سال قبل یکم اپریل کو اردو کوہٹاکر انگریزی دفتری زبان قرار پائی لیکن اردو کوکرناٹک کی دوسری سرکاری زبان بنایا نہیں گیا:محمدیوسف رحیم بیدری
74سال قبل یکم اپریل کو اردو کوہٹاکر انگریزی دفتری زبان قرار پائی لیکن اردو کوکرناٹک کی دوسری سرکاری زبان بنایا نہیں گیا:محمدیوسف رحیم بیدری بیدر۔ 31/مارچ (راست) تاریخ دراصل قوموں کی حیات اور ان کے عروج وزوال کامدفن ہوتی ہے۔جوقوم تاریخ کے اوراق پلٹ کر اپنے ماضی کو دیکھتی ہے، وہی قوم ایک بہتر مستقبل کی طرف گامز ن ہوتی ہے۔ یہ باتیں اس لئے کہہ جاری ہیں کیوں کہ یکم اپریل 1952ء کو بیدر اور اس سے متصل علاقے میں جس کاسیاسی مرکز اس وقت حیدرآباد تھا، کہاجاتاہے کہ اردو زبان کے بجائے انگریزی دفتری زبان قرار پائی۔ گویااردو کے ساتھ ناانصافی کی بنیاد یکم اپریل 1952ء کو رکھی گئی۔ یہ بات اُردو اور دکنی زبان کے شاعر وادیب محمدیوسف رحیم بیدری المعروف بہ میرؔبیدری نے کہی۔ انھوں نے آج ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہاہے کہ آج سے 74سال قبل یعنی پون صدی قبل اُردو کوعلاقہ حیدرآباد کرناٹک کے دفاتر سے باہر کیاگیا۔ باوجود اس کے کہ وعدہ کیاگیاتھا اور وقتاً فوقتاً انتخابات سے پہلے وعدے کئے گئے کہ اُردو کو دوسری سرکاری زبان بنایاجائے گالیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ بیدرضلع، حیدرآباد(نظام) سے لسانی ...