*علمِ دین اور علماءِ کرام کی عظمت: قرآن و سنت کی روشنی میں*-*علماء کی توقیر ایمان کی علامت اور ان کی اہانت امت کے لئے تباہ کن*
*علمِ دین اور علماءِ کرام کی عظمت: قرآن و سنت کی روشنی میں*-
*علماء کی توقیر ایمان کی علامت اور ان کی اہانت امت کے لئے تباہ کن*
*مضمون نگار:*
*بھارت سیوارتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی، مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ، جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء و مشائخ بورڈ، محبوب نگر*-
اسلام ایک ایسا مکمل و مضبوط ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد علم و معرفت پر قائم ہے ۔ قرآنِ حکیم کی سب سے پہلی وحی کا آغاز ہی *"اقْرَأْ"* یعنی "پڑھیئے" کے مبارک لفظ سے ہوا ، جو اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اسلام میں علم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی علم انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت ، تقویٰ اور قربِ الٰہی کی منزلوں تک پہنچاتا ہے ۔
قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
*"قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ*" ( سورۂ زمر: 9 )-
ترجمہ: "فرما دیجیئے! کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟"
اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ اہلِ علم کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقام اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اسی طرح اللہ جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے:
*"يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ*" (سورۂ مجادلہ: 11)
ترجمہ: "اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سب سے زیادہ معزز اور محترم طبقہ علماءِ حق کا ہے ، کیونکہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام کے مشن کو آگے بڑھاتے ہیں ، دین کی حفاظت کرتے ہیں اور امت کی رہنمائی و رہبری کرتے ہیں ۔
حضور نبیء اکرم ﷺ نے علماء کرام کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
*"العلماء ورثة الأنبياء"*
ترجمہ: "علماء انبیاء کے وارث ہیں۔" (سنن ابوداؤد)
یہ ایک عظیم اعزاز ہے کہ علماء کرام کو انبیائے کرام علیہم السلام کا وارث قرار دیا گیا ۔ ظاہر ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے مال و دولت نہیں بلکہ علمِ دین کی میراث چھوڑی ، جس کے امین علماءِ حق وعلماء ربانی ہیں ۔
ایک اور حدیث شریف میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
*"فضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر الكواكب"*
ترجمہ: "عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رآت کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہوتی ہے۔" ( ترمذی شریف ) -
علماءِ کرام امت کے روحانی مِعمار ، اخلاقی رہنماء اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے محافظ ہیں ۔ جب امت فکری انتشار ، اخلاقی زوال اور مذہبی بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے تو یہی علماء اسے قرآن و سنت کی طرف لوٹاتے ہیں۔
تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب بھی باطل قوتوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ، علماءِ حق نے میدان میں اتر کر دینِ اسلام کا دفاع کیا ۔ حضرت سیدنا نعمان بن ثابت امام اعظم ابو حنیفہؓ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ ، حضرت امام غزالیؒ ، حضرت امام ربانی شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ ، شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ والارضیین حقیقت آگاہ معرفت دستگاہ استاذ اولیاءاللہ و سلاطین آصفیہ حضرت علامہ الحاج حافظ امام محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ بہادر بانیء جامعہ نظامیہ رضوان اللہ علیہ اور دیگر اکابرینِ امت نے اپنی زندگیاں اسلام کی سربلندی کے لئے وقف کردیں ۔
بدقسمتی سے موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع کے ذریعے علماءِ کرام کی کردار کشی ، تمسخر اور اہانت کا سلسلہ بعض حلقوں کی جانب سے جاری ہے ۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ معاشرے میں فکری انتشار اور دینی بے راہ روی کو جنم دیتا ہے ۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
*"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ"* ( سورۂ حجرات: 11 ) -
ترجمہ: "اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔"
جب عام مسلمانوں کا مذاق اڑانا ناجائز ہے تو ان ہستیوں کی توہین کس قدر سنگین جرم ہوگی جو دین کے محافظ اور انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں ۔
علماءِ کرام کی اہانت دراصل علمِ دین کی اہانت ہے اور علمِ دین کی اہانت امت کے روحانی وجود کو کمزور کرنے کے مترادف ہے حدیث نبوی صل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم ہے کہ اِھانۃ العلم والعلماء کفر علم دین اور علماء کی توہین کرنے والا کافر ہوجاتا ہے ۔ البتہ اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی عالم سے اجتہادی یا شخصی غلطی ہو تو اس پر ادب ، حکمت اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے گفتگو کی جائے ، نہ کہ گالی ، تحقیر اور کردار کشی کا راستہ اختیار کیا جائے ۔
آج امتِ مسلمہ کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اپنے علماء ، مدارس دینیہ ، خانقاہوں اور دینی اداروں سے مضبوط تعلق قائم کرے ۔ نوجوان نسل کو چاہیئے کہ وہ سوشل میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈوں سے متاثر ہونے کے بجائے مستند راسخ العقیدہ علماء کرام سے دین سیکھے ، ان کا احترام کرے اور ان کی رہنمائی میں اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالے ۔
علماءِ حق امت کی آنکھیں ہیں ، ان کی عزت و توقیر درحقیقت دینِ اسلام کی عزت و توقیر ہے ۔ جو قوم اپنے علماء کا احترام کرتی ہے وہ علمی ، فکری اور روحانی ترقی کی راہوں پر گامزن رہتی ہے، جبکہ جو قوم اپنے علماء سے دور ہوجاتی ہے وہ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں ، انتشار اور گمراہی کا شکار ہوجاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ دین حاصل کرنے ، علماءِ حق کا ادب و احترام کرنے اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
"علماء کی عزت ، دین کی عزت ہے؛ علماء کا احترام ، ایمان کی علامت ہے ،علم دین اورعلماء کی عزت واکرام کرنے سے خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے ، ہمارے آقا خاتم النبیین شفیع المذنبین رحمۃ اللعٰلمین طہ ویسین حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہیکہ جب کبھی میرے علماء کو دیکھو تو سلام پیش کرو گویا کہ میرے علماء کو سلام کرنا مجھے سلام کرنے کے مترادف ہے اور ان سے مصافحہ کرنا مجھ سے مصافحہ کرنے اور علماء کی محفل میں بیٹھنا گویا کہ میریؐ محفل میں بیٹھنے کے مترادف ہے اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا کہ موت العالم کموت العالم عالم کی موت عالم کی موت کے مترادف ہے۔"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں