیاسی صورتحال گرما گرم ہے۔ریاست کرناٹک کے مسلمانوں کانقصان صاف ہے۔ رحیم خان کیاکریں گے، ان کی آئندہ کی حکمت عملی کیاہوگی۔ اس کابیدر اور علاقہ کلیان کرناٹک کی عوام کوانتظار رہے گا۔ واضح رہے کہ پچھلی وزارت کے وقت رحیم خان کاپلڑا کہاجاتاہے کہ ایشور کھنڈرے سے بھاری رہا۔ جون 2026ء میں رحیم خان زیرو پر آچکے ہیں۔ زیروکوہیرو بنانا وقت کاکام ہے۔ یاپھر بیدر کی عوام یہ کام کرسکتی ہے۔ لیکن ایسا ہوتانظر نہیں آرہاہے۔ کیوں کہ جس طرح تاخیر سے بیدروالوں نے رحیم خان کووزیر اور DCMبنانے کامطالبہ کیااس کو بیدار رہنا نہیں بلکہ بادل نخواستہ مطالبہ کرنا کہتے ہیں۔ ایسے مطالبے عموماً کوڑے دان کی نذر ہوجاتے ہیں۔جیساکہ کیاگیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں