*قرآن و سنت کی روشنی میں قتل و غارت گری کی روک تھام اور مسلم نوجوانوں کی اصلاح انسانیت کا تحفظ اسلام کی بنیادی تعلیم*
*قرآن و سنت کی روشنی میں قتل و غارت گری کی روک تھام اور مسلم نوجوانوں کی اصلاح انسانیت کا تحفظ اسلام کی بنیادی تعلیم*
*مضمون نگار: اسد العلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی، مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ، جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ، محبوب نگر*-
موجودہ دور میں دنیا جس تیزی کے ساتھ تشدد ، قتل و غارت گری ، انتہاپسندی ، نفرت اور بدامنی کی طرف بڑھ رہی ہے، وہ پوری انسانیت کے لئے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل سوشل میڈیا ، گمراہ کن نظریات اور شدت پسند عناصر کے زیر اثر آکر ایسے راستوں پر چل پڑتی ہے جو نہ صرف ان کی اپنی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں امن و امان کو بھی تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں قرآن حکیم اور احادیث نبویہ صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم انسانیت کو امن ، محبت ، رواداری اور احترامِ انسانیت کا ایسا جامع پیغام دیتے ہیں جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔
اسلام نے انسانی جان کو بے حد مقدس قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا اور جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔" (سورۃ المائدہ: 32)
یہ آیت کریمہ اسلام کے اس عظیم تصور کو واضح کرتی ہے کہ ہر انسان کی جان قابل احترام ہے ، خواہ وہ کسی بھی مذہب ، قوم ، نسل یا زبان سے تعلق رکھتا ہو ۔ اسلام کسی بے گناہ انسان کے قتل کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔
حضور نبیء اکرم صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم نے انسانی جان کی حرمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"اللہ کے نزدیک دنیا کا فنا ہو جانا ایک مسلمان کے ناحق قتل سے ہلکا ہے۔" (سنن نسائی)
ایک اور حدیث شریف میں فرمایا:
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری)
درحقیقت اسلام کا پیغام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے رحمت ، امن اور خیر خواہی کا پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کو قرآن کریم نے "رحمۃ اللعالمین" قرار دیا۔
آج مسلم نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام جذباتیت ، اشتعال انگیزی اور تشدد کا مذہب نہیں بلکہ علم ، حکمت ، صبر اور اعتدال کا دین ہے۔ بعض اوقات نوجوان جذبات میں آکر سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے اشتعال انگیز مواد ، فرقہ وارانہ نفرت یا سیاسی انتہاپسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے افراد اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف ہوتے ہیں۔
اسلام نے اختلافِ رائے کو بھی شائستگی اور اخلاق کے ساتھ بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت موعظت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔" (سورۃ النحل: 125)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت ، اصلاح اور تبلیغ کا راستہ حکمت ، محبت اور خیرخواہی ہے نہ کہ جبر ، تشدد اور نفرت ۔
تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ حضور نبیء کریم صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم نے مکہء مکرمہ میں تیرہ سال تک ظلم و ستم برداشت کیا لیکن اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائی کبھی بھی نہیں کی ۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی عام معافی عطا فرمائی ۔ یہ واقعہ پوری دنیا کے لئے امن ، رواداری اور درگزر کی عظیم مثال ہے۔
مسلم نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ قرآن کریم و حدیث نبویؐ کا گہرا مطالعہ کریں ، علماء اہل سنت وجماعت کی صحبت اختیار کریں ، خانقاہوں اور دینی اداروں سے وابستہ رہیں اور معاشرے میں امن و محبت کے سفیر بنیں ۔ نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں کو تعلیم ، تحقیق ، خدمت خلق اور تعمیر وطن میں صرف کریں تو وہ امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین ، اساتذہ ، علماء کرام ، سماجی تنظیمیں اور میڈیا مل کر نوجوانوں کو تشدد اور انتہاپسندی سے دور رکھنے کے لئے عظیم الشان کردار ادا کریں ۔ انہیں بتایا جائے کہ اسلام میں کسی بے گناہ انسان کو نقصان پہنچانا ، نفرت پھیلانا اور فساد برپا کرنا سنگین جرم ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔" ( سورۃ الاعراف: 56 )
یہ مختصر حکم درحقیقت ایک مکمل ضابطۂ حیات اسلامی ہے جو انسان کو ہر قسم کے فتنہ و فساد ، دہشت گردی ، ظلم اور خونریزی سے روکتا ہے ۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اسلام کا اصل پیغام محبت ، امن بھائ چارہ ، اخوت ، رواداری اور خدمتِ انسانیت ہے ۔ جو شخص قرآن مجید و سنت نبویؐ کی حقیقی تعلیمات کو اپناتا ہے وہ کبھی بھی قتل و غارت گری ، دہشت گردی اور انتہاپسندی کا راستہ اختیار نہیں کر سکتا۔ مسلم نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کے اُسوہء حسنہ کو اپنی زندگی کا عملی نمونہ بنائیں اور دنیا میں بالخصوص حیدرآباد دکن میں امن ، محبت اور انسانیت کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ بالخصوص نوجوان نسل کو قرآن حکیم اور سنت نبویؐ کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے۔
*آمین یا مجیب السآئلین ثم آمین یا رحمت اللعٰلمین صل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم*-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں