اشاعتیں

دسمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کویت میں معروف شاعر جناب سعید نظر کی تہنیت

تصویر
کویت میں معروف شاعر جناب سعید نظر کی تہنیت ۱۱/ نومبر کو شہر کڑپہ کے مشہور و معروف شاعر( حال مقیم کویت ) جناب سعید نظر کو آندھرا پردیش اسٹیٹ اردو اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ شاندار تقریب میں ریاست آندھراپردیش کے وزیر اعلٰی نارا چندرا بابو کے ہاتھوں ریاست کا قومی ایوارڈ " مولانا ابوالکلام آزاد " دیا گیا۔اس خوشی میں مقامی سطح پر مختلف ادبی و سیاسی تنظیموں نے جناب سعید نظر کے لیے تہنیتی تقاریب اور مشاعروں کا اہتمام کیا گیا۔جناب سعید نظر کے کویت پہنچنے پر این آر آئی تلگو دیسم پارٹی شاخ اور جنا سینا کویت شاخ کے اشتراک سے ایک اعلی شان تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ہندوستان اور کویت میں جناب سعید نظر کی ادبی ، علمی  اور سیاسی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور کویت میں مقیم معتبر شخصیات نے موصوف کی گل پوشی اور شال پوشی کی ۔ان شخصیات میں گلف کونسل تیلگو دیشم ممبر وینکٹ کوڈوری،  جناسینا کویت پریسیڈنٹ ہری رایل  ، موہن راچوری،  مشتاق خان ، محمد ارشد ، ریڈیا چودری، شامل تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلی نارا چندرا بابو نائیڈو کی اردو دوستی،  مئینارٹی منسٹر این ایم ڈی  فاروق ...

منااکھیلی بیدر ضلع کے اڑبال دیہات میں ایم ایل اے ڈاکٹر شیلیندر بیلداڑے کی صدارت میں میٹنگ

تصویر
منااکھیلی۔(عبدالقدیر لشکری) بیدر ضلع کے اڑبال دیہات میں  ایم ایل اے ڈاکٹر شیلیندر بیلداڑے کی صدارت میں ایک میٹنگ  منعقد کی گئی  جس میں اڑبال دیہات کی عوام نے شرکت کرتے ہوئے دیہات کے بنیادی مسائل پینے کے پانی، سڑکوں، بجلی، صفائی، صحت اور تعلیم سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور عوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات سنے گئے چھوٹے  مسائل موقع پر ہی حل کیے گئے اور بقیہ درخواستوں کو فوری حل کی یقین دہانی کرائی گئی انہوں نے تمام لوگوں سے دیہی ترقی میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ بیدر جنوب ایم ایل اے  نے  حلقہ کے اڑبال دیہات کو    ترقی اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے سے متعلق افسران کے ساتھ اڑبال دیہات کا دورہ کیا دیہات والوں کی موجودگی میں  میٹنگ کی اور لوگوں کے مسائل سنے اور کہا کے دیہی علاقوں میں ترقیاتی پروگراموں کو تشکیل دینا اور ان پر عمل درآمد کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کے چھوٹے مسائل کو موقع پر ہی حل کر دیا گیا ہے اور باقی درخواستوں اور شکایات کو جلد  حل کر دیا جائے گا بعد ازاں انہوں نے گاؤں کے سرکاری اسکول کا دورہ ...

دکنی ادب کی توانا آواز: دکن کی مٹی، لفظوں کی خوشبو میرؔ بیدری کا تخلیقی وقارمحمد امین نواز

تصویر
دکنی ادب کی توانا آواز: دکن کی مٹی، لفظوں کی خوشبو میرؔ بیدری کا تخلیقی وقار محمد امین نواز معروف ادیب، قادرالکلام شاعر اور کہنہ مشق صحافی محمد یوسف رحیم المعروف میرؔ بیدری عصرِ حاضر میں دکنی اردو ادب کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے اپنی خالص دکنی شاعری اور منفرد افسانچوں کے ذریعے اردو ادب میں ایک جامع، مضبوط اور جداگانہ شناخت قائم کی ہے۔ ان کی تخلیقات نہ صرف ادبی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں بلکہ عام قارئین کے دلوں میں بھی اپنی سادگی، فطری پن اور تہذیبی رنگ کے باعث خاص مقام رکھتی ہیں۔ محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری کا اصل وصف یہ ہے کہ انہوں نے دکنی زبان کو محض روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ادبی اظہار کے طور پر پیش کیا۔ ان کے افسانچے دکن کی مٹی کی خوشبو، یہاں کے لوگوں کی روزمرہ زندگی، دکھ سکھ، رسم و رواج، مزاح اور درد کو نہایت اختصار مگر گہرے تاثر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ افسانچے جیسی مختصر صنف میں بھرپور معنویت، فکری وسعت اور جذباتی تاثیر پیدا کرنا ہر قلم کار کے بس کی بات نہیں، مگر میرؔ بیدری نے اس صنف کو اپنی تخلیقی صلاحیتو...

آئین، ہند کو دکنی زبان میں جاری کرنے سے قبل کے ضروری اقدامات:میرؔبیدری

تصویر
آئین، ہند کو دکنی زبان میں جاری کرنے سے قبل کے ضروری اقدامات:میرؔبیدری  ۔31/ڈسمبر (پریس نوٹ) سال 2025؁ء ختم ہونے سے چارپانچ دن قبل اطلاع یہ آئی کہ 25/ڈسمبر کو راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں صدر جمہوریہ ہند عزت مآب دروپدی مرمو صاحبہ نے سنتھالی زبان میں آئین ِ ہند کوجاری کیا۔ صدر جمہوریہ ہند کے علاوہ سنتھالی زبان جاننے والوں بلکہ لسانیات کے ماہرین اور لسانیات حامیوں کو جس کی مبارک بادمیں دل کی گہرائیوں سے دیتاہوں۔یہ بیان آج سہ شنبہ کو اردو اور دکنی زبان کے شاعر وادیب جناب محمدیوسف رحیم بیدری المعروف بہ میرؔبیدری نے ایک پریس نوٹ کے ذریعہ جاری کیا۔میرؔبیدری نے بتایاکہ اخبارات کے مطابق   سنتھالی زبان کو 92ویں ترمیمی ایکٹ، 2003 کے ذریعے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کیا گیا تھا، ہندوستان کی قدیم زندہ زبانوں میں سے یہ ایک زبان ہے جس کو جھارکھنڈ، اڈیشہ، مغربی بنگال اور بہار میں قبائلی لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد بولتی ہے۔میری اس حوالے سے مرکزی وزیر قانون و انصاف ارجن رام میگھوال اور ان کی ٹیم سے اپیل ہے کہ دکنی زبان میں بھی آئین ہند کوجاری کیاجائے کیوں کہ یہ ا...

میرؔبیدری کادکنی شعری مجموعہ ”دکنی۔ دوم“ منظر عام پر

تصویر
میرؔبیدری کادکنی شعری مجموعہ ”دکنی۔ دوم“ منظر عام پر  بیدر۔ 29/ڈسمبر (پریس نوٹ) بیدر کی سرگرم اردو تنظیم ”یارانِ ادب بیدر“ کی ایک پریس نوٹ کے مطابق شہر بیدر کے اردو اوردکنی شاعرجناب میرؔبیدری کادوسرا دکنی شعری مجموعہ ”دکنی۔ دوم“ کے نام سے الحمد للہ، آج دوشنبہ کو منظر عام پر آچکاہے۔ میرؔبیدری کے اس شعری مجموعہ کادیباچہ ڈاکٹر منظور احمد دکنی نے لکھاہے۔ ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کے قومی صدر ڈاکٹر سلیم خان، بیلگام کے استاد شاعر ڈاکٹر سید یاسین راہی ؔ، حیدرآباد کے صوفی منش نعت گواستاد شاعر جناب ارشد شرفی، ورنگل کے سنسکرت پنڈت اور اسلامی اسکالر جناب فقیر صابر عالم ؔ اور ملک گیر سطح پر معروف بیدر کی سینئر افسانہ نویس محترمہ رُخسانہ نازنین کی تحریریں ؔؔ”دکنی۔ دوم“ میں شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ ڈاکٹر منظور احمد دکنی سے کی گئی ادبی لیکن دلچسپ مراسلت بھی کتاب کے آغاز میں شامل کی گئی ہے۔ اس سے قبل میرؔبیدری کا پہلا دکنی شعری مجموعہ ”دکنی“ کے عنوان سے منظر عام پرآکر مقبول ہوہی رہاتھاکہ اس کے چھ ماہ بعد ”دکنی۔ دوم“ بھی منظر عام پر آچکاہے۔ جس میں دکنی رباعیات، دکنی قطعات، دکنی دوہے۔ حمد، ...

عبدالعلی محی الدین قادری سے ملاقات اور تہنیت

تصویر
عبدالعلی محی الدین قادری سے ملاقات اور تہنیت  بیدر۔ 28/ڈسمبر (پریس نوٹ) ایک نوجوان شاعر جناب ملک محی الدین کا چند سال قبل اچانک انتقال ہوگیا۔یہ اردو ادب خصوصاً بیدر کے لئے ایسا سانحہ تھاکہ آج تک بھی بیدر کی اردو برادری سنبھل نہیں سکی۔ پانچ دن قبل ملک محی الدین کے اکلوتے فرزند شاہ عبدالعلی محی الدین قادری کی شادی خانہ آبادی میں شرکت نہیں ہوسکی۔آج اتوار کو ملک محی الدین مرحوم کی اہلیہ اور بچوں کی رہائش گاہ پہنچ کرشاعروادیب جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنے دوست کے فرزند نوشہ انجینئر عبدالعلی کی شالپوشی، گلپوشی کی۔انھیں مٹھائی کھلاکر اپنی تازہ ترین چار تصنیفات دی گئیں۔ نوشہ نے کچھ سال قبل لکھی گئی رپورتاژ”راوی“ بھی طلب کی جس میں ان کے والد محترم ملک محی الدین پر لکھاہوا رپورتاژ شامل ہے۔ وہ بھی فوری طورپر فراہم کیاگیا۔ یوسف رحیم بیدری نے اپنے مرحوم دوست کیلئے دعائے مغفرت کی اور عبدالعلی کی بہتر ازدواجی زندگی کے لئے دعا ؤں سے نوازا۔

چچا غالب ؔمیرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

تصویر
چچا غالب ؔ میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک  (غالب ؔکے یوم ِپیدائش 27/ڈسمبر 2025؁ء کے موقع پر)  جب کہ پیدا ہوئے چچا غالبؔ  شاعری میں جیے چچا غالب ؔ علم سے آدمی کی ہے پہچان جانے کتنا پڑھے چچا غالب ؔ سب کے دیکھو حواس پر چھائے  راج کرتے رہے چچا غالبؔ ان کے تھوڑے خطوط غائب ہیں  کس کولکھے رہے چچا غالبؔ دائرہ تنگ ہو جب اُردو کا کیا پلے او ربڑھے چچا غالب ؔ فارسی میں چلا نہ سکہ پھر  بن کے اُردو رہے چچا غالبؔ پھر بھی خواری نصیب میں پائی  لینے پنشن چلے چچا غالب وہ تو بھارت رتن کے ہیں حق دار  نام ایسا کرے چچا غالب ؔ مرنے کی آرزو رہی ان کو  کیسی خواہش کرے چچا غالب ؔ میر ؔکا کہناہے یہی لوگو ہوکے غالب رہے چچا غالب ؔ

پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد

تصویر
پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست منعقد پرنام بٹ (نمائندہ خصوصی) — پرنام بٹ اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ماہانہ مشاعرے کی پہلی نشست بروز جمعہ، 26 دسمبر 2025ء، بعد نمازِ مغرب TIET ہال، پرنام بٹ میں منعقد ہوئی۔ ادبی ذوق و شوق سے لبریز اس محفل کی صدارت عالی جناب مولانا حافظ عبدالحمید صاحب عرشی نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض مولانا شاکر احسن باقوی نے انجام دیے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر آوارم عبدالحکیم صاحب تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد شعرا نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ جامعہ دارالاسلام عمرآباد سے تشریف لانے والے طلبہ شعرا اور مقامی شعرا میں مولانا حافظ عبدالحمید عرشی، ابراہیم ابوبکر فارسی عمری، شاکر احسن باقوی، شفیق احمد شفیق اور ایک طالبِ علم شامل تھے۔ شہر وانمباڑی سے تشریف آور شعرا میں گلزار احمد کاشف، ہدایت اللہ حاضر، امتیاز احمد امتیازی، عطا الرحمن عطا، نمازی عبدالکریم عارف شامل رہے۔ اس موقع پر گلزار احمد گلزار نے  استاد شاعر کا  کلام سنا کر محفل کو مزید جِلا بخشی۔ آخر میں اب...

اصل سوالات برقرار ہیں: ڈاکٹر ماجد داغیؔ

تصویر
اصل سوالات برقرار ہیں: ڈاکٹر ماجد داغیؔ گلبرگہ۔ 26/ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) اردو شاعروادیب ڈاکٹر ماجد داغی نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہا ہے کہ ان کے اعتراضات کسی کی کردار کشی یا ذاتی عناد پر مبنی نہیں بلکہ کلیان کرناٹک ریجنل ڈویلپمنٹ بورڈ(KKRDB) کے فنڈز کے شفاف، منصفانہ اور اصولی استعمال سے متعلق ہیں۔انہوں نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ دستوری اداروں میں بھی شفافیت، غیر جانبداری اور مفادات کے ٹکراؤ جیسے اصول لاگو ہوتے ہیں اور صرف نوٹیفکیشن کو عوامی دستاویز قرار دینا ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کے مترادف نہیں۔ ڈاکٹر ماجد داغی نے واضح کیا کہ سوال اٹھانا جرم نہیں بلکہ اردو ادب، علاقائی قلمکاروں کے مساوی حقوق اور سرکاری فنڈز کے درست استعمال کے لیے ضروری ہے، اور وہ اپنے مؤقف کے حق میں ہر قانونی و اخلاقی فورم پر دلائل اور شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ دیڑھ سال سے گلبرگہ کی ادبی فضا اور خاص طورپر اردو کی فضا اردوادب کے موجودہ بڑے ستاروں کے آپسی ٹکراؤ کی وجہ سے انتہائی مسموم ہوتی جارہی ہے۔ گلبرگہ کوئی دلی اورحیدرآباد جیسا اردو کا وہ گڑھ نہیں ہے کہ اس فضا کی خ...

اردووالوں کو باخبر رکھنے کے لئے ہماری تنظیم خبروں کی زیادہ اشاعت پر زوردیتی ہے

تصویر
اردووالوں کو باخبر رکھنے کے لئے ہماری تنظیم خبروں کی زیادہ اشاعت پر زوردیتی ہے کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر کے اجلاس سے صدرمحمدیوسف رحیم بیدری اور سکریڑی محمدعمران خان کاخطاب   بیدر۔ 25/ڈسمبر (پریس نوٹ) کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر کا اجلاس جناب محمدیوسف رحیم بیدری صدر اسوسی ایشن کے مکان موقوعہ پتال نگری بید رمیں ان ہی کی زیر صدارت  منعقد ہوا۔ ایجنڈا کے مطابق پروگرام کاآغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ مولانا مفتی محمد افسرعلی نعیمی ندوی صاحب نے قرآن کی تلاوت کی۔ بعدازاں ”صحافیوں کے مسائل“ پر بات کرتے ہوئے عبدالقدیر لشکری نائب صدر اسوسی ایشن نے بتایاکہ خبروں کی اشاعت کسی وجہ سے نہیں ہوتی ہے تو لوگ اردو اخبارات کو چھوڑ کرسوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنی بات پہنچانے لگے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ صحافیوں کوناسمجھ سماج سے کچھ مسائل ہیں۔ یہ وہ سماج ہے جو ایڈیٹر کے اختیارات کو سمجھنے تیار نہیں ہے۔ لہٰذا سماج کی صحافتی تربیت بھی ضرورت ہے۔ ”خبروں کی اشاعت کیلئے متعلقہ اخبارات کارویہ“ عنوان پر شرکاء نے بات کی۔اور کئی شکایات کا انبار لگایا۔  ڈاکٹر ع...

این دھرم سنگھ کرکٹ ٹرافی بگدل ٹیم نے جیت لی

تصویر
این دھرم سنگھ کرکٹ ٹرافی بگدل ٹیم نے جیت لی بیدر۔ 24/ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) بیدر کے نہرو اسٹیڈیم میں سابق وزیر اعلیٰ این دھرم سنگھ کی یاد میں دھرم سنگھ نواں کرکٹ ٹرافی ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا۔آج بدھ(چہارشنبہ) کو ہونے والے فائنل میچ میں بگدل کرکٹ کلب ٹیم نے HKGN چٹہ کرکٹ کلب کی ٹیم کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی۔ ایچ کے جی این چٹہ کرکٹ کلب کی ٹیم رنر اپ پوزیشن سے مطمئن رہی۔ ایچ کے جی این چٹہ کرکٹ کلب کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ وقت میں تین وکٹوں کے نقصان پر 113 رنز بنائے۔10 اوورز اگلی بیٹنگ کرتے ہوئے بگدل کرکٹ کلب کی ٹیم نے مقررہ وقت میں تین وکٹوں کے نقصان پر9اوورمیں 117 رنز بنائے اورٹورنمنٹ جیت گئے۔جیتنے والی ٹیم نے  ایک لاکھ روپے نقد اورٹرافی جیت لی۔ رنر اپ ٹیم نے  50,000  روپئے نقد اور ٹرافی حاصل کی۔ سچن ڈگے کو مین آف دی سیریز اور بہترین بلے باز اور سید اظہر کو بہترین باؤلر کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں بیدر جنوب اسمبلی حلقہ کی 32 کرکٹ ٹیموں نے حصہ لیا۔ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں ٹورنامنٹ کے آرگنائزر چندر سنگھ نے فاتح اور رنر اپ ...

زکوۃ مجیب احمد مجیب

تصویر
زکوٰۃ سلیم کو یاد نہیں تھا کہ اُس نے آخری بار نیا لباس کب پہنا تھا۔ شاید اُس وقت، جب زندگی ابھی وعدے نبھانے کا حوصلہ رکھتی تھی۔ اب تو اُس کے کپڑے بھی اُسی کی طرح ہو چکے تھے— ہر جگہ سے تھکے ہوئے، ہر جگہ سے رفو شدہ۔ کرتے کی آستین سب سے پہلے کمزور ہوئی، پھر کالر، اور آخر میں سلیم کی امیدیں۔ شبنم ہر صبح کپڑے سنبھال کر اٹھاتی، غور سے دیکھتی، پھر سوئی میں دھاگا ڈال لیتی۔ وہ کپڑوں کو نہیں، قسمت کو سی رہی ہوتی تھی۔ رفو لگاتے ہوئے اُس کے ہونٹ ہلتے: “کتنی بار جوڑوں؟ کپڑا بھی تھک گیا ہے۔” یہ جملہ شکایت نہیں تھا، یہ ایک ہاری ہوئی عورت کی خاموش دعا تھی۔ سلیم سنتا ضرور تھا، مگر کہتا کچھ نہیں تھا۔ مرد کی خاموشی اکثر اُس کی بے بسی ہوتی ہے۔ گھر میں دو بچے تھے۔ بڑا بیٹا اسکول جاتے ہوئے رکتا اور آہستہ سے کہتا: “ابّا، سب کے بیگ نئے ہیں…” چھوٹا خاموش رہتا، اُسے جواب پہلے ہی معلوم ہوتا تھا۔ سلیم کی نوکری جا چکی تھی۔ سیلز ایگزیکٹو کی پہچان، فائلیں، ٹارگٹ— سب ایک دن میں ماضی ہو گئے تھے۔ مالک نے آنکھ اٹھائے بغیر کہا تھا: “اب تمہاری ضرورت نہیں رہی۔” سلیم نے سر ہلا دیا تھا، جیسے وہ اندر سے پہلے ہی بر...

پروفیسر حمیدسہروردی کے افسانے، افسانچے، اورنظموں کی مرتبہ کتاب ”پایان“محمدیوسف رحیم بیدری، بید،کرناٹک

تصویر
پروفیسر حمیدسہروردی کے افسانے، افسانچے، اورنظموں کی مرتبہ کتاب ”پایان“ محمدیوسف رحیم بیدری، بید،کرناٹک  پبلشر اور ڈسٹری بیوٹر کاغذدکن بیورو گلبرگہ کی جانب سے شائع اور تقسیم ہونے والی کتاب ”پایان“ جس کے مرتب رؤف صادق ہیں۔ جس میں پروفیسر حمیدسہروردی کی منتخب تخلیقات جمع کی گئی ہیں۔ جس کا عمدہ اور علامتی سرورق انجینئر خرم عمادسہروردی نے ترتیب دیاہے۔ سال 2025؁ء کے سرداور آخری مہینہ یعنی ڈسمبر میں شائع ہونے والی اس کتاب کے صفحات 144ہیں۔ اور قیمت 200روپئے مناسب رکھی گئی ہے۔ کتاب میں حمیدسہروردی کے 13افسانے،13افسانچے، 13نثری نظمیں،13شخصی نظمیں اور آخر میں حمیدسہروردی اور رؤف صادق کے کوائف ِ زندگی بھی شامل ہیں۔ شعری اور افسانوی ادب کا یہ مکسچر ”پایان“ کے نام سے منظر ِ عام پر لایاگیاہے۔نثری اور شعری ملغوبہ والی کتابیں آہستہ آہستہ عام ہورہی ہیں اور ایسی کتابوں کو شہرت بھی مل رہی ہے جب کہ ابھی تک کا طریقہ نثر، غیر نثر، افسانہ، اور شعر یا نقد کو علیحدہ علیحدہ شائع کرنے کاتھا لیکن AIکے دور میں ایسا ہی کچھ ہورہاہے کہ سبھی کچھ ایک ہی کتاب میں شامل کیاجارہاہے۔ پایان...

ادارہ ادب اسلامی، آمبور کے زیرِ اہتمام پروقار مشاعرے کا انعقاد

تصویر
ادارہ ادب اسلامی، آمبور کے زیرِ اہتمام پروقار مشاعرے کا انعقاد ​ آمبور (نمائندہ): مورخہ 20 دسمبر 2025ء (بروز ہفتہ)، IIC کوٹے بنگلہ، آمبور میں "ادارہ ادب اسلامی، آمبور" کے زیرِ اہتمام ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جو ادبی حلقوں میں خاص دلچسپی کا باعث بنا۔ ​تقریب کی صدارت مدرسہ دینیات ایڈیڈ گورنمنٹ اسکول آمبور کے معلم جناب وی محمد عرفان صاحب نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض جناب نمازی عبدالکریم عارف صاحب (سکریٹری ادارہ ادب اسلامی، وانمباڑی) نے بحسن و خوبی انجام دیے اور اپنی برجستہ نظامت سے محفل کو رونق بخشی۔ ​تقریب کا باوقار آغاز عزیزم سید افضل کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد طالب علم حافظ محمد ذکی نے بارگاہِ رسالتﷺ میں نعت کا نذرانہ پیش کر کے سامعین پر رقت طاری کر دی۔ ​مشاعرے میں مقامی و بیرونی شعراء کرام نے اپنے تازہ کلام سے سامعین کو مسحور کیا۔ شعراء کی فہرست درج ذیل ہے: ​جناب فضل اللہ انترجامی صاحب ​جناب شاکر احسن باقوی صاحب ​جناب گلزار احمد کاشف صاحب ​جناب انور ترپاتوری صاحب ​جناب ہدایت اللہ حاضر صاحب ​جناب کلکی عبدالغفور ساجد صاحب ​...

پوجا صرف اک خدا کی ہوتی ہے

تصویر
نظم ”پوجا صرف اک خدا کی ہوتی ہے“ (مسلمانوں کو سورج اور دریاؤں کی عباد ت کا مشورہ دینے والے  آرایس ایس سربراہ دتاتریہ ہوسابلے کی نذر) میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک  ہوسابلے جی کیسے آپ ہیں ذرا بتائیں تو نہیں یہ اچھا دیش واسیوں کوپھر ستائیں تو  گلوں کودور کرنا، شکوے بھی ہٹانا چاہیے  شدید سوچ ہوتو خود کو بھی بچانا چاہیے یہ مشورہ کہ دریا کی عبادتیں کریں یہ میم  کہ سوریہ کی پوجا میں مضائقہ کہاں مقیم  یقیں کریں کہ پوجا صرف اک خدا کی ہوتی ہے  وگرنہ ہاتھ سرپہ رکھ کے یہ عوام روتی ہے  جولائقانِ احترام ہے، ہے احترام بھی  یہ سوریہ بنایا رب نے، دے لو کوئی نام بھی  بنائی جو گئی ہے چیز اس کی پوجا کیسے اب؟ کہ پوجااور عبادتیں خدا کے واسطے ہیں سب مرا دھرم ہے اعلیٰ اس کاادنی، اس سے بچناہے  نہیں ہے بات اچھی، اس کو چھوڑ دینا اچھا ہے  صحیح پوجا تو بنانے والے کی ہوئی ہے یار زمیں کوآسماں کو جو بناتاہے، اُسی سے عار  چلو تم آؤ اک خدا کی اور، جلدی سے چلو  خدا کو مان لو اَحد ہے، شرک سے ذرابچو

سابق MLC اروندکمارارلی نے خانہ بدوشوں کے ساتھ 59/ویں سالگرہ منائی

تصویر
سابق MLC اروندکمارارلی نے خانہ بدوشوں کے ساتھ 59/ویں سالگرہ منائی  بیدر۔ 18/ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) کانگریس پارٹی کے سینئر قائد اور سابق رکن قانون سازکونسل (ایم ایل سی) جناب اروندکمارارلی نے آج جمعرات 18/ڈسمبر کو اپنی 59/ویں سالگرہ خانہ بدوش مردو خواتین اور بچوں کے ساتھ منائی۔ تفصیلات کے بموجب شہر بیدر کے مضافات میں واقع نوآباد میں قیام پذیر خانہ بدوشوں کے عارضی ٹینٹوں پر آج اروندکمارارلی پہنچے اور ہر فردکے ٹینٹ کے پاس جاکر ان میں گرم کمبل تقسیم کرتے ہوئے اپنی سالگرہ منائی۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سروجا ارلی بھی موجودتھیں۔ اس موقع پر اروندکمارارلی سابق MLCنے بتایاکہ بیدر کی سردیاں شدید ہیں۔ پوری ریاست میں ہماراضلع سب سے سرد ہے۔ ہم اپنے پختہ مکانوں میں آرام سے سردیوں کی راتیں گزار رہے ہیں جب کہ ان خانہ بدوشوں کے ہاں گرمی حاصل کرتے ہوئے خود کواور بچوں کو سردیوں سے بچانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ویسے کچھ تنظیمیں ان تک پہنچ رہی ہیں۔ میں نے بھی مناسب سمجھاکہ ان کے ٹنٹ نما جھونپڑیوں تک پہنچ کر ان کے ساتھ اپنی سالگرہ مناؤں۔ انھوں نے اپنی اہلیہ کی جانب دیکھااور کہاکہ میں اورمیر...

سینٹ پال میتھوڈسٹ سنٹرل چرچ بیدر کا فٹ پاتھ کرسمس تک آیا تیار ہوگا؟وزیر رحیم خان، چیرمین بلدیہ محمدغوث اور کونسلر جاشوافوری توجہ دیں

تصویر
سینٹ پال میتھوڈسٹ سنٹرل چرچ بیدر کا فٹ پاتھ کرسمس تک آیا تیار ہوگا؟ وزیر رحیم خان، چیرمین بلدیہ محمدغوث اور کونسلر جاشوافوری توجہ دیں  بیدر۔ 18/ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) بیدرشہر کے منگل پیٹھ میں واقع تقریبا ًسواسوسالہ تاریخ رکھنے والے سینٹ پال میتھوڈسٹ سنٹرل چرچ کے ایک جانب فٹ پاتھ کی تعمیر ہورہی ہے،لیکن کہاجارہاہے کہ وہ تعمیر اچانک روک دی گئی ہے یاکسی وجہ سے رک گئی ہے۔ ایک ایسے وقت جب کہ 25/ڈسمبر کو کرسمس ہے اور نیاسال 2026؁ء شروع ہونے والا ہے، ایک طرفہ تعمیر کئے جارہے فٹ پاتھ کی تعمیر کوروکنا کون سی دانشمندی ہے۔ عموماً تہواروں کے موقع پر ایسے کام تیزی سے انجام دئے جاتے ہیں لیکن یہاں ایسا کچھ دیکھنے کومل نہیں رہاہے۔ حیرت تو اس بات کی ہے،ریاست میں مینارٹیز کی حکومت ہے اور بیدر میں بھی مینارٹیزکانمائندہ رکن اسمبلی ہے جو اتفاقاً وزیر بھی ہے۔ تو ایسے میں جناب ِ وزیر رحیم خان صاحب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چرچ کے پاس بننے والے فٹ پاتھ کے کام کوفوری طورپر مکمل کرائیں۔ اور کام پختہ ہو۔ خستہ کام نہ ہوکہ چارپانچ مہینے میں ہی فٹ پاتھ خراب ہوکر رہ جائے۔ اور اس سے اہم بات یہ ہ...

این دھرم سنگھ کرکٹ ٹورنمنٹ کا آج سے آغاز، چندر سنگھ کریں گے افتتاح

تصویر
این دھرم سنگھ کرکٹ ٹورنمنٹ کا آج سے آغاز، چندر سنگھ کریں گے افتتاح  بیدر۔ 15/ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر این دھرم سنگھ کی یاد میں 9واں کرکٹ ٹورنامنٹ 16/ دسمبر سے شہر کے نہرو اسٹیڈیم میں منعقد کیا جا رہا ہے، بیدر جنوب اسمبلی حلقہ کے لیڈرجناب چندر سنگھ جو ٹورنامنٹ کے منتظم بھی ہیں، 16/ڈسمبر کو صبح 10 بجے این دھرم سنگھ کرکٹ ٹورنمنٹ کا افتتاح کریں گے۔اس ٹورنمنٹ کے بارے میں بتایاگیاہے کہ ٹورنامنٹ کے لیے کل 32 کرکٹ ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔16/ڈسمبر سے شروع ہونے والے اس ٹورنمنٹ کا فائنل میچ 24 دسمبر کو شہر کے نہرو اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔جناب چندر سنگھ نے بتایاکہ جیتنے والی ٹیم کو 1 لاکھ روپے ملیں گے، ساتھ میں ٹرافی دی جائے گی۔، رنر اپ ٹیم کو 50 ہزار نقد اور ٹرافی عطا کی جائے گی۔بہترین بلے باز اور بہترین باؤلر کو انعام دیا جائے گا۔ہر میچ 8 اوورز کا ہو گا جبکہ سیمی فائنل اور فائنل 10 اوورز کا ہو گا۔ معروف لیڈر چندر سنگھ نے بڑی تعداد میں کھیل شائقین سے ٹورنامنٹ میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

تعزیتی پیغام : انتقال پر ملال حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ

تصویر
تعزیتی پیغام حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر نہایت رنج و الم کا باعث ہے۔ آپ ایک صاحبِ حال بزرگ، مصلحِ امت اور باعمل داعی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اصلاحِ باطن، اتباعِ سنت اور روحانی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی خانقاہی روایت، فکری توازن اور اخلاقی اثر نے بے شمار دلوں کو راہِ حق سے جوڑے رکھا۔ ادارہ شہرِ اردو اس عظیم روحانی شخصیت کے وصال پر اہلِ خانقاہ، مریدین، عقیدت مندوں اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ یقیناً آپ کی جدائی ایک بڑا روحانی اور اخلاقی خلا ہے، مگر آپ کی تعلیمات اور اثرات ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ادارہ شہرِ اردو

میرؔبیدری کی نئی کتاب ”دکنی۔ دوم“ عنقریب منظر عام پر

تصویر
میرؔبیدری کی نئی کتاب ”دکنی۔ دوم“ عنقریب منظر عام پر  بیدر۔ 12/ڈسمبر (پریس نوٹ) یارانِ ادب بیدر کی جانب سے ایک پریس نوٹ جاری کرکے بتایاگیاہے کہ اردو اور دکنی زبان کے ممتاز شاعروادیب جناب میرؔبیدری (محمدیوسف رحیم بیدری) کادکنی زبان کاشعری مجموعہ ”دکنی دوم“ کے عنوان سے عنقریب منظر عام پر آرہاہے۔ جس کو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوز نئی دہلی نے شائع کیاہے۔ 128صفحات کی اس کتاب میں دکنی دوہے،دکنی رباعیات،دکنی قطعات،دکنی بیت، دکنی نظمیں اوردکنی غزلیں شامل ہیں۔ چنددکنی اشعار ملاحظہ کیجئے    ؎  آقا جاں کو ہنگے، وھاں کچ میں بھی جاتوں  میرؔجنت میں ہیں آقا، سب سمج رُوں  مَرے ہوؤں کے توچھوڑ قصے  کہ تیرا ہوکہ جیا ہے کیا بول  نئیں تھا شاہی مزاج مراہرگز کِتّے کی لوگاں میں بٹے واتھا روز چ دیکھ رِیں بھاناں بھاناں موں  بھایاں تو ویسے بھی نئیں آرے  بنائے گا بکرا، کسی کووہ مرغا بڑایار لیڈر ہے چھرّا پڑوسی  ویری ویری گُڈ، کرے کاماں تو ہیں میرؔ لوگ بولنگے تُمے پھر وِیر بِدری اس کتاب سے چھ ماہ قبل ”دکنی“ نام سے میرؔبیدری کی دکنی شاعری کاپہلا مجموعہ من...

مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں ایک روز تربیتی کارگاہ

تصویر
ایک روز تربیتی کارگاہ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے پروفیسر بمقام شاہین ادارہ جات ہاسپٹ پر منعقد کیا گیا تھا اساتذہ کی صلاحیت کو ابھارنے کے لیے اور کئی جماعت میں درپیش آئے والے مسائل کو کس طرح حل کرتے ہوئے تدریس کو مکمل کریں تدریس کیا ہے اور تدریس کیا نہیں ہے صرف معلومات پہنچانا تدریس نہیں ہے بچے میں موجودہ شدہ. صلاحیت کو ابھارنا تدریس کہلاتا ہے  اس پروگرام میں مقامی اردو سی ار پی ہاسپٹ جناب محترمہ خدیجہ اور خانگی مدارس کے اساتذہ شریک  ہوکر پروگرام کو تکمیل تک پہنچایا۔

بسواکلیان میں منعقدہ صوفی سنت کانفرنس

تصویر
بسواکلیان میں منعقدہ صوفی سنت کانفرنس کی عظیم الشان کامیابی پر   مشائخین، علمائے کرام، ماہرسیاسیات اور ماہرتعلیم وعوام سے جناب حیدرولی کا اظہا رتشکر بیدر۔ 9/ڈسمبر (پریس ریلیز) درگاہ شریف حیدرولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے سجادہ نشین اور بسواکلیان میں 1500سالہ عید جشن ِ میلادالنبی  ﷺ کے موقع پر منعقد ہوچکی ایک بابرکت اور عظیم الشان صوفی سنت کانفرنس کے صدرحضرت سید شاہ حیدرولی اللہ نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے صوفی سنت کانفرنس کے گرینڈ Success ہونے پراللہ تعالیٰ، آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اولیاء اللہ کی شکرگذاری کو ذہن ودل میں رکھتے ہوئے دور دور سے اس کانفرنس میں خطاب کرنے کیلئے تشریف لانے والے مختلف مذہبی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی رہنماؤں کاشکریہ اداکیاہے۔اور کہاہے کہ اس صوفی سنت کانفرنس کو پوری عقیدت کے ساتھ سننے آئے ہوئے بیدر، ہمناآباد چٹگوپہ، بھالکی، اوراد،نیلنگہ، گلبرگہ، حیدرآباد، لاتور، اودگیر کے علاوہ بسواکلیان کی مقامی عوام کاشکریہ اداکرتاہوں کہ وہ شدید سردی کے باوجود صوفی سنت کانفرنس میں شریک رہ کردنیا جہاں کو امن وشانتی کا پیغام بسواکل...

بابری مسجدکی شہادت۔ اشعار کے آئینے میںمحمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

تصویر
بابری مسجدکی شہادت۔ اشعار کے آئینے میں محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک  مسجد کی تعمیر کی فضلیت کی بابت بخاری میں حدیث ہے کہ امیرالمؤمنین سید نا عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ جب انھوں نے (منقش پتھر اور چونے سے) مسجد بنوائی تو لوگ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے۔ تب انھوں نے فرمایا کہ میں نے تو نبی  ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ”جو شخص مسجد بناے اور اس سے محض اللہ کی رضا مقصود ہوتو اللہ اس کے لیے اس جیساگھر جنت میں بنادیتاہے“ (صحیح البخاری:450) مسجد کی اہمیت سے غیرمسلم دانشور بھی واقف ہیں۔ جس طرح ہندوستان کے مسلمان مندر وں کی اہمیت سے واقف ہیں، اس کی بے حرمتی کے بارے میں سو چ نہیں سکتے، اسی طرح غیرمسلم دانشور بھی مسجد کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے خدا اور بندے کے درمیان رہنے والے ازلی تاابدی تعلق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ ایک مشکل (مکس) یعنی مخلوط معاشرے میں سبھی مذہبی معبدوں کی ضرورت انسانی ضرورت کے علاوہ انسانی حقوق کے ذیل میں سمجھی جانی چاہیے۔ اردوکی معروف شخصیت پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے ”دہلی کی جامع مسجد“ نامی کتاب لکھی تھی، جو ریختہ پر بآسانی مل جاتی ...