*فلسفۂ شہادت حضرت سیدنا امام حسینؓ قرآنِ حکیم ، احادیثِ نبویؐ اور تاریخی حوالوں کی روشنی میں*-*تحریر: اسدالعلماء محمد محسن پاشاہ قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ ، محبوب نگر-*-
*غمِ حسینؓ خدا سب کو سرفراز کرے*
*یہی وہ غم ہے جو سب غم سے بے نیاز کرے*
*فلسفۂ شہادت حضرت سیدنا امام حسینؓ قرآنِ حکیم ، احادیثِ نبویؐ اور تاریخی حوالوں کی روشنی میں*-
*تحریر: اسدالعلماء محمد محسن پاشاہ قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ ، محبوب نگر-*-
اسلام کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو محض تاریخی حادثات نہیں بلکہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لئے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں ۔ واقعۂ کربلا اور شہادتِ حضرت سیدنا امام حسینؓ ایسا ہی ایک عظیم واقعہ ہے جس نے معرکۂ حق و باطل ، صداقت و ظلم اور عدل و جبر کے درمیان واضح خطِ امتیاز قائم کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی غمِ حسینؓ مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہے اور یہ غم در حقیقت ایمان ، وفاداری ، حق گوئی اور قربانی کا اِستعارہ بن چکا ہے ۔ سیدا شباب اھل الجنۃ حضرت سیدنا امام حسینؓ مصطفیٰ نواسۂ رسولؐ ، جگر گوشۂ حضرت فاطمۃ الزہراؓ اور امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ وکرم اللہ وجہہ الکریم کے فرزندِ ارجمند ہیں ۔ آپؓ کی ولادت باسعادت 5 /شعبان المعظم سن 4 ھجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ سے بے پناہ محبت فرمائی اور متعدد احادیثِ مبارکہ میں آپؓ کے فضائل وکمالات بیان فرمائے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*"الحسن والحسین سیدا شباب اھل الجنۃ"*
یعنی ’’ امیر المؤمنین خلیفہء رسول اللہؐ حضرت سیدنا امام حسنؓ مجتبیٰ اور حضرت سیدنا امام حسینؓ مصطفیٰ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘
( جامع ترمذی شریف ) -
ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"حسینؓ منی وانا من الحسینؓ"
یعنی ’’حسین مجھ سے ہیں اور میںؐ حسینؓ سے ہوں۔‘‘
( جامع ترمذی شریف ) -
یہ حدیث مبارکہ حضرت سیدنا امام حسینؓ کے عظیم مقام و مرتبہ اور دینِ اسلام کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کو واضح کرتی ہے ۔
قرآنِ حکیم شہداء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
"وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ۚ بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ" ( سورۂ آل عمران: 169 )
ترجمہ: ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیئے جاتے ہیں۔‘‘
حضرت سیدنا امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقاء نے اسی قرآنی تعلیم کو عملی جامہ پہنایا ۔ انہوں نے ظلم و جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے جامِ شہادت نوش کرنا پسند کیا مگر حق اور صداقت کے راستے سے انحراف نہ کیا۔
کربلا کا واقعہ محض سیاسی و اقتدار کی جنگ نہیں تھا بلکہ یہ اسلامی اقدار کے تحفظ اور دینِ مصطفوی ﷺ کی بقاء کی جدو جہد تھی۔ جب یزیدی نظام اسلامی تعلیمات کے برخلاف جبر ، ظلم اور ملوکیت کو فروغ دے رہا تھا تو حضرت سیدنا امام حسینؓ نے اس کے سامنے کلمۂ حق بلند فرمایا ۔ آپؓ نے فرمایا کہ میرا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ امتِ محمدیہ ﷺ کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا ہے۔
حضرت سیدنا امام حسینؓ نے اپنے سفر کے دوران فرمایا:
"میں اپنے نانا جان خاتم النبیین شفیع المذنبین رحمۃ اللعٰلمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ نیکی کا حکم دوں اور برائی سے روکوں۔"
یہی دراصل فلسفۂ شہادتِ حضرت سیدنا امام حسینؓ ہے کہ مسلمان حق کے لئے کھڑا ہو، ظلم کے خلاف آواز بلند کرے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے ہر قربانی دینے کو ہمیشہ تیار رہے ۔
10 محرم الحرام سن 61 ہجری کو میدانِ کربلا میں حضرت سیدنا امام حسینؓ ، آپؓ کے اہلِ بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین اور جاں نثار ساتھیوں رحمہم اللہ علیہم اجمعین نے ایسی قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخِ عالم میں نہیں ملتی ۔ شدید پیاس ، بھوک اور مصائب و آلام کے باوجود ان کے قدموں میں رمق برابر لغزش نہ آئی ۔ بچوں ، جوانوں اور بزرگوں نے راہِ حق میں اپنی جانوں کا عظیم و قیمتی نذرانہ پیش کیا مگر باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا۔
کربلا ہمیں صبر ، استقامت ، ایثار ، قربانی ، شجاعت اور وفاداری کا درس عظیم دیتی ہے ۔ آج جب دنیا کفروالحاد اور مادیت ، خود غرضی ، ظلم اور ناانصافی کے مختلف بحرانوں سے دوچار ہے تو سیرتِ حضرت سیدنا امام حسینؓ انسانیت کو یہ پیغام دیتی ہے کہ حق کی خاطر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے ۔
حضرت سیدنا امام حسینؓ کی شہادت نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی۔ اگر کربلا نہ ہوتی تو شاید اسلامی تعلیمات کی اصل روح مسخ ہوجاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اسلام کو جتنی قوت حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے ملی ، اتنی ہی حفاظت حضرت سیدنا امام حسینؓ کی قربانی سے حاصل ہوئی ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض واقعاتِ کربلا سننے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں ۔ سچائی ، دیانت داری ، عدل ، انصاف ، انسان دوستی اور دینِ اسلام کی خدمت کو اپنا شِعار بنائیں ۔ یہی حضرت سیدنا امام حسینؓ سے حقیقی محبت اور ان کی قربانی کا عملی خراجِ عقیدت ہے ۔
آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے پیغامِ حق کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ عطائے رسولؐ ہندوالولی خواجہء خواجگان فخر ہندوستان حضرت سیدنا خواجہ
معین الدین حسن سجزی المعروف بہ حضور خواجہ غریب النواز چشتی رحمہ اللہ نے اشعار کے شکل میں یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ
شاہ است حسینؓ ، بادشاہ است حسینؓ ،دین است حسینؓ ، دین پناہ است حسینؓ ،
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لاالہ است حسینؓ-
حضرت امام حسینؓ بادشاہ ہیں ، بلکہ بادشاہوں کے بھی بادشاہ ہیں -حضرت سیدنا امام حسینؓ دین ہیں اور دین کے مُحافظ و نگہبان ہیں - اُنہوں نے اپنا سرمبارک تو قربان کردیا ، لیکن یزید کے ہاتھ پر بیعت نہ کی -
بے شک حضرت سیدنا امام حسینؓ ہی کلمہء توحید " لا الہ الا اللہ " کی بنیاد ہے -مذکورہ شعر سید الشہداء حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم ایثار قربانی ، حق پر استقامت اور دین اسلام کے تحفظ کے لئے دی گئی بے مثال شہادت کو خراج عقیدت کرتا ہے - شاعر بیان کرتا ہے کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی جان قربان کردی ، جس کے سبب دین اسلام کی حقانیت اور عزت محفوظ رہی - ایک اور شاعر فرماتا ہیکہ
غمِ حسینؓ خدا سب کو سرفراز کرے -
یہی وہ غم ہے جو سب غم سے بے نیاز کرے -
حضرت سیدنا امام حسینؓ کی یاد صرف اشک بہانے کا نام نہیں بلکہ ظلم کے خلاف قیام ، حق کی حمایت ، دین کی سربلندی اور انسانیت کی خدمت کا عظیم الشان ایفائے عہد ہے ۔ یہی فلسفۂ شہادتِ حضرت سیدنا امام حسینؓ ہے اور یہی پیغامِ کربلا ہے جو قیامت تک زندہ و تابندہ رہے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں